women health

عورتوں میں بچہ دانی گرنا

EjazNews

کبھی کبھی ایسا ہوتا ہے کہ عورت کی عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ اس کے جسم کے وہ عضلات (پٹھے) کمزور ہو جاتے ہیں جو بچہ دانی کو تھام کر رکھتے ہیں۔ بچہ دانی اس کی فرج میں آکر گر سکتی ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ بچہ دانی کے کچھ حصے، فرج کی تہوں کے درمیان چپک کر رہ جائیں۔ بہت بگڑی ہوئی صوت حال میں ایسا بھی ممکن ہے کہ جب عورت پاخانہ کرے، کھانسے، چھینکے یا بھاری وزن اٹھائے تو اس کی پوری بچہ دانی، فرج سے باہر آگرے۔
بچہ دانی گرنے کی شکایت عام طور پر ، بچوں کی پیدائش کے وقت کوئی نقصان پہنچنے سے ہوتی ہے اور یہ شکایت خاص طور پر اس وقت ہو سکتی ہے۔ جب عورت کے بہت سے بچے ہوں یا بچوں کی پیدائش کے درمیان وقفہ بہت کم ہو۔ ایسا اس وقت بھی ہو سکتا ہے جب عورت زچگی کے وقت، مقررہ وقت سے پہلے ہی زور لگا لے یا بچے کی پیدائش میں مدد ینے والا (برتھ اٹینڈنٹ)عورت کے پیٹ کو باہر سے دبا دے، لیکن عمر بڑھنے اور بھاری بوجھ اٹھانے، دونوں صورتوں میں یہ شکایت بڑھ سکتی ہے۔ اس کی علامتیں اکثر بڑھی عمر کے بعد ظاہر ہوتی ہیں، جب پٹھے (مسلز) کمزور ہو جاتے ہیں۔
علامات:
آپ کو اکثر پیشاب کرنے کی ضرورت پڑنے لگے یا پیشاب کرنے میں مشکل پیش آنے لگے یا پیشاب کے قطرے بلا ارادہ نکلنے لگیں۔
آپ کی پیٹھ کے نچلے حصے میں درد رہنے لگے۔
آپ محسوس کریں کہ جیسے کوئی چیز آپ کی فرج سے باہر آرہی ہے۔
جب آپ لیٹ جائیں تو اوپر بیان کی تمام نشانیاں غائب ہو جائیں۔
علاج:
بچہ دانی اور فرج کے اطراف کے پٹھوں کو مضبوط بنانے کیلئے ہیلتھ ورکرز ، لیڈی ڈاکٹر سے رابطہ کریں اور ان سے پوچھیں کہ آپ یہ پٹھے کیسے مضبوط بنا سکتی ہیں ۔ وہ آپ کا معائنہ کرنے کے بعد آپ کو کوئی نہ کوئی مشق بتا سکتی ہے یا ادویات ، خوراک سے آپ کا علاج کر سکتی ہے۔ اگر اس سے فائدہ نہ ہو تو ممکن ہے آپ کو آپریشن کی ضرورت پڑے۔

یہ بھی پڑھیں:  مانع حمل ادویات اور خواتین پر ان کے اثرات

اپنا تبصرہ بھیجیں