china

چین کی مسلسل ترقی حیرت انگیز ہے

EjazNews

چین کی ترقی کی داستان، دنیا کے سب سے زیادہ آبادی والے ملک کی وہ حیرت انگیز کہانی ہے کہ کیسے انسانی محنت، تعلیم و ٹیکنالوجی اور سب سے بڑھ کر بہترین نظامِ حکومت کے امتزاج سے ملک غربت سے نجات پا گیا۔ عالمی ماہرین متفق ہیں کہ گزشتہ چار عشروں میں چین نے انتہائی تیز رفتار ترقی کی ہے۔
چین کا ایک بڑا کارنامہ اُن انتظامی غلطیوں سے بچنا تھا، جو عموماً ترقی پذیر ممالک کے لیے چیلنج بن جاتی ہیں، پھر اس کا سب سے قابل تحسین عمل اقتصادی پالیسی کا وہ تسلسل ہے، جس کا آغاز 1978 ء کے دسمبر میں عظیم رہنما، ڈینگ زیائوپنگ نے کیا تھا۔ ہر آنے والی قیادت پورے عزم، خلوص اور تن دہی سے اسی معاشی پالیسی پر عمل کرتی رہی۔ اس پالیسی کی بنیاد معاشی برتری، اصلاحات اور اوپن مارکیٹ پر رکھی گئی۔
چین جس اقتصادی نظام پر چل رہا ہے، اُسے عرفِ عام میں’’ اسٹیٹ کیپٹل ازم‘‘ کہا جاتا ہے، یعنی مملکت کے کنٹرول میں چلنے والا سرمایہ داری نظام۔ اسے اب تک چین نے بڑے تدبر اور کمال مہارت سے چلایا ہے۔ اس میں شک نہیں کہ سرمایہ داری نظام کی کچھ بدعتوں سے اسے بھی مشکلات کا سامنا ہے، جیسے دولت کی ریل پیل کی وجہ سے اعلیٰ قیادت میں کرپشن کا فروغ۔ تاہم، مجموعی طور پر اس خرابی نے چین کے گروتھ ریٹ کی رفتار کو کوئی نقصان نہیں پہنچایا۔
تیز رفتار ترقّی کو دنیا کا کوئی بھی ملک آج تک اتنے طویل عرصے تک قائم نہیں رکھ سکا۔ چین اپنی کامیابی کو نظام کی اچھائی قرار دیتا ہے۔چینی ماہرین کا کہنا ہے کہ وہ انتخابی سیاست کی بجائے مرکزیت کے ذریعے گڈ گورننس پر یقین رکھتے ہیں اور ترقی کے ثمرات میں عوام کی شرکت ممکن بناتے ہیں۔ انہی ماہرین کے مطابق، ترقی اس نظام کی چابی ہے۔ ملکی ترقی کے رکنے سے افراتفری جنم لیتی ہے، جبکہ چینی ماڈل میں ترقی، استحکام کی ضمانت بن گئی ہے۔
تعلیم اور تربیت اس کی تیز رفتار ترقی اور پھر اسے قائم رکھنے کے لیے لازمی ہے، بڑی تعداد میں چینی طلبہ کو امریکہ اور یورپی یونی ورسٹیز میں بھیجا گیا، اُنھیں سکالر شپس دی گئیں۔ جبکہ مُلک میں موجود افراد کی تربیت کے لیے طرح طرح کے پروگرامز متعارف کروائے گئے۔ بیرون ملک سے تعلیم و تربیت حاصل کرنے والوں کو واپسی پر آگے بڑھنے کے شاندار مواقع فراہم کیے گئے۔اُن کے خلاف کوئی محاذ نہیں کھولا گیا، بلکہ اندورن ملک کے ماہرین اور باہر سے آنے والوں کے امتزاج سے اس ترقی کی رفتار کو اس طرح ترتیب دیا گیا کہ سب کو فائدہ پہنچا۔ جدید ٹیکنالوجی ٹرانسفر ہوئی، تو نئی اور اعلیٰ پروڈکٹس کی کم قیمت میں بڑے پیمانے پر تیاری ممکن ہوئی۔ آج بھی امریکہ اور یورپی تعلیمی اداروں میں سب سے زیادہ بیرونی طلبہ، چین ہی کے ہیں، جنہیں وظائف اور دیگر مراعات کے ذریعے حکومتی سہارا دیا جاتا ہے۔ چین اپنے جی ڈی پی کا چار فیصد تعلیم وتربیت پر خرچ کرتا ہے۔ اس کے پاس دنیا کا سب سے بڑا تعلیمی نظام ہے اور اس کی یونیورسٹیز کی تعداد امریکہ اور یورپ کی مشترکہ تعداد سے بھی زیادہ ہے، لیکن ماہرین کے مطابق، ابھی اسے اعلیٰ تحقیقی اور معیاری اداروں کی مزید ضرورت ہے کہ وہ امریکہ کے معیار تک پہنچ سکے۔ دنیا میں ترقی کے معیار کو جانچنے کا مستند پیمانہ یہ سمجھا گیا ہے کہ کوئی ملک کتنی توانائی استعمال کرتا ہے۔ چین دنیا میں سب سے زیادہ تیل استعمال کرنے والا الک بن چکا ہے۔’’ کہنے اور کرنے میں بہت فرق ہے‘‘،چین کی قیادت اس فرق کو خُوب سمجھتی ہے۔
چین کی فوجی قوت پر بھی ایک نظر ڈال لی جائے تو یہ مضمون سمجھنے میں اور آسانی ہوگی۔ انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ آف اسٹریٹیجک اسٹیڈیز کے مطابق، چینی فوج، دنیا کی سب سے بڑی فوج ہے، جس کی تعداد 23لاکھ ہے، جسے’’ پیپلز لبریشن آرمی‘‘ کہا جاتا ہے۔اس کے نیوکلیئر اثاثے66 بین البراعظمی میزائلوں پر مشتمل ہیں، اس کے پاس5 ایٹمی آبدوز، ایک ہزار سے زائد لڑاکا، 14 اواکس طیارے اور پانچ ہزار سے زائد ٹینکس ہیں۔85 بحری جہاز ہیں، اس کے 36مواصلاتی سیارے خلا میں موجود ہیں، جن میں جاسوسی سیارے بھی شامل ہیں۔
چین کی قیادت کی دور اندیشی اگر دیکھنی ہوتو اس کیلئے ’’ بیلٹ اینڈ روڈ‘‘ پر غور کرنا ہی کافی ہوگا ۔یہ وہ منصوبہ تھا جسے دنیا شروع میں ناممکن قرار دے چکی تھی لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ چین کی قیادت نے ثابت کیا کہ وہ اس منصوبہ کو بنانے اور مکمل کرنے کے پوری طرح اہل ہیں۔ اسی بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے کا حصہ ، سی پیک ہے۔بیلٹ اینڈ روڈ میں چین اربوں، کھربوں ڈالرز کی سرمایہ کاری کر رہا ہے۔ اس کے تحت شاہراہوں، بندرگاہوں، ائیرپورٹس، ریلوے نیٹ ورکس اور اقتصادی زونز بنائے جارہے ہیں۔ اس منصوبے سے مجموعی طور پر چین کے ساتھ علاقے کے دوسرے ممالک بھی ترقی کرتے رہیںگے۔ یہ ملک خوش حال ہوں گے اور چین کو اپنے مال کے لیے نئی منڈیاں بھی فراہم کرسکیں گے۔

یہ بھی پڑھیں:  امریکہ نے چین پر عائد 2سو ارب ڈالر زکے ٹیکسز موخر کرنے کا فیصلہ کر لیا

اپنا تبصرہ بھیجیں