ali-khamna

ایران کے پر تشدد مظاہرے،لمحہ فکریہ ہے

EjazNews

ایران میں گزشتہ دنوں سے ہنگامے ہو رہے ہیں اور اخباری اطلاعات کے مطابق ان مظاہروں میں 36سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ ایران میں پیٹرول کی قیمت میں 50فیصد اضافہ کیا گیا ۔ مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے آنسو کا استعمال کیا گیا ہے جس کے نتیجے میں 36افراد ہلا ک اور درجنوں زخمی ہو گئے جس کے بعد ایران کی حکومت نے انٹرنیٹ سروسز کو محدود کر دیا۔ حالیہ احتجاجی مظاہروں کے دوران مظاہرین کی قیادت سامنے نہ آنے کا سبب سوشل میڈیا کا وسیع پیمانے پر استعمال بتایا جاتا ہے۔
جبکہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کا کہنا ہے کہ انقلاب اور ایران دشمنوں نے ہمیشہ توڑ پھوڑ کی اورسلامتی کی خلاف ورزیوں کی حمایت کی جبکہ اب بھی ایسا ہی کر رہے ہیں۔
ایسے ہی مظاہروں کا منظر ایران میں دسمبر2017ء میں بھی دیکھنے میں آیا تھا جب ایران کے 7سے زائد شہروں میں حکومت مخالف مظاہرے شروع ہوئے ۔ان مظاہروں میں ہلاکتوں کی تعداد 21سے تجاور کر گئی تھی اور احتجاج میں تشدد کا عنصر بڑھنے لگا تھا۔ ابتدا میں مظاہرین نے احتجاج کا سبب گرتا ہوا معیار زندگی اور معاشرے میں پھیلتی بد عنوانی بتایا اور بعدازاں حکومت مخالف نعرے بھی سُنائی دینے لگے۔ ابتدا میں یہ بھی واضح نہ ہو سکا کہ احتجاجی مظاہرے کس کی خواہش پر ہو رہے ہیں، کیوں کہ ان کی اپیلز سوشل میڈیا کے ذریعے کی گئی تھیں۔ پھر چند روز بعد اچانک سابق ایرانی صدر، محمد احمدی نژاد کو حراست میں لیے جانے کی خبر سامنے آئی۔ اُن پر یہ ا لزام عائد کیا گیا تھاکہ وہ حکومت پر تنقید کر کے احتجاجی مظاہروں کو ہوا دے رہے ہیں۔احتجاج کا سلسلہ ایران کے دوسرے بڑے شہر، مشہد سے شروع ہوا اور بڑھتے بڑھتے تہران کے انقلاب اسکوائر تک جا پہنچا تھا۔
اگر ہم غور کریں تو مسلم خطوں میں ہونے والے احتجاج ابتدا میں ایسے معاملات پر شروع کیے گئے جن کا تعلق عام آدمی سے ہوتا ہے لیکن رفتہ رفتہ ان احتجاجوں کو بیرونی طاقتوں سے اتنی ہوا ملی کہ آج وہ خطے آگ اور بارو د کا کھنڈر بنے ہوئے ہیں۔ جہاں پر مسلم حکمران اپنے فرائض سے بڑی حد تک غافل ہیں اور عوام غربت ، مہنگائی اور جہالت میں ڈوبے ہوئے ہیں ۔وہی پر ان لوگوں کا بھی فرض بنتا ہے جو آگاہی پھیلا سکتے ہیں پھیلا کر احتجاجوں کو ہر طرح سے پر امن رکھنے میں اپنا کردار ادا کریں۔ احتجاج کرنا عوام کا حق ہے لیکن اس احتجاج میں تشدد کا پہلو نہ ہو تو کیا ہی بہتر ین ہے۔ مغربی ممالک میں بھی احتجاج کیا جاتا ہے لیکن کہیں پر کسی قسم کا کوئی تشدد کا عنصر نہیں ہوتا۔
اس کرہ ارض میں چند ہی مسلم ممالک بچے ہیں جہاں پر عالمی طاقتوں کازور نہیں چل سکا ۔ ان ممالک کے حکمرانوں کو بھی چاہیے کہ وہ اپنے عوام کی فلاح و بہبود کیلئے کام کریں اور عوام کیلئے بھی ضروری ہے کہ وہ احتجاج کو ہر صورت پر امن رکھیں۔
ایران عالمی طاقتوں میں عرصہ دراز سے کھٹک رہا ہے۔ امریکہ ایران کو بدی کا محور کہتا ہے اور اسرائیل موقع کی تلاش میں رہتا ہے کہ ایران کو کسی طرح سے نقصان پہنچا سکے۔

یہ بھی پڑھیں:  اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے75ویں اجلاس میں ترک صدر نے کیا کہا ؟

اپنا تبصرہ بھیجیں