high court

سب کی نظریں لاہور ہائیکورٹ پر جمی ہوئی ہیں

EjazNews

سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کی لاہور ہائیکورٹ میں پیر کو ہونے والے سماعت میاں شہباز شریف کی درخواست پر ہوآج ہو رہی ہے۔
شہباز شریف نے ہائیکورٹ میں جو درخواست دی ہے اس کے مطاق وفاقی حکومت کو ای سی ایل سے نام نکالنے کی درخواست دی گئی تھی۔لیکن ہائیکورٹ کی ضمانت کے باوجود نام ای سی ایل سے نہیں نکالا گیا۔ اس درخواست میں وفاقی حکومت، وزارت داخلہ، ایف آئی اے، نیب کو فریق بنایا گیا ہے۔
میاں شہباز شریف نے اپنی گزشتہ روز کی گئی پریس کانفرنس میں موقف اختیار کیا تھا کہ حکومت ضمانتی بانڈ کی مد میں مسلم لیگ ن ، شہباز شریف اور نواز شریف کو بدنام کرنا چاہتی ہے کہ ہم نے ان سے پیسے نکلوا لیے ہیں۔
وفاقی حکومت نے میاں نواز شریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کیلئے ضمانتی بانڈز مانگے تھے جسے مسلم لیگ ن نے دینے سے انکار کر دیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:  کرونا وائرسے شہید ہونے والے طبی عملے کو ’’شہید پیکج‘‘ دیاجائے گا:ڈاکٹر ظفر مرزا

حکومت موقف اختیار کر رہی ہے کہ اگرنواز شریف واپس نہیں آتے تو کل کو عدالتیں ہمیں پوچھیں گی کہ آپ نے ایک سزا یافتہ شخص کوکیسے باہر جانے دیا بغیر کسی شورٹی کے ۔ ہم اس لیے ضمانٹی بانڈز مانگ رہے ہیں۔
گزشتہ روز بھی یہ باتیں زیر گردش رہی ہیں کہ کیا حکومت ضمانتی بانڈ مانگ سکتی ہے کہ نہیں ۔ اس میں قانون دانوں کی اکثریت کی جو رائے سامنے آرہی ہے ا س کے مطابق تو نہیں مانگ سکتی ۔
حکومت بھی ہائیکورٹ کی طرف دیکھ رہی ہے کہ ہائیکورٹ کیا فیصلہ دیتی ہے ۔اور مسلم لیگ ن تو ہائیکورٹ میں موجود ہے اپنے کیس لے کر۔

اپنا تبصرہ بھیجیں