imran khan-motarway

جنرل مشرف کی طرح مک مکا کرلوں، انہیں این آر او دے دوں تو کوئی افرا تفری نہیں ہوگی:وزیراعظم

EjazNews

ہزارہ موٹروے کے حویلیاں، تھاہ کوٹ سیکٹر کا افتتاح کرنے کے بعد وزیراعظم عمران خان تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا قومیں جذبہ اور جنون سے کھڑی ہوتی ہیں، جنون صلاحیت اور عقل کو شکست دیتا ہے۔ہزارہ موٹر وے سی پیک کا حصہ ہے اور ہمارا ملک جو اٹھے گا اس میں سی پیک کردار ادا کرے گا، سی پیک سے ہماری خامیاں جیسے زرعی پیداوار جو ہماری دنیا میں سب سے کم ہے، ہم چین سے ٹیکنالوجی سیکھ کر اپنی پیداوار دگنی کریں گے اور خوشحالی آجائے گی۔ آج سی پیک کے ذریعے ہمارے نوجوانوں کو ہنرمند بنایا جارہا ہے، ہماری بہت بڑی آبادی نوجوانوں کی ہے اور ان کو ہنر ملے گا تو یہ ہی ہماری قوت بنیں گے۔ہاؤسنگ اسکیم سے نوجوانوں کو روزگار ملے گا۔
وزیراعظم کا کہنا تھا اللہ نے پاکستان کو بہت سی نعمتوں سے نوازا ہے، ہم نے صرف اس کے انتظامات ٹھیک کرنے ہیں، ہم نے موٹروے بنانے ہیں مگر پیسہ عوام پر لگانا ہے، صحت اور تعلیم کے مسائل حل کرنے ہیں۔تحریک انصاف جب حکومت میں آئی تو پہلا سال ہمارے لیے بہت مشکل تھا کیونکہ ہمارے پاس پیسے نہیں تھے۔
مولانا فضل الرحمن کے آزادی مارچ کا ذکر کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا پچھلے دنوں کنٹینر پر جو سرکس ہوئی، بتانا چاہوں گا کہ پاکستان میں اگر کوئی بھی دھرنے کا ماہر ہے تو وہ میں ہوں، میں نے کہا تھا کہ اگر ایک مہینہ یہ کنٹینر پر گزار دیں تو میں مان جاؤں گا، میں نے 126 دن کنٹینر پر گزارے ہیں، میں جانتا ہوں کہ کنٹینر اور دھرنا کیا ہوتا ہے۔دھرنے کے نام پر مدرسے کے بچوں کو لایا گیا، ہماری حکومت پہلی حکومت ہے جس نے مدرسوں کے بچوں کی ذمہ داری لی، دھرنے کے شرکا سے جاکر پوچھا جائے تو انہیں معلوم بھی نہیں ہوگا کہ ان کا دھرنے میں آنے کا مقصد کیا ہے۔ سب سے مشکل گھڑی میرے لیے اس وقت تھی کہ جب بارش میں مدرسے کے بچے باہر بیٹھے تھے اورمولانا فضل الرحمٰن گرم کمرے میں گھر بیٹھے تھے۔دین کو پیسہ بنانے کے لیے فروخت کرنا، بچوں سے جھوٹ بول کر سڑکوں پر لانا، اس سے بڑا گناہ کیا ہوسکتا ہے، ایک آدمی جو ڈیزل کے نام پر بکنے والا ہے، کشمیر کمیٹی کی چیئرمین شپ پر بکنے والے ہے، نے اسلام کا نام استعمال کیا اور اس نے بچوں کو گمراہ کیا۔ مولانا فضل الرحمٰن کی آخرت کی فکر ہے دعا کرتا ہوں اللہ اسے وہ سزا نہ دے جو اس کو ملنی ہے۔
انہوں نے کہا کہ کنٹینر پر نیلسن منڈیلا بننے والا شہباز شریف اور آئن اسٹائن کی روح کو تڑپانے والے بلاول زرداری بھی موجود تھے۔ بلاول زرداری نے جو تھیوری دی اس پر آئن اسٹائن کی روح بھی تڑپ رہی ہے کہ جب بارش ہوتی ہے تو پانی آتا ہے اور زیادہ بارش ہوتی ہے تو زیادہ پانی آتا ہے۔بلاول زرداری خود کو لبرل کہتا ہے مگر وہ لبرلی کرپٹ ہے۔کنٹینر پر دیگر افراد میں بے روزگار سیاست دان بھی تھے، جنہیں ڈر ہے کہ وہ پکڑے جائیں گے وہ کنٹینر پر موجود تھے۔کنٹینر پر کیے گئے سارے ڈرامے کی ایک ہی کوشش تھی کہ دباؤ ڈالا جائے تاکہ کرپشن کیسز سے پیچھے ہٹ جائیں، یہ بلیک میل کرنے آئے تھے۔
ان کا کہنا تھا کہ میں نے اقتدار میں آنے کے بعد پہلے دن ہی کہہ دیا تھا کہ یہ سارے اکٹھے ہوجائیں گے کیونکہ ان کا مفاد ایک ہے۔مسلم لیگ (ن) جہادی بھی بن جائیں گے لبرل بھی بن جائیں گے جہاں ان کا پیسہ بچ جائے یہ اس طرح خود کو تبدیل کرلیتے ہیں۔
وزیراعظم نے کہا دھرنے والے جب مذاکرات کرنے آئے تو کہا کہ کسی کو بھی تحریک انصاف سے وزیر اعظم بنادیں سوائے عمران خان کے، وہ اس لیے کیونکہ عمران خان کی کوئی قیمت نہیں۔میں ان کی بلیک میل میں آکر اگر اداروں کو پیچھے ہٹنے کاکہہ دوں تو میں اپنی قوم سے غداری کروں گا۔
ان کا کہنا تھا کہ میں جنرل مشرف کی طرح مک مکا کرلوں، انہیں این آر او دے دوں تو سب آرام سے بیٹھ جائیں گے اور ملک میں کوئی افرا تفری نہیں ہوگی مگر مجھے خوف خدا ہے، مجھے اپنی آخرت کی فکر ہے میں ان کی طرح نہیں، این آر او کا مطلب ان کے کرپشن کیسز کو معاف کردیے جائیں۔
انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی نے گزشتہ 10 سالوں میں پاکستان کا قرضہ 4 گنا بڑھایا ہے، مہنگائی کی وجہ سے قوم پر مشکل وقت گزر رہا ہے، اور یہ مشکل وقت ان ہی کی وجہ سے ہے۔
وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ میں سب کو پیغام دینا چاہتا ہوں کہ مجھے مقابلہ کرنے کی بہترین تربیت ہے اور اس سے قبل بھی مقابلہ کرکے میدانوں میں پاکستان کو اوپر لے کر جاچکا ہوں، مجھے ہارنا بھی آتا ہے جیتنا بھی آتا ہے، مجھے پارٹی وراثت میں نہیں ملی اور نہ ہی جنرل جیلانی کے گھر کا سریا لگاتے لگاتے کوئی وزارت حاصل کی تھی، 22 سال کی جدو جہد کی ہے تب جاکر اس مقام پر پہنچا ہوں۔جو مرضی کرنا ہے کرلو، سب اکٹھے ہوجاؤ، میرا وعدہ کہ ایک شخص کو بھی نہیں چھوڑوں گا جس نے اس ملک کا پیسہ چوری کیا ہے۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ لوگ جیل جاتے ہی بیمار ہو جاتے ہیں لیکن کابینہ میں زیادہ تر لوگوں نے کہا کہ نواز شریف کو نہ جانے دوں پر مجھے رحم آگیا اور کابینہ کو کہا کہ ان کو تکلیف ہے جانے دو تاہم ہم نے صرف 7 ارب روپے کی گارنٹی مانگی تھی اور کہا تھا کہ کاغذ کے ٹکڑے پر دستخط کردو مگر شہباز شریف نے ڈرامے شروع کردئیے۔ شریف خاندان کے پاس جتنا پیسہ ہے یہ 7 ارب روپے کی ٹپ دے سکتے ہیں مگر شہباز شریف نے کہا کہ میں گارنٹی دوں گا، جن کا خود کا بیٹا، داماد بھاگا ہوا ہو وہ کیا گارنٹی دیں گے۔ نواز شریف کے دونوں بیٹے پہلے ہی بھاگے ہوئے ہیں ان کی کون گارنٹی دے گا۔ عدالت کا فیصلہ قبول کرتے ہیں، شہباز شریف جو ڈرامے کررہے ہیں قوم سب سمجھ چکی ہے، کہتے ہیں نواز شریف کو کچھ ہوا تو عمران خان ذمہ دار ہوگا، 800 سے زائد قیدی جیلوں میں گزشتہ 10 سالوں میں مرچکے ہیں ان کا کون ذمہ دار ہے۔ میرا ایمان ہے کہ پاکستان ایک عظیم قوم بنے گی اور وہ اس وقت بنے گی جب یہ مدینہ کی ریاست کے اصولوں پر کھڑا ہوگی، مدینہ کی ریاست کی بنیاد انصاف اور انسانیت پر رکھی گئی تھی، جو ریاست اپنے کمزور، غریب، بیواؤں، یتیموں پر رحم کرتی ہے وہ کامیاب ہوتی ہے۔
وزیراعظم نے کہا انصاف لوگوں کو آزاد کردیتا ہے، چیف جسٹس صاحبان کی بہت عزت کرتا ہوں، ان سے کہنا چاہتا ہوں کہ اس نظرئیے کو تبدیل کریں، ہمارا قانون ایسا ہو کہ کمزور سے کمزور آدمی بھی جب طاقتور کے آگے کھڑا ہو تو اسے اعتماد ہو کہ اسے انصاف ملے گا۔ان کا کہنا تھا کہ عدلیہ سے گزارش ہے کہ عوام کا بھروسہ بحال کریں کہ یہاں سب کے لیے ایک قانون ہے۔حکومت سے جو بھی معاونت درکار ہو گی مہیا کریں گے۔
وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ حضرت علی کا قول ہے کہ کفر کا نظام چل جائے گا مگر نا انصافی کا نہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  وزیراعظم کے معاون خصوصی : کس کے پاس کتنی دولت اور کس ملک کی شہریت ہے؟

اپنا تبصرہ بھیجیں