sahabaz_sharif

کسی صورت میں ضمانتی بانڈ کی شرط نہیں مان سکتے:شہباز شریف

EjazNews

مسلم لیگ ن کے صدر اور اپوزیشن لیڈر میاں شہباز شریف نے لاہور میں پریس کانفرنس کی جس میں انہوں نے کہا کہ میں موجودہ حکومت کو سوال کرتا ہوں جب 6جولائی 2018ء کو کورٹ نے نواز شریف اور ان کی صا حبزادی کیخلاف فیصلہ دیا تھا تو وہ اپنی انتہائی بیمار اہلیہ کو چھوڑ کر پاکستان آئے اور اپنی صا حبزادی سمیت اڈیالہ جیل میں بند کر دئیے گئے۔اس وقت میا ں نواز شریف نے کوئی شورٹی بانڈ دیا تھا وہ چلے آئے تھے۔ اب جب ان کی دو ہائی کورٹس نے ضمانت دی ہے تو پھر حکومت وقت اس پر مکاری اور سیاست کرےاس سے کوئی اور خرابی کی بات ہوسکتی ہے، گھٹیا پن کی کوئی اور مثال ہو سکتی ہے۔ میں سمجھتا ہوں یہ ہے اصل معاملہ جو قوم کے سامنے واضح طور پر پیش ہونا چاہیے۔ یہ بانڈ کس سے مانگا جارہا ہے جو شخص تین بار وزیراعظم رہا۔
انہوں نے کہا کہ انڈیمٹی بانڈ کی آڑ میں تاوان لینا چاہتے ہیں۔عمران خان نیازی انسانی نوعیت کے مسئلے کو سیاسی بنانے رہے ہیں اس لیے ہم حکومت کے اس فیصلے کو مسترد کرتے ہیں۔
شہباز شریف کا کہنا تھا کہ حکومت قوم کو گمراہ کرنا چاہ رہی ہے کہ دیکھو ضمانتی بانڈ کی آڑ میں ہم نے نواز شریف ، شہباز شریف سے ساڑھے سات ارب روپے نکلو ا لیے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کسی صورت میں میں انڈیمٹی بانڈ کی شرط نہیں مان سکتے۔ ممتاز قانون دانوں نے حکومت کے اس فیصلے کی مخالفت کی اور قانون اس بات کو کمپیل کرتا ہے۔نواز شریف کی صحت کو شٹل کاک بنادیا گیا ہے۔ میاں نواز شریف کی صحت پر اس طرح کی سیاست کی مثال نہیں ملتی۔

یہ بھی پڑھیں:  پی ایس ایل کے کپتان پرجوش ہیں۔ جانئے کیا کہتے ہیں؟

اپنا تبصرہ بھیجیں