nawaz1

نواز شریف غیر مشروط طورپر علاج کے لیے بیرون ملک جا سکتے ہیں: لاہور ہائیکورٹ

EjazNews

سابق وزیراعظم نواز شریف کی خراب صحت کے باعث انہیں علاج کیلئے بیرون ملک جانا ہے لیکن ان کا نام ای سی ایل میں ہونے کی وجہ سے وہ پاکستان سے باہر نہیں جاسکتے۔ اس سلسلے میں لاہور ہائیکورٹ میں سماعت ہوئی ۔
جسٹس علی باقر نجفی کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے سماعت کی ۔ حکومتی اور شہباز شریف کی قانونی ٹیم نے اپنے اپنے دلائل عدالت کے سامنے پیش کیے۔
حکومتی وکیل کا کہنا تھا کہ ہم ضمانتی بانڈ اس لیے مانگ رہے ہیں کہ عدالت کی رٹ قائم رہے اور نواز شریف دوبارہ عدالت کے سامنے پیش ہوں ۔ اگر نواز شریف حکومت کو ضمانتی بانڈز نہیں جمع کرانا چاہتے تو وہ عدالت کو جمع کرادیں ۔
دوران سماعت پراسیکیوٹر کا کہنا تھا کہ نواز شریف عدالت کو مطمئن کر دیں تو ہمیں کیا اعتراض ہو گا۔ انہیں عدالت کو مطمئن کر نا ہوگا۔
جس پر شہباز شریف کے وکیل کا کہنا تھا کہ ہم عدالت کو نواز شریف کی جانب سے یقین دہانی کراتے ہیں کہ وہ جب بھی صحت یاب ہوں گے وہ پاکستان آئیںگے۔ وکیل پرویز ملک کا کہنا تھا کہ ہم تحریری طور پر لکھ کر دینے کیلئے تیار ہیں کہ نواز شریف واپس آئیں گے۔
جس پر عدالت نے استفسار کیا کہ کیا شہباز شریف اس بات کی یقین دہانی کراتے ہیں کہ وہ واپس آئیں گے۔
شہباز شریف کا کہنا تھا کہ وہ یقین دہانی کراتے ہیں کہ نواز شریف واپس آئیں گے تاہم عدالت نے کہا کہ لکھ کر دیں ۔جس پر وکیل امجد پرویز نے تحریرطور پر لکھا ڈرافٹ عدالت میں جمع کرادیا۔
اس ڈرافٹ کے مطابق پاکستانی ڈاکٹروں کے کہنے پر نواز شریف بیرون ملک جائیں گے اور جیسے ہی وہاں کے ڈاکٹر اجازت دیں گے نواز شریف ایک لمحہ ضائع کیے بغیر پاکستان آئیں گے۔
عدالت نے حکومتی وکیل سے کہا کہ ان کا کیا موقف ہے ؟
جس پر سرکاری وکیل نے ڈرافٹ پر اعتراض لگایا۔کہ موجودہ ڈرافٹ میں نہیں لکھا کہ نواز شریف کب جائیں گے اور کب واپس آئیں گے۔
جس پر شہباز شریف نے کہا کہ عدالت نواز شریف کو 25نومبر کو دوبارہ عدالت کے سامنے پیش ہونا ہے۔
اس پر سرکاری وکیل نے بھی ایک ڈرافٹ جمع کرایا جس کے مطابق حکومت پاکستان جب سمجھے گی کہ نواز شریف کی صحت ٹھیک ہے وہ پاکستان سے ڈاکٹروں کا بورڈ بھیجے گی اور وہ چیک کریں گے کہ نواز ملک واپس آسکتے ہیں یا نہیں۔
جس پر عدالت نے ریمارکس دئیے کہ سب جانتے ہیں نواز شریف کی صحت خراب ہے۔ عدالت کا کہنا تھا کہ ہمارے خیال میں یہ درست نہیں کہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے ضمانت دی اور حکومت شرائط لگائے۔
عدالت کا مزید کہنا تھا کہ اگر نواز شریف کی صحت ٹھیک ہو جاتی ہے۔ تو وفاقی حکومت کا بورڈ نواز شریف کا معائنہ کر سکتا ہے۔
دونوں طرف کے وکلاءکی گفتگو سننے کے بعد عدالت نے فیصلہ کیا کہ وہ ڈرافٹ خود تیار کرےگی۔ عدالت نے ڈرافٹ تیار کر کے دونوں فریقین کے وکلاءکے حوالے کیے۔
شہباز شریف کے وکلاءکاکہنا تھا کہ انہیں ڈرافٹ پر کوئی اعتراض نہیں ہے جبکہ سرکاری وکیل نے اعتراض لگایا کہ ڈرافٹ میں کسی قسم کی شورٹی نہیں مانگی گئی۔

یہ بھی پڑھیں:  اپوزیشن لیڈر اورسابق وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کوبھی کرونا ہوگیا

لاہور ہائیکورٹ نے میاں نواز شریف کو 4ہفتے کیلئے غیرمشروط طور پر بیرون ملک جانے کی اجاز ت دے دی اور اگر ان کی صحت ٹھیک نہیں ہوتی تو اس میں توسیع بھی ہو سکتی ہے۔عدالت نے حکم جاری کیا ہے نواز شریف کا نام فوری طور پر ای سی ایل سے نکالا جائے۔
کمرہ عدالت سے باہر میاں شہباز شریف نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میاں نواز شریف کیلئے میری والدہ کی دعائیں رنگ لائی ہیں۔ میں پوری قوم کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں