hazrat jawaria

حضرت جویریہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا ذکر خیر

EjazNews

حضرت جویریہ رضی اللہ عنہا حارث بن ضرار کی بیٹی تھیں جو قبیلہ بنی مصطلق کا سردارتھا۔ مسافع بن صفوان سے شادی ہوئی تھی جو غزوئہ مریسیع میں قتل ہوا تھا۔ اس لڑائی میں کثرت سے لونڈی غلام مسلمانوں کے ہاتھ آئے۔ ان ہی لونڈیوں میں حضرت جویریہؓ بھی تھیں۔ جب مال غنیمت کی تقسیم ہوئی تو وہ ثابت بن قیس بن شماس انصاری کے حصے میں آئیں۔ اسلام میں یہ حکم ہے کہ اگر آقا راضی ہو تو لونڈی غلام کچھ رقم دے کر آزاد ہو سکتی ہیں۔ اس طریقہ کو اصطلاح شریعت میں ”کتابت“ کہتے ہیں۔ اسی اصول کے موافق حضرت جویریہ رضی اللہ عنہا مکاتبہ بن گئیں۔ ان کو شرط کے موافق نو اوقیہ سونا ادا کرنا تھا لیکن رقم ان کی استطاعت سے زیادہ تھی۔ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور کہا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم میں مسلمان کلمہ گو عورت ہوں اور میرا نام جویریہ ہے۔ حارث کی بیٹی ہوں جو اپنی قوم کا سردار ہے۔ مجھ پر جو مصیبتیں آئی ہیںوہ آپ سے مخفی نہیں ہیں۔ میں ثابت بن قیس کے حصے میں آئی اور نواوقیہ سونے پرا ن سے عہد کتابت کیا۔ یہ رقم میرے امکان میں نہ تھی لیکن میں نے اللہ کے بھروسے پر اسے منظور کرلیا اور اب آپ سے اس کاسوال کرنے کے لیے آئی ہوں آپ نے فرمایا تو کیا تم کو اس سے بہتر چیز کی خواہش نہیں۔ انہوں نے کہا وہ کیا چیز ہے آپ نے فرمایا میں یہ رقم ادا کر دیتا ہوں اور تم سے نکاح کر لیتا ہوں۔ وہ راضی ہوگئیں آ پ نے ثابت بن قیس کو بلایا وہ بھی راضی ہو گئے۔
آپ نے رقم ادا کردی اور ا ن کوآزاد کر کے نکاح کر لیا۔ یہ چرچہ پھیلا لوگوں نے قبیلہ بنی مصطلق کے تمام لونڈی غلاموں کوا س بنا پرآزاد کر دیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں سے رشتہ مصاہرت قائم کرلیا۔ آزاد شدہ غلاموں کی تعداد ایک روایت میں سات سو بتلائی گئی ہے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ جویریہ ؓ کی برکت سے سینکڑوں گھرانے آزاد کرادئیے گئے۔ بعض روایتوں میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود ان سے یہ خواہش ظاہر کی تھی اور اپنے تمام قیدیوں کو ان پر ہبہ کر دیا تھا۔ حضرت جویریہ رضی اللہ عنہا 50ہجری میں وفات پائی اور جنت البقیع میں دفن ہوئیں۔ اس وقت ان کا سن ساٹھ برس کاتھا۔

یہ بھی پڑھیں:  بنی اسرائیل کے مولوی صاحب کو سمجھانیوالی عورت کا ذکر خیر

اپنا تبصرہ بھیجیں