snow man

برفانی سپاہی

EjazNews

اسلم صاحب کے بیٹے سردیوں کی چھٹیوں میں برف باری دیکھنے کا بہت شور مچا رہے تھے آخر کار دسمبر کی چھٹیاں بچے مری میں گزارنا چاہتے تھے۔ اسلم صاحب راضی ہو گئے کہ چلتے ہیں۔ اتفاقاً ان کے وہاں پہنچتے ہی برفباری شروع ہو گئی ۔ ساری رات برف باری ہوتی رہے اور دوپہر تک یہ سلسلہ جاری رہا۔
سہ پہر کے بعد موسم صاف ہوگیا۔ فریحہ اور طارق برف پر کھیلنے کے لیے نکلے۔ زمین پر ہر جگہ برف کی موٹی تہہ جم گئی تھی اور سورج کی شعاعیں اس پر پڑ کر عجب جگمگاہٹ پیدا کر رہی تھیں۔
’’آئو برف کا آدمی بنائیں۔‘‘
فریحہ نے تجویز دی۔ ’’ابھی رات ہونے میں کافی دیر ہے ہم خاصہ بڑا آدمی بنا سکتے ہیں۔‘‘
دونوں برف کا آدمی بنانے میں مشغول ہوگئے۔ پہلے انہوں نے برف کا ایک بڑا سا گولا بنایا اور پھر اس کو برف پر ادھر سے ادھر کئی دفعہ لڑھکایا۔ لڑھکائے جانے سے اس پر مزید برف جم جم کر یہ اور بھی بڑا ہوگیا۔ جب یہ کافی بڑا ہوگیا تو دونوں بچوں نے اس کو برفانی آدمی کے جسم کے طور پر استعمال کرنے کے لیے اسے زمین پر سیدھا کھڑا کر دیا اور برف اس پر جمانے لگے۔ یہاں تک کہ وہ خاصہ بڑا نظر آنے لگا۔
وہ بچوں کے اپنے قدر کے برا بر ہوگیا۔ اس کے بعد بچوں نے اس پر برف کا ایک اور گولا سر کی جگہ جما دیا اس سے مجسمہ اور بھی لمبا ہوگیا اور حقیقتاً ایک شان دار برفانی آدمی بن گیا۔
’’ابو! ابو! آپ ہمیں اپنی ایک پرانی ٹوپی دے دیں۔ ہم اس برف کے آدمی کو پہنائیں گے۔‘‘ بچوں نے اپنے ابو سے کہا جو کھڑکی سے سر نکالے باہر جھانک رہے تھے۔
’’اوہو! کتنا عمدہ برفانی مجسمہ ہے ۔‘‘ 
ابو جان بولے’’تم میری پرانی ٹوپی لے لو میں تو اب اس کو پہنتا نہیں ہوں۔ یہ تمہارے برفانی آدمی کو مبارک ہو۔‘‘ یہ کہہ کر وہ اندر سے خود ہی اپنی پرانی ٹوپی لے آئے اور ساتھ ہی دو پرانے دستانے بھی تاکہ برفانی آدمی کے ہاتھوں کی جگہ لگا دئیے جائیں۔ اس کے بعد انہوں نے چند چھوٹے چھوٹے گول پتھر ڈھونڈ کر بچوں کو دئیے جو انہوں نے مجسمہ کے جسم پر بٹنوں کی جگہ لگا دئیے۔
’’امی! آئیے آپ بھی دیکھئے نا‘‘بچے شور مچانے لگے۔
امی بھی آگئیں۔ ان کو یہ بھی برفانی آدمی بہت ہی اچھا لگا، انہوں نے اپنا ایک پرانا گلو بند اس برفانی آدمی کے گلے میں لپیٹنے کو دے دیا۔ یہ گلو بند سرخ رنگ کا تھا۔ اب آپ خود ہی سوچ سکتے ہیں کہ یہ مجسمہ کیسا لگ رہا ہوگا۔
اس رات جب وہ سونے لگے تو انہوں نے ایک دفعہ پھر کھڑکی میں سے جھانک کر اس مجسمے کو دیکھا۔باہر ہلکی ہلکی چاندنی پھیلی ہوئی تھی۔ مجسمہ صاف نظر نہیں آرہا تھا۔
بالکل ایسے لگ رہا تھا گویا کوئی آدمی باغیچہ کے وسط میں کھڑا ہو۔
’’ارے یہ تو بالکل اصلی آدمی لگ رہا ہے‘‘۔ فریحہ نے طارق سے کہا’’فرض کرو اس میں جان پڑ جائے، کتنا مزہ آئے؟‘‘
’’برفانی آدمی کبھی زندہ تھوڑا ہی ہوتا ہے۔‘‘طارق بولا
پھر دونوں بچے اپنے بستروں میں جا دبکے اور جلدی ہی سو گئے۔
فریحہ نے خواب میں دیکھا کہ وہ ایک دعوت میں شریک ہے جس میں بے شمار برفانی مجسمے موجود ہیں۔
طارق نے خواب میں دیکھا جیسے وہ خو د ہی برفانی آدمی بن گیا ہو۔
اُدھ تم رات برفانی مجسمہ اکیلا ہی باغ کے صحن میں کھڑا رہا۔
آدمی رات کے قریب دو آدمی کوٹھی میں داخل ہوئے یہ دونوں چورتھے ۔وہ دونوں آہستہ آہستہ لان میں چل رہے تھے کہ اچانک رُک گئے۔
ایک نے سرگوشی کرتے ہوئے کہا ’’ابے بلے ! ادھر دیکھ باغ میں کوئی ہے؟‘‘
بلےنے اس طرف دیکھا۔ جس طرف اس کے ساتھی نے اشارہ کیا تھا ۔ وہاں اس کو برفانی مجسمہ نظر آیا جو بالکل چپ چاپ باغیچہ کے وسط میں کھڑا تھا وہ اس وقت ایک اصلی آدمی نظر آرہا تھا جو ان کی طرف تک رہا ہو۔ دونوں چور ٹھٹک گئے۔
بلا بولا ’’ابے جیمے ! یہ پولیس کاسپاہی تو نہیں ؟‘‘ جیما دھیرے سے بولا۔
’’ایسا ہی معلوم ہوتا ہے یہیں رک جائو۔ اس کو جانے دو پہلے۔‘‘
وہ دونوں وہیں جھاڑیوں میں دبک گئے اور بالکل چپ چاپ بیٹھے رہے۔ ان کی نظریں برابر برفانی آدمی پر جمی ہوئی تھیں مگر دل میں حیران تھے۔
’’وہ ضرور ہماری نقل و حرکت کو تاڑ رہا ہے ‘‘
بلا بولا آئو کھسک چلیں۔ اس کی نظرہم پر پڑنے سے پہلے ہی ہم یہاں سے بچ نکلیں۔‘‘
چنانچہ وہ دونوں چپکے چپکے باہر کی طرف بڑھنے لگے ۔ قسمت دیکھیے کہ عین اسی وقت سڑک پر ایک اصلی پولیس والا آگیا۔ دونوں چور اس برفانی آدمی کو دیکھنے میں اس قدر محوتھے کہ انہوں نے اصلی پولیس والے کو آتے ہوئے دیکھا اور نہ اس کی آہٹ سنی۔جب وہ کوٹھی کے پھاٹک سے نکل رہے تھے۔ عین اسی وقت سپاہی نے ان کو دیکھ لیا۔ اس نے فوراً ٹارچ کی روشنی ان کے چہروں پر ڈالی۔ و ہ فوراً ان دونو ں کو پہچان گیا۔
’’اوہو! بلا اور جیما‘‘ وہ بولا تم دونوں یہاں کیا کر رہے ہو‘‘ یہ کہتے ہوئے اس نے زور سے سیٹی بجائی جس پر سڑک کی دوسری طرف سے ایک اور پولیس والا دوڑتا ہوا آگیا۔
اندر سے ابو جان بھی نکل آئے۔ دونوں آدمیوں کو پکڑ لیا گا۔ اور تھانے چلنے کو کہا۔
’’ہم تو کچھ بھی نہیں کر رہے تھے‘‘ بلے نے ہلکاتے ہوئے کہا’’اور اندر بھی تو سپاہی ہمیں دیکھ رہا تھا۔ اس سے پوچھ لو۔ ہم تو دونوں گھر کے اندر گئے ہی نہیں اور کوئی ایسی حرکت نہیں کی جو قابل اعتراض ہو‘‘۔
پولیس والے کا ذکر کرتے ہوئے اس کا خیال آیا کہ آج رات اس سڑک پر اتنے سپاہی کیوں ہیں؟
ابو جان حیرانی سے بولے ’’کیا کہا؟ سپاہی اندر ہے ؟ کیا مطلب ہے تمہارا ؟‘‘
’’خود دیکھ لو، وہ کون ہے ‘‘ بلے نے برفانی انسان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔
دونوں پولیس والوں نے ٹارچ کی روشنی کوٹھی کے لان پر ڈالی۔ وہاں ان کو وہ برفانی آدمی کھڑا نظر آگیا جس نے ابو جان کی ٹوپی اور امی کا گلو بند پہن رکھا تھا۔
’’اُف خدایا ! یہ تو محض برف کا مجسمہ ہے ‘‘ دونوں چور بیزاری سے بولے۔ وہ سوچنے لگے ہم اس کم بخت کو سپاہی سمجھ کر اس سے ڈر گئے تھے۔
ابو جان ہنسنے لگے ۔مجسمے نے آج رات ہم لوگوں کو لٹنے سے بچا لیا۔ ‘‘
’’جی ہاں !‘‘ دونوں پولیس والوں نے مسکراتے ہوئے کہا۔
جب وہ سب چلے گئے تو ابا جان بھی سونے چلے گئے۔ صبح کو انہوں نے بچوں کو سارا واقعہ سنایا۔
آپ خود ہی سوچ سکتے ہیں کہ دونوں کو کس قدر فخر محسوس ہوا ہوگا۔ دونوں بھاگے بھاگے باہر لان میں پہنچے، باہر دھوپ نکلی ہوئی تھی،موسم خاصا گرم تھا۔ دھوپ کی تپش سے مجسمہ پگھل کر غائب ہو چکا تھا اور اب اس کی جگہ برف کا ڈھیر سا رہ گیا تھا ۔ جس پر ابو جان کی ٹوپی اور امی کا گلو بند پڑے تھے۔

یہ بھی پڑھیں:  بندر کا انتقام

(حمیرا خانم)

اپنا تبصرہ بھیجیں