jasos larka

جرم کو ہی نہیں ہم نے مجرموں کو بھی پکڑوایا

EjazNews

یہ گرمیوں کی چھٹیوں کی بات ہے۔ عقیل بھی ہمارے گھر آیا ہواتھا۔ عقیل میرا خالہ زاد بھائی لگتا ہے، عمر میں کچھ ہی فر ق ہے۔ میں چودہ سال کا ہوں اور وہ مجھ سے ایک مہینہ چھوٹا ہے ہم دونوں کا شوق ایک ہے۔ جاسوسی کرنا اور کتابیں پڑھنا۔ ہماری سب سے بڑی خواہش بھی یہی تھی کہ کسی مجرم کو پکڑیں یہ خواہش پوری بھی ہوئی ۔ کیسے ؟ یہ میں آپ کو اب بتائوں گا۔
ایک دن میں اور عقیل ایک پرانے مکان کی طرف گئے اس مکان میں چار پانچ سال سے کوئی نہیں رہ رہا تھا، کوئی کھڑکی بھی نہیں تھی۔ لیکن پھر بھی یہاں اکثر دو آدمی آیا کرتے تھے ۔ہمیں بڑی تشویش تھی کہ کوئی بھی نہیں رہتا پھر یہ کیا کرنے آتا ہے۔ اس گھر کے قریب پہنچ کر پہلے عقیل اور پھر میں دیوار پر چڑھ گئے اور دوسری طرف چھلانگ لگا دی اور وہاں پر موجود بیر کے درخت سے بیر توڑنے لگے۔ اچانک میری نظر درخت کی ایک شاخ پر پڑی اس شاخ پر دو بجلی کی تاریں لگی ہوئی تھیں جن کے آخری سرے پر سوئچ لگا ہوا تھا۔
میں نے عقیل سے کہا: عقیل! یہ دیکھو سوئچ۔
عقیل نے بیر کھاتے ہوئے جواب دیا: کہاں؟
میں نے کہا: وہ دیکھو۔
عقیل کچھ دیر تک اسے دیکھتا رہا پھر بولا۔ یہاں کوئی بلب ہے۔
میں نے اسے جواب دیا:نہیں اور پھر میں ادھر ادھر دیکھنے لگا ،اچانک عقیل نے آہستہ سے کہا۔
سہیل! ادھر دیکھو یہ کیا ہے۔
میں نے ادھر دیکھا تو اور بھی حیران ہوا۔ وہاں سوئچ بورڈ لگا ہواتھا ۔ اچانک عقیل نے سوئئچ پکڑ کر سوئچ بورڈ میں لگا دیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے وہاں تقریباً سات فٹ لمبا اور اتنا ہی چوڑا شگاف پڑ گیا۔ میرا حیرت کے مارے برا حال ہوگیا کہ عقیل کی آواز آئی آئو نیچے چلیں۔
ہم دونوں اندر جانے لگے یہ کوئی تہہ خانہ تھا تقریباً بیس پچیس سیڑھیاں تھیں ۔اندر جا کر میں نے ادھر ادھر نظر یں دوڑائیں۔ اندر ایک میز، دو کرسیاں تھیں اس کے علاوہ میز کے اوپر ایک عجیب و غریب مشین پڑی تھی۔ مشین کے ارد گرد نوٹوں کی گڈیاں بھی پڑی تھیں۔ میں نے عقیل سے کہا کہ شاید یہ جعلی نوٹ ہیں اور یہ مشین جعلی نوٹ چھاپتی ہے۔
عقیل مارے حیرت کے اچھل پڑا ۔کیا کہا ؟ نوٹ چھاپنے کی مشین!تو یہ لوگ مجرم ہیں ہاں۔
عقیل نے کہا کہ پولیس کو اطلاع کرتے ہیں ،میں نے جوا دیا۔ کیا پاگل ہو گئے ہو اگر پولیس کو اطلاع کر دی تو پولیس سامان پکڑ لے گی اور مجرموں کا کوئی پتہ نہیں چلے گا۔
یہ بات عقیل کی کھوپڑی میں سما گئی، ہم باہر آگئے۔ سوئچ بورڈ سے سوئچ کونکالا۔ سوئچ کے نکالتے ہی زمین دوبارہ اپنی جگہ پر واپس آگئی۔ ہم دیوار پھاندکر واپس آگئے۔ہمیں رات کو خواب میں بھی ہر طرف جاسوس اور چور ہی نظر آئے۔
اگلے دن جمعہ تھا اور ہمیں اب صرف چور کا انتظار تھا کہ وہ آئے۔ کچھ دیر بعد ہم جمعہ کی نماز پڑھنے گئے ،نماز پڑھنے کے بعد یہی دعا مانگی کہ یا اللہ :جونہی ہم مسجد سے نکلیں تو وہ چور آجائیں اور ہوا بھی یہی۔ مسجد سے نکل کر جب ہم گھر کی جانب جانے لگے تو ہمیں دو بھیانک آدمی نظر آئے۔ ان کے ہاتھ میں ایک چابی تھی جس سے انہوں نے تالا کھولا اور اندر چلے گئے اور اندر سے کنڈی بند کرلی ۔ ہم نے فوراً دیوار پر چڑھنا شروع کیا اور ایک جگہ چھپ کر دیکھنے لگے۔ وہ دونوں آدمی کچھ دیر باتیں کرتے رہے۔پھر سوئچ لگایا زمین پھر ایک تہہ خانے کی صورت میں کھل گئی اور وہ دونوں اندر چلے گئے، ہم دونوں دبے پائوں ادھر گئے میں نے عقیل سے کہا کہ جونہی میں کہوں یہ سوئچ نکال دینا پھر خود تہہ خانے کے منہ پر کھڑا ہوگیا وہ دونوں آدمی مشین پر جھکے ہوئے تھے۔ میں نے بلند آواز میں کہا کہ انکل! سب خیریت ہے۔ان دونوں نے اوپر حیرانی سے دیکھا۔ مجھے دیکھ کر وہ دونوں میری جھپٹے والے تھے ،اسی لمحے میں نے عقیل کو اشارہ کیا اور اس نے سوئچ نکال دیا۔ زمین دوبارہ ہموار ہو گئی۔ اس کے فوراً بعد ہم دونوں نے ٹیلی فون پر پولیس کو اطلاع دی اور پھر تہہ خانے کی طرف چل دئیے۔
کچھ دیر بعد پولیس وہاں پہنچ گئی اور کہا کہاں ہیں مجرم۔ یہ سن کر میں نے سوئچ لگایا تو وہ تہہ خانہ دوبارہ نمودار ہوا۔ اندر سے وہ دونوں نکلے اور پولیس نے انھیں ہتھکڑیاں پہنا دیں ۔
اگلے دن اخبار میں لکھا تھا کہ دونو عمر بچوں کی مدد سے پولیس نے چالاک مجرموں کو پکڑ لیا۔
(سہیل اختر)

یہ بھی پڑھیں:  چھوٹا ربڑو

اپنا تبصرہ بھیجیں