hazrat uma habiba

حضرت اُم حبیبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا ذکر خیر

EjazNews

رملہ نام اور کنیت اُ م حبیبہ تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے 17سال پہلے پیدا ہوئیں اور عبد اللہ بن حجش سے عقد ہوگیا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث ہوئے تو مشرف بہ اسلام ہوئیں اور حبشہ کی طرف ہجرت ثانیہ کی۔ ایک روایت میں ہے کہ ان کی بیٹی حبیبہ جن کی کنیت کے ساتھ وہ مشہور ہیں حبشہ ہی میں پیدا ہوئیں۔ حبشہ میں جا کر عبیداللہ بن حجش نے عیسائیت قبولی کر لی لیکن ام حبیبہ رضی اللہ عنہا اسلام ہی پر قائم رہیں۔ اختلاف مذہب کی بنا پر عبید اللہ بن حجش نے ان سے علیحدگی اختیار کی اور اب وہ وقت آگیا کہ ان کو اسلام اور ہجرت کی فضیلت کے ساتھ اُم المومنین بننے کا بھی شرف حاصل ہو جائے۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمر بن امیہ الضمری کو نجاشی کی خدمت میں بغرض نکاح بھیجا۔جب وہ نجاشی کے پاس پہنچے تو نجاشی نے ام حبیبہؓ کو اپنی لونڈی ابرہہ کے ذریعے سے پیغام دیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ کو تمہارے نکاح کے لیے لکھا ہے۔ انہوں نے خالد بن سعید اموی کو وکیل مقرر کیا۔ اور اس مژدہ کے صلہ میں ابرہہ کو چاندی کے دوکنگن اور انگوٹھیاں دیں۔ جب شام ہوئی تو نجاشی نے جعفر بن ابی طالبؓ اور وہاں کے مسلمانو ں کو جمع کر کے خود نکاح پڑھایا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے چار سو دینا مہر ادا کیا۔ تمام لوگو ں کے سامنے خالد بن سعید کو یہ رقم دی گئی تو لوگوں نے بعد نکاح اٹھنا چاہا لیکن نجاشی نے کہا دعوت ولیمہ تمام پیغمبر وں کی سنت ہے، ابھی بیٹھنا چاہئے۔ چنانچہ کھانا آیا لوگ کھا کر رخصت ہوئے۔ جب مہر کی رقم ام حبیبہ ؓ کو ملی تو انہوں نے پچاس دینار ارہہ کو دئیے لیکن اس نے رقم کو ان کنگنوں کے ساتھ جو پہلے ملے تھے یہ کہہ کر واپس کر دیا کہ بادشاہ نے مجھ کو منع کر دیا ہے۔ دوسرے روز ان کی خدمت میں عود، زعفران، عنبر وغیرہ لے کر آئیں جن کو وہ اپنے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لائیں جب نکاح کی تمام رسومات ادا ہو گئی تو نجاشی نے ان کو شرجیل بن حسنہ کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں روانہ کیا۔ ام حبیبہ ؓ نے 44ہجری میں وفات پائی اور مدینہ میں دفن ہوئیں۔ (سیرۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم)

یہ بھی پڑھیں:  حضرت ہاجرہ علیہا السلام

اپنا تبصرہ بھیجیں