Pakistani montain

دنیا کی قدیم ترین زبان شنا

EjazNews

شمالی علاقہ جات پانچ اضلاع گھانچے (گنگ چھے )، سکردو، دیامر گلگت اور غذر پر مشتمل ہیں۔ گھانچے اور سکردو مل کر بلتستان کہلاتے ہیں۔ دیامر کے ضلع کا بڑا حصہ دریائے سندھ کے بائیں کنارے پر ہے جبکہ دار یل اور تانگیر دریا کے دائیں طرف ہیں۔ گلگت کا ضلع دریائے سندھ کے دائیں طرف ہے۔ ضلع چین کی سرحد خنجراب تک پھیلا ہوا ہے، اس میں ہنر ہینگر، بروشال، گوجال وغیرہ کے علاقے شامل ہیں ضلع غذر میں پنیال اشکومن اور یاسین کی وادیاں شامل ہیں۔
بلتستان (ضلع سکردو اور گھانچ) میں ماسوا پانچ سات فی صد آبادی کے باقی ساری آبادی بلتی زبان بولنے والی ہے۔ بلتستان میں شنابولنے والے یوگ روندو کے چند دیہات میں مقیم ہیں۔ دیامر کا تمام ضلع، روپال، استور وغیرہ کی وادیوں کے باشندے شازبان بولنے والے ہیں ضلع گلگت کی آبادی اور علاقہ تین حصوں میں منقسم ہے۔ گلگت کے علاقے کا بڑاحصہ شنا زبان بولنے والوں کا ہے۔ دوسراحصہ گر اور ہنزہ کا علاقہ (خنجراب تک ) ہے جو بروشسکی بولنے والوں کا ہے۔ تیسراحصہ نگر اور ہنزہ کا شمالی حصہ یعنی گوجال کا علاقہ ہے۔ اس علاقے میں واخی (گوجالی) زبان بولی جاتی ہے۔
تیسرے ضلع غذر میں دریائے غذر سے شمال کے علاقے یعنی پنیال، اشکومن، یاسین اور کوہ غذر کے علاقے میں کھووار زبان بولی جاتی ہے جبکہ دریائے غذر کے جنوبی حصے ضلع دیامر کے علاتے دار یل اور تانگیر وغیرہ میں شنازبان بولی جاتی ہے۔
ڈاکٹر شجاع ناموں نے بڑی محنت اور عرق ریزی سے شنا زبان کے علاقے کا نقشہ بنایا ہے جو انھوں نے اپنی کتاب ”گلگت اور شناز بان‘‘ کے ابتدائی صفحے پر دیا ہے۔ اس نقشے سے واضح ہوتا ہے کہ شمالی علاقہ جات کے علاوہ بھی شناز بان کا علاقہ خاصا پھیلا ہوا ہے۔
شنا زبان :
ماہرین لسانیات شنا، چترالی، کشمیری اور کوہستانی کو ایک گروہ کی زبانیں قرار دیتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق شنا آریائی زبانوں کے داردی خاندان سے تعلق رکھتی ہے۔ بعض ماہرین نے شنا کشمیری کی بیٹی قرار دیا ہے۔
جرمن ماہر لسانیات ڈاکٹر جارج بدری کے بقول شنا، تین ہزار سے پانچ ہزارقبل مسیح کی زبان ہے۔ اس زبان کا شمارکشمیری کی طرح آریائی زبانوں کے داردی خاندان میں ہوتا ہے۔
آریہ حملہ آور ایک ہزار اور دو ہزارقبل مسیح کے درمیان میں یکے بعد دیگرے ہندوستان میں وارد ہوئے ۔ ان حملہ آوروں میں شین لوگ بھی تھے جنھوں نے سندھ کے کناروں کو فتح کیا اور وہاں آباد ہو گئے ۔ شنابولی اس وقت کی سنسکرت کی ایک شکل ہے جوان پہاڑوں میں ایک ہزارقبل مسیح میں داخل ہوئی ۔ اس لیے شنا کے ابجد میں وہ تمام آواز یں شامل ہیں جو سنسکرت زبان میں موجود ہیں۔
شیرباز علی خان برچہ لکھتے ہیں: ضلع ہائے گلگت، دیامر اور غذر کے بیشتر علاقوں کی زبان شنا ہے۔ شنا ہند ایرانی سلسلہ کی پشاچہ شاخ ہے۔ اس لحاظ سے شنا کا اردو کے ساتھ . براہ راست لسانی رشتہ ہوتا ہے۔
ڈاکٹر ناموس لکھتے ہیں :
ان تمام تاریخی واقعات اور لسانی حقائق سے ہم اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ جدید پساچاز بانیں (یعنی داردخاندان کی زبانیں) اپنی ذات کے لحاظ سے نہ تو ایرانی آریائی ہیں اور نہ ہند آریائی بلکہ زبانوں کا ایک جداگانہ گروہ ہے۔ پسا چا زبانوں نے اپنی مخصوص شخصیت کو ایسے وقت میں پختہ کیا جب کہ اصل آریائی زبان سے نکل کر ہند آریائی زبانوں نے اپنا وجود قائم کرلیا تھا مگر ایرانی آریائی زبانوں نے اپنی ذات کو جداگانہ حیثیت نہیں دی تھی ۔
شنا اور دوسری زبانوں کے الفاظ:
شناورسنسکرت کے کئی الفاظ مشترک ہیں۔ اسی طرح شانے اپنے اردگرد کی زبانوں سے اثر قبول کیا ہے اور ان کے الفاظ لیے ہیں۔ شنا میں بروشسکی اور بلتی کے بھی بہت سے الفاظ موجود ہیں ۔ شنا کے علاقے کے ساتھ ہندکو زبان کا علاقہ (وادی کاغان اور وادی نیلم) ہے۔ غور سے دیکھا جائے تو بے شمار الفاظ ہند کو اور شنا میں مشترک ہیں ۔ نمونے کے طور پر چند الفاظ درج ہیں:
بی ( بیس۲۰) – جیھ (زبان)۔ سُرنائی (شہنائی)۔ دند (دانت)۔ بانگ ( اذان)۔ چہ (چائے)۔ لو(صبح)۔ پھاگ (انجیر ) – ملا۔ ہتھ (ہاتھ)
شنااور اردو کے الفاظ :
شنا کے علاقو ں میں اسلام کے آنے کے بعد سے عربی اور فارسی کے بے شمار الفاظ شامل ہوگئے ہیں اور اب اردو کے الفاظ بھی شامل ہورہے ہیں ۔ نمونے کے طور پر چند الفاظ درج ہیں:
ایک ۔ دو ۔چار۔ نجس۔ دُور۔ تیل ۔ اونٹ ۔ روزہ ۔ روزی ۔ یتیم ۔تیمم ۔ وضو۔ برابر۔ بہشت۔ جنت ۔دوزخ۔ فرشتہ۔ حور۔ قرآن ۔ قبلہ ۔ افطار۔ خدا۔ عادت ه۔ مسجد۔ ملا ۔ کالا۔ عمر۔ مستی۔ جوانی۔ غلام ۔ قدیم۔ بہت ۔ کتاب ۔ کاغذ۔ قلم ۔ کاپی۔ دوات ۔ تھال۔ پیالہ۔ کباب ۔ شراب۔ بیلچہ۔ اللہ۔ رسول ۔ زیارت ۔ کافر ۔ گلاب ۔ فجر۔ مسافر۔ نوروز – عید۔ تکبیر۔ باغ۔ سنسار۔ رباب – نگار۔ ابتدا۔ آباد۔ آبادی۔ اتفاق۔ اجازت۔ آبپاشی۔ اجازت۔ ابلاغ۔ آبدوز – آبرو ۔ بزدل۔ پالک۔ پردہ۔ بدقسمت۔ پروانہ۔ پرچون ۔ بانی ۔ باورچی ۔تبلیغ ۔ بااثر۔ تصویر۔ ٹانگہ۔ تنخواہ ۔ ٹھیک ۔ ٹھوس۔ تحقیق ۔ ٹکڑا۔ تبصرہ ۔ ٹال مٹول ۔ جعلی ۔ جزیرہ ۔ ثابت۔ ثالث ۔ جزیہ۔ چابی۔ ثبوب۔ نبوت۔ جابر۔ ثقافت۔ چوری۔ چست ۔ حافظ ۔ حال۔ چھاپ۔ حاجت مند۔ چاپلوس۔ عابد ۔ طب ۔ ظالم ۔ غافل ۔ کپاس۔ کاروبار۔ ڈاکو۔ زبان ۔ زاویہ۔ زمانہ۔ شاباش۔عوض ۔ غیبت ۔ گا ہک ۔ قدرتی۔ لا لچی۔ لعنت۔ لمبائی ۔ نقشہ۔ واحد۔ ہادی ۔ یوم قیامت۔ یوم پاکستان ۔ وظیفہ۔ وفادار۔مال۔ ماتحت کرامت ۔ گواہی وغیرہ۔
شنا کا رسم الخط :
اسلام سے قبل شنا کا رسم الخط بودھی سنسکرت تھا۔ بارھویں صدی عیسوی میں گلگت میں اسلام کا ورود ہوا تھا۔ اس کے اثرات زندگی کے ہر شعبے میں ظاہر ہونے لگے اور بودھی سنسکرت رسم الخط کی بجائے فارسی رسم الخط کا رواج ہوا۔
سید کاشف رضوی لکھتے ہیں:
’’شنا ایک قدیم ترین زبان ہے جو ہزاروں سال سے بولی جارہی ہے مگر یہ حیران کن امر ہے کہ بیسویں صدی تک شنا کا کوئی رسم الخط یاحروف تہجی نہیں تھے۔ پرانے چٹانی کتبوں، مخطوطوں اور چھال پرشنازبان کی جوتحریریں ملی ہیں وہ خروشتی یا سنسکرت رسم الخط میں لکھی گئی ہیں۔ یہ تمام تر تحریریں جو ماہرین آثار قدیمہ نے بڑی جانفشانی سے جمع کی ہیں مخطوطات گلگت کے نام سے مشہور ہیں۔ یہ دستاویزات ایک بدھ سٹوپا میں محفوظ کر دی گئی تھیں جن سے شنا کے قدیم ادب اور اسلوب تحریر پرتو روشنی پڑتی ہے تا ہم رسم الخط کا سراغ نہیں ملتا۔‘‘
شنا کی تہجی: ‘
ڈاکٹر شجاع ناموس شنا کی ابجد کی تفصیل بتاتے ہوئے عربی کی پوری ابجد (۲۹ حروف ) اورفارسی کے خاص چار حروف (پ، چ، ژ،گ) شامل کر کے ان ۳۳ حروف کے بعد ہندی کے خاص حروف کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ‘ ‘
ہندی کے خاص حروف یہ ہیں۔ٹ۔ڑ۔ ڈ۔ یائے مجہول۔
ہندی حروف یا ہائے مخلوط :
ان چار حروف کے علاوہ ہندی کی بارہ آوازیں ایسی ہیں جن میں ہائی مختفی کی آمیزش ہے ، یعنی حرف اور ہائے مختفی دو الگ الگ آوازیں نہیں ہیں بلکہ ہائے کی آواز حرف کے اندر شامل ہے۔ بولنے میں حرف اور ہائے دونوں کا آمیزہ بنا کر بولا جاتا ہے۔
بھ، پھ ،تھ ، ٹھ، جھ، چھ ،دھ، ڈھ، ڑھ، کھی، گھ
اس طرح ڈاکٹر ناموں نے اردو تہجی کے ۲۸ حروف شنا کی تہجی میں موجود بیان کیے ہیں۔ اگر چہ ان کے اس بیان کے کچھ پہلومحل نظر ہیں،
مثلاً ’’ہندی کے خاص چار حروف ‘‘اور ان میں یائے مجہول کا شامل ہونا نیز انھوں نے اپنے بیان میں ہائے مخلوط کی بارہ آواز وں کا ذکر کیا ہے لیکن بیان صرف ۱۱کی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  The Search for Mankind's Ancestors

اپنا تبصرہ بھیجیں