man working in sitting

صحت کیلئے مسلسل بیٹھے رہنے کے نقصانات

EjazNews

دنیا بھر میںانسانی کاموں کی نوعیت بدل چکی ہے۔ ایک وقت تھا جب کھیتی باڑی انسانی فریضہ ہوا کرتا تھا اور بہت زیادہ لوگوں کے روزگار کا ذریعہ زمین سے چیزیں اگانا تھا۔ جس میں پھل ، سبزیاں ، اناج وغیرہ شامل ہیں۔ لیکن زمانے کی رفتار بدلی اور بدلتے بدلتے ڈیجیٹل دنیا میں آگئی ، نہ جانے اس سے آگے یہ رفتار کہاں جاتی ہے۔یہ ڈیجیٹل دنیا کے جہاں بہت سے فوائد ہیں وہی پر کچھ اس کے نقصانات بھی ہیں۔ جن میں سب سے اہم آپ کی صحت ہے۔ ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے بڑھتے استعمال نےلوگوں کے بیٹھنے کے دورانیے میں اضافہ کردیا ہے۔ انسان اس بات کا اندازہ ہی نہیں کرپاتا کہ وہ دن بھر میں کتنی دیر تک بیٹھا رہتا ہے۔
جسمانی سرگرمیوں کی کمی جہاں انسان کے متحرک رہنے پر اثر انداز ہوتی ہے، وہیںاس کی صحت پر بھی۔ تاہم بیٹھ کر وقت گزارنے کا نقصان صرف جسمانی سرگرمیوں کی کمی کی صورت ہی نہیں نکلتا بلکہ صحت کے مختلف مسائل کا سبب بھی بنتا ہے۔
اس لیے اگر آپ ایسی ملازمت کررہے ہیں جس میں زیادہ وقت بیٹھ کر گزرتا ہے، تو آپ کیلئے ضروری ہے کہ ہر آدھے گھنٹے بعد اٹھ کر چند قدم پیدل چلیں چلیں۔ اگر یہ نہیں کر سکتے تو کم از کم یہ ضرور کریں کہ اپنی سیٹ پر بیٹھے بیٹھے اپنے پائوں اور جسم کو حرکت دیں۔ آپ کی یہ سرگرمی دل کی صحت کو بہتر بنانے کے ساتھ دیگر خطرات بھی کم کرے گی۔
سائنسدانوں نے ایک تحقیق کی جس میں انہوں نے دو گروپس تشکیل دئیے۔ ایک وہ گروپ تھا جو ڈرائیوروں پر مشتمل تھا (جو سارا وقت بیٹھ کر گزارتے ہیں) جبکہ دوسرے ان کے مدت گار کنڈیکٹرز اورسکیورٹی گارڈز کے گروپ پر سروے کیے گئے۔ اور آپ حیران رہ جائیں گہ کہ جو افراد دن کا زائد وقت بیٹھ کر گزارتے ہیں، ان میںکنڈیکٹر اور سکیورٹی گارڈ کی نسبت دل کے امراض کی شرح زیادہ پائی جاتی ہے۔محققین کا کہنا ہے کہ بیٹھ کر وقت گزارنا بے چینی اور چربی کو ہضم کرنے کے عمل پر مضر اثرات مرتب کرتا ہے، جس سے امراض قلب کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
یہ بات بھی قابل غور ہے کہ اکثر لوگوں کے کرسی پر بیٹھنے کے انداز بڑے عجیب و غریب ہوتے ہیں ۔ بیٹھنے کا انداز آپ کے مسلز، گردن اور ریڑھ کی ہڈی پر دباؤ کا سبب بنتا ہے، جو آپ کی صحت کیلئے بے حد خطرناک ہے ۔کام کے لیے ایسی کرسی کا انتخاب کریں، جس کی اونچائی اور ساخت آپ کے لیے زیادہ سے زیادہ آرام دہ ہو۔ تاہم اس کے باوجود بھی چلنے پھرنے اور جسم کو حرکت دینے کا خاص خیال رکھیں۔ برٹش جرنل آف سپورٹس میڈیسن میں شائع تحقیق کے محققین نے مشورہ دیا ہے کہ دن بھر میں کم از کم2گھنٹے کھڑے ہو کر گزارنا کمر درد کی تکلیف سے بچاسکتا ہے۔
دن کا بیشتر حصہ بیٹھ کر گزارنے والوں کی خوراک بھی آسانی سے ہضم نہیں ہوتی ۔اور اس کے نتیجے میں کیلوریز کی کم تعداد زائل ہوتی ہے جس کے سبب ماہرین زیادہ دیر بیٹھ کر وقت گزارنے کی عادت کو جسم میںموجود ایک اہم ہارمون انسولین سے منسلک کرتے ہیں۔انسولین ایک ایسا ہارمون ہے، جو آپ کے خلیات کو توانائی کے لیے گلوکوز فراہم کرنے میں مدد دیتا ہےاور جب انسانی جسم انسولین نہیں بنا پاتا تو اس سے پیدا ہونے والا مرض شوگر(ذیابطیس) ہونے کا خطرہ بہت بڑھ جاتا ہے۔
ایک رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں ہر 3سیکنڈ میں ڈیمینشیا کے ایک مر یض کا اضافہ ہورہا ہے ۔ماہرین کے مطابق اس تعدا د میں اضافہ کی ایک وجہ زیادہ دیر بیٹھنا بھی ہے۔ زیادہ دیر بیٹھنا انسان میںدماغی بیماری ڈیمینشیا کے خطرات میں اضافہ کردیتاہے۔
ایک ٹیبل پر بیٹھ کر کام کرنے والے زیادہ تر لوگوں کے سماجی روابط بھی بہت کم ہو جاتے ہیں کیونکہ ایک دن میں 10-15گھنٹے تک وہ بیٹھے رہتے ہیں اس سے وہ سورج کی روشنی اور تازہ ہوا سے محروم رہتے ہیں جو ان کی صحت کیلئے زبردست خطرناک ہے اور اس سے وہ ڈپریشن کا شکار ہو سکتے ہیں۔یہ ڈپریشن تنہائی سے تعلق رکھتا ہے ۔ اور موت کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔
اگر آپ اپنے ارد گرد کے ماحول پر نظر دوڑائیں تو آپ حیران رہ جائیں گے کہ آپ کے گھر کے باہر چکر لگانے والے سکیورٹی گارڈ میں بیماریاں بہت کم ہوں گی ۔ اسی طرح چل پھر کر کام کرنے والے لوگوں میں اور ایسے لوگ جو اپنی صحت کیلئے ہر ایک دو گھنٹے بعد ضرور 15منٹ کی بریک لے کر چہل قدمی کرتے ہیں یا سیٹ سے اٹھ جاتے ہیں ان کی صحت بہتر ہوگی۔
ہم یہ نہیں کہتے کہ آپ بیٹھنے والا کام نہ کریں بلکہ آپ اپنی بہتر صحت کیلئے ورزش کو معمول کا حصہ بنائیں۔ یہ ورزش ضروری نہیں ہے پارکوں کے اندر جا کر ہی ہو سکتی ہے۔ آپ اپنی سیٹ پر بیٹھے بیٹھے اپنے جسم کو ہلائیں، اپنے جسمانی اعضا کو حرکت دیں۔ اپنے آفس یا بیٹھنے کی جگہ سے اٹھ کر اپنے جسم کو 5منٹ کیلئے ریلکس دیں اور چہل قدمی کریں ۔ ایک بہت مشہور مقولہ ہے کہ جان ہے تو جہان ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  پاکستان میں پائی جانے والی چند خطرناک بیماریاں

زیادہ دیر بیٹھنا انسان کی ذہنی صحت پر بھی اثر اندازہوتا ہے۔ اس کی وجہ سے ڈپریشن یا انزائٹی بھی ہوسکتی ہےکیونکہ زیادہ دیر بیٹھ کر وقت گزارنےوالے افراد صحتمند اور مزاج کو تبدیل کرنے والی ایکسرسائز سے دور ہوجاتے ہیں۔ یہی نہیں، ایسے افراد سورج کی روشنی سے دور اور سماجی تعلقات میں کشیدگی کا سامنا بھی کرتے ہیں۔ یہ سب مسائل انسان کے لیے تنہائی اور ڈپریشن جیسے مرض کا سبب بن سکتے ہیں۔

کیٹاگری میں : صحت

اپنا تبصرہ بھیجیں