Fish fry

مچھلی کولیسٹرول کم کرتی ہے،لیکن ہر مچھلی نہیں

EjazNews

ممکن ہے آپ بھی اس حقیقت سے آگاہ ہوں کہ اسکیمو لوگوں میں دل کی بیماری بہت کم ہوتی ہے۔ یہ اس لیے نہیں کہ اسکیمو کسی طرح کی چکنائی میں استعمال کرتے۔ وہ یقینا چکنائی استعمال کرتے ہیں بلکہ کچا گوشت بہت زیادہ کھاتے ہیں لیکن وہ مچھلی بھی بہت زیادہ کھاتے ہیں جس میں سیل اور وہیل شامل ہیں۔
تحقیقی کام نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ مچھلی اور مچھلی کے تیل کا خاطر خواہ استعمال ہارٹ اٹیک کے امکانات کو کم کر دیتا ہے اور بالخصوص ان لوگوں میں موت کی شرح کم ہو جاتی ہے جنہیں ہارٹ اٹیک ہو چکا ہوتا ہے۔ اس ضمن میں کچھ دلچسپ نتائج امریکن جرنل آف کارڈیالوجی (نومبر 1990)میں شائع ہوئے ہیں۔ ہارورڈ میڈیکل سکول کے ڈاکٹرائیں اور ان کے ساتھیوں نے کچھ مریضوں کو غذا کے ساتھ اضافی طور پر مچھلی کا تیل چند روز تک دیا۔ ان کے بلڈ ٹیسٹ میں رکھنے میں آیا کہ ان کے LDL اور ٹرائی گلیسرائیڈز (دونوں قسم کے کولیسٹرول ضرر رساں ہوتے ہیں) کی مقدار میں نمایاں کمی آچکی ہے۔ اسی طرح کینیڈا کی لاول یونیورسٹی کے ڈاکٹر فرانکوس میسر نے 107 مریضوں پر مچھلی کے گوشت کے تجربے سے ثابت کیا کہ مچھلی کھانے سے دل کی شریانوں کے تنگ ہونے کا عمل رک جاتا ہے۔ جن افراد کی بیلون انجیو پلاسٹی ہو چکی تھی ان میں دوبارہ شریانوں کی رکاوٹ پیدا ہونے کا عمل رونما نہ ہوا۔
برٹش میڈیکل میگزین لینسٹ میں 2 ہزار ایسے مریضوں کے کوائف شائع کیے گئے جن کو پہلے سے ہارٹ اٹیک ہو چکا تھا۔ ان میں سے آدھے مریضوں کو مشورہ دیا گیا کہ وہ ہفتے میں کم از کم دو بار مچھلی کھائیں۔ اگلے دو برسوں میں سامنے آنے والے نتائج حیران کن تھے۔ جو مریض مچھلی کھاتے رہے تھے ان میں سے بہت کم مریض ہارٹ اٹیک سے مرے جبکہ مچھلی نہ کھانے والے مریضوں میں ہارٹ اٹیک سے مرنے والوں کی شرح اموات بہت زیادہ تھی۔
کچھ اور تحقیقی کام بھی میں نتائج لائے۔ واشنگٹن میں منعقدہ سیکنڈ انٹر نیشنل کانفرنس آن پریوینو کارڈیالوجی (1989) میں ڈاکٹر تھرسے ڈولیک نے 37 سے 57 سال کی عمر کے 6 ہزار مردوں کے نتائج پیش کیے۔ ان میں سے جو افراد زیادہ مقدار میں مچھلی کھاتے رہے تھے ان میں دل کی بیماری سے مرنے والوں کی تعداد بہت کم تھی۔ایک اور تحقیقی کام میں ہالینڈ میں درمیانی عمر کے 852 افراد کو 20 سال تک زیر مطالعہ رکھا گیا۔ جو افراد مچھلی کھانے کے عادی نہیں تھے ان میں دل کی بیماری سے مرنے والوں کی تعداد مچھلی کھانے والے لوگوں کے مقابلے میں دو گنا زیادہ تھی۔ مچھلی کھانے والے ہفتے میں کم از کم 2 بار یہ غذا لیتے رہے تھے۔
مچھلی کا تیل مچھلی کی چربیلی بافتوں یا مخصوص اعضا مثلا جگر سے حاصل کیا جاتا ہے۔ یہ چکنائی دیگر حیوانی چکنائیوں سے مختلف ہوتی ہے ،اگر چہ مچھلی کے تیل میں متعدد قسموں کے فیٹی ایسڈز (چربیلے تیزاب) پائے جاتے ہیں لیکن ان سے دو ایسڈز ایسے ہیں جو کولیسٹرول کم کرنے میں زیادہ مددگار ہوتے ہیں۔
ہرقسم کی مچھلی یا مچھلی کا تیل کولیسٹرول کم کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔ لیکن سالمن مچھلی میں یہ خوبی بدرجہ اتم پائی جاتی ہے۔ کاڈلیور آئل میں کولیسٹرول کم کرنے کی صلاحیت بہت معمولی ہوتی ہے۔ صرف ان مچھلیوں میں یہ خوبی پائی جاتی ہے جو عام طور پر گہرے ٹھنڈے سمندروں میں رہتی ہیں۔ اومیگا۔ 3 چکنائیاں رکھنے والی مچھلیاں انسانی دل کو صحت مند رکھنے کے لیے بہترین غذائی ذریعہ ہیں۔
مچھلی کھانے یا مچھلی کا تیل استعمال کرنے کا ایک فائدہ تو یہ ہے کہ کولیسٹرول کی سطح بہت کم ہو جاتی ہے۔ دوسرا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ خون میں لوتھڑے بنانے کا میکنزم تبدیل ہو جانے سے ہارٹ اٹیک کا خطرہ بھی بہت کم ہو جاتا ہے۔ صحت مند افراد اور دل کے مریضوں پر کیے گئے تجربات سے انگلستان اور سویڈن میں ماہرین نے تفریق کی ہے کہ مچھلی یا مچھلی کا تیل استعمال کرنا خون میں لوتھڑے بننے کا عمل محدود کر دیتا ہے۔ خون میں بننے والے لوتھڑے دل کی تنگ شریانوں میں ایک کر دل کے دورے (ہارٹ اٹیک) کا سبب بنتے ہیں۔ خون میں لوتھڑے بننے کا عمل اس وقت شروع ہوتا ہے جب اومیگا۔ 3 چکنائیوں کے کیمیائی کردار میں تبدیلی آتی ہے اور وہ خون کے خلیوں کو لوتھڑوں میں تبدیل کرنا شروع کردی ہے۔
امریکہ کے ڈاکٹر فور ڈون مارگولین اور ان کے ساتھیوں نے اس چکنائی کا دل کی شریانوں پر ایک اور مفید اثر یہ دیکھا کہ مچھلی کے تیل کے استعمال سے بلڈ پریشر میں کمی آجاتی ہے اور دل کی شریانوں کا بوجھ کم ہو جاتا ہے۔ ماہرین نے ہائی بلڈ پریشر کے 46 مریضوں کا 4 ماہ تک جائزہ لیا اور دیکھا کہ انہیں مچھلی کا تیل اضافی غذا کے طور پر دینے کے نتیجہ میں ان کا ہائی بلڈ پریشر (SYSTOLIC) 5ایم ایم او اور میں بلڈ پریشر (DIASTOLIC) 5 ایم ایم تک کم ہو گیا۔
مچھلی یا مچھلی کے تیل کا زیادہ استعمال دل کی بیماری کے امکانات کم کر سکتا ہے لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ مچھلی منتخب کی جائے جس میں اومیگا۔ 3 چکنائی خوب پائی جاتی ہے۔ ایک ہفتے میں دو یا تین بار مچھلی کھانا یقینی طور پر دل کے مرض کا خطرہ کم کرنے میں مدد دیتا ہے۔ اگر آپ گوشت خور نہیں تو اس کا بہترین حل یہ ہے کہ مچھلی کے تیل کے کیوں استعمال کیا کریں۔ اگرچہ یہ گیپسول واقعتا مچھلی کھانے کے پورے فوائد تو نہیں دے سکتے لیکن بالکل مچھلی نہ کھانے سے بہرطور یہ عمل بہتر اور سودمند ہے۔ امریکہ میں فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن نے تو عوام کو یہی مشورہ دیا ہے کہ مچھلی کے تیل کے کیپسول کھانے کی بجائے زیادہ سے زیادہ مچھلی کھائی جائے۔ فرمنکم بہارٹ سٹڈی کے بانی ڈاکٹرولیم بی کینل بھی اس بات پر اصرار کرتے ہیں کہ مچھلی کا تیل استعمال کرنے کی بجائے پوری مچھلی کھایا کریں کیونکہ یہ آپ کو ایک وقت کا کھانا بھی مہیا کر دیتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  مچھلی سردیوں میں کھانی کتنی مفید ہے
کیٹاگری میں : صحت

اپنا تبصرہ بھیجیں