dr shahzad-mansoor

نواز شریف اور شہباز شریف دونوں بھائیوں نے اپنے آپ کو عدالت کے حوالے کر دیا ہے:اٹارنی جنرل آف پاکستان

EjazNews

وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر نے اٹارنی جنرل آف پاکستان کے ہمراہ اسلام آباد میں پریس کانفرنس کی جس میں ان کا کہنا تھاعدالت نے صرف انڈیمنٹی بانڈ والے فیصلے کو معطل کیاہے اسے رد نہیں کیا۔ہمیں نواز شریف کی واپسی کی ضمانت حلف نامے کی صورت میں مل گئی ہے۔
ان کا کہنا تھا شہباز اور نواز دونوں سے حلف نامے لے لیے ہیں۔ عدالت نے گورنمنٹ آف پاکستان کے نمائندے کو نواز شریف تک رسائی دینے کا حکم بھی دیا ہے۔لاہور ہائیکورٹ نے نواز شریف کے بیرون ملک جانے کے حوالے سے کابینہ کے فیصلے کی روح کو برقرار رکھا ہے۔
شہزاد اکبر کا کہنا تھا کہ وفاقی کابینہ نے انسانی بنیادوں پر نواز شریف کو ’’ون ٹائم‘‘بیرون ملک جانے کی اجازت دی۔ان کا کہنا تھا کہ جو لوگ نواز شریف کے متعلق کہتے ہیں کہ وہ تین دفعہ کے وزیراعظم ہیں۔ ان کو یاد رکھنے چاہیے کہ نواز شریف کے سمدھی ، دو بیٹے فرار ہیں اور نواز شریف کو سپریم کورٹ آف پاکستان کے فیصلے کے بعد صادق اور امین نہیں رہے ہیں۔
معاون خصوصی احتساب کا کہنا تھا کہ انڈیمنٹی بانڈز کی کوئی قانونی حیثیت نہیں تھی لیکن ہم نے نواز شریف کی واپسی کو یقینی بنانا تھا۔لاہور ہائیکورٹ نے حلف نامہ طلب کر لیا ہے کہ اگر نواز شریف واپس نہیں آئیں گے تو قانون کی گرفت میں آئیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ لاہور ہائیکورٹ نے اپنے فیصلے میں حکومتی موقف کو مزید تقویت دی ہے اور حکومتی نمائندوں کو اجازت دی کہ وہ نواز شریف کی صحت کے متعلق جائز ہ لے سکیں۔
جبکہ اٹارنی جنرل آف پاکستان انور منصور خان کا کہنا تھا لاہور ہائیکورٹ نے کابینہ کے فیصلے کی روح کو اپنے فیصلے میں شامل کیا جو کہ نواز شریف کی ایک دفعہ باہر جانے کی اجازت سے متعلق تھا۔ عدالت نے نواز شریف کو حکم دیا ہے کہ وہ اپنی تصدیق شدہ میڈیکل رپورٹس حکومت کو جمع کرائیں گے۔
عدالت کو بھی یقین نہیں تھا کہ یہ صحیح رپورٹس جمع کرائیں گے۔ان کا کہنا تھاکہ عدالت کو شک تھا کہ یہ ٹھیک رپورٹس بھیجے گے یا نہیں اس لیے حکومتی نمائندےکو خصوصی اختیار دیا گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر نواز شریف واپس نہیں آتے تو وہ قانون کی گرفت میں آجائیں گے۔عدالت نے واضح کر دیا ہے کہ کابینہ کا فیصلہ ماننے کے بعد نواز شریف باہر جائیں گے۔ان کا کہنا تھا جب یہ چار ہفتے ختم ہو جائیں گے تو انہیں مزید توسیع کے لیے عدالت سے رابطہ کرنا ہوگا۔نواز شریف اور شہباز شریف دونوں بھائیوں نے اپنے آپ کو عدالت کے حوالے کر دیا ہے۔ان کا ٹریک ریکارڈ ٹھیک نہیں تھا اس لیے عدالت نے ان سے انڈر ٹیکنگ لی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  کسی کی ڈیکٹیشن سے اتحاد نہیں چل سکتا:بلاول بھٹوزرداری

اپنا تبصرہ بھیجیں