hazrat zanaib

حضرت زینب رضی اللہ عنہا کا ذکر خیر

EjazNews

حضرت زینب رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پھوپھی زاد بہن تھیں،بڑی عابدہ زاہدہ تھیں۔ خدا اور رسول کی بڑی فرما نبردار تھیں۔ ان کا ذکر قرآن مجید میں آیا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت زید بن حارثہ کا پیغام لے کر حضرت زینب بنت حجش رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لے گئے، انہوں نے کہا میں ان سے نکاح نہیں کرونگی آپ نے فرمایا ایسا نہ کہو اور ان سے نکاح کر لو۔ حضرت زینب رضی اللہ عنہا نے جواب دیا کہ اچھا پھر آپ کچھ مہلت دیجئے، میں سوچ لوں۔ ابھی یہ باتیں ہو ہی رہی تھیں کہ وحی نازل ہوئی اور یہ آیت اتری:
ترجمہ:” اور کسی مسلمان مرد عورت کو خدا اوررسول کے فرمان کے بعد اپنے کسی امر کا کوئی اختیار باقی نہیں رہتا جو خدا اور رسول کی نافرمانی کرے وہ صریح گمراہی میں پڑے گا۔“ (الاحزاب)
اسے سن کر زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہانے فرمایا رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ اس نکاح سے رضا مند ہیں آپ نے فرمایا ہاں تو حضرت زنیب ؓ نے جواب دیا کہ مجھے کوئی انکار نہیں ہے۔ میں اللہ اور رسول کی نافرمانی نہیں کروں گی۔ میں نے اپنا نفس ان کے نکاح میں دے دیا اور روایت میں ہے کہ وجہ انکار یہ تھی کہ نسب کے اعتبار سے یہ بہ نسبت حضرت زید رضی اللہ عنہ کے زیادہ شریف تھیں۔ حضرت زید رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد کردہ غلام تھے۔ (ابن کثیر)
بہر حال حضرت زینب رضی اللہ عنہا کا نکاح زید ؓ سے ہوگیا لیکن چند دنوں کے بعد دونوں ناچاقی اور نااتفاقی ہوگئی جس کی وجہ سے حضرت زیدؓ نے طلاق دے دی۔
مسند احمد میں ہے کہ جب حضرت زنیب ؓ کی عدت پوری ہو چکی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زید بن حارثہ ؓ سے فرمایا تم جاﺅ اور انہیں مجھ سے نکاح کا پیغام پہنچاﺅ، حضرت زید ؓ گئے۔ اس وقت حضرت زینبؓ آٹا گوند رہی تھیں۔ حضرت زیدؓ پر ان کی عظمت اس قدر چھائی کہ سامنے پڑ کر بات نہ کرسکے، منہ پھیر کر بیٹھ گئے اور ذکر فرمایا۔ حضرت زینبؓ نے فرمایا میں خدا سے استخارہ کر لوں۔ یہ کھڑی ہو کر نماز پڑھنے لگیں ادھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پروحی اتری جس میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
ترجمہ: ”جب زید نے اس عورت (زینب) سے غرض پوری کرلی تو ہم نے اس سے تیرا نکاح کردیا۔ “
چنانچہ اسی وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بغیر اطلاع چلے آئے۔ پھر ولیمہ کی دعوت میں آپ نے ہم سب کو گوشت روٹی کھلائی ۔ بخاری میں ہے کہ حضرت زینب ؓ دوسری ازواج مطہرات سے فخراً کہا کرتی تھیں کہ تم سب کے نکاح تمہارے ولی وارثوں نے کئے اور میرا نکاح خود اللہ تعالیٰ نے ساتویں آسمان پر کرادیا ہے۔ حضرت زینبؓ نہایت قانع اور فیاض طبع تھیں خود اپنے دست بازو سے معاش پیدا کرتی تھیں اور اس کو خدا کی راہ میں لٹا دیتی تھیں۔ ایک دفعہ حضرت عمرؓ نے ان کاسالانہ نفقہ بھیجا انہوں نے اس پر ایک کپڑا ڈال دیا اور بزرہ رضی اللہ عنہا بنت رافع کو حکم دیا کہ میرے خاندانی رشتہ داروں اور یتیموں کو تقسیم کر دو ۔ بزرہ رضی اللہ عنہا نے کہا آخر ہمارا بھی کچھ حق ہے۔ انہوں نے کہا کہ کپڑے کے نیچے جو کچھ ہو وہ تمہارے ہے۔ دیکھا تو پچاس درہم نکلے جب تمام مال تقسیم ہوچکا تو دعا کی کہ خدایا اس سال کے بعد میں خلیفہ عمر رضی اللہ عنہ کے مال سے فائدہ نہ اٹھاﺅں یہ دعا قبول ہوئی اور اسی سال ان کا انتقال ہوگیا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ازواج مطہرات سے فرمایا تھا: ”تم میں مجھ سے وہ جلدی ملیگی جس کا ہاتھ لمبا ہوگا۔ (بخاری)
یہ سخاوت کی طرف اشارہ تھا مگر ازواج مطہرات اس کو نہ سمجھ سکیں۔ چنانچہ باہم اپنے ہاتھوں کو نپاکرتی تھیں۔ حضرت زینبؓ اپنی فیاضی کی بنا پر اس پیشن گوئی کی مصداق ثابت ہوئیں اور ازواج مطہرات میں سب سے پہلے انتقال کیا۔ کفن کا خود سامان کرلیا تھا اور وصیت کی تھی کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ بھی کفن دیں تو اس میں سے کسی کو صدقہ کر دینا۔ چنانچہ یہ وصیت پوری کی گئی۔ حضرت عمر ؓ نے جنازہ کی نماز پڑھائی اور ان کے اقارب نے قبر میں اتارا۔ 20ھ میں انتقال اور53 برس کی عمر پائی۔ (سیرة النبی )

یہ بھی پڑھیں:  اُم المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا

اپنا تبصرہ بھیجیں