Deo sai

گلگت بلتستان میں بہت کچھ ہے دیکھنے کیلئے

EjazNews

قراقرم، ہمالیہ اور ہندوکش کے پہاڑوں کے درمیان گھرے ہوئے پاکستان کے شمالی حصے کو شمالی علاقہ جات کہا جاتا ہے۔
شمالی علاقہ جات کے شمال میں چین، تاجکستان اورافغانستان، مغرب میں شمال مغربی صوبہ کے پی کے ،جنوب میں آزاد جموں وکشمیر مقبوضہ کشمیر اور وادی کاغان اور مشرق میں مقبوضہ کشمیر ہیں۔
شمالی علاقہ جات فلک بوس پہاڑوں، خوب صورت وادیوں، دریاؤں، دنیا کے عظیم براعظمی گلیشیروں، آبشاروں اور جھیلوں کی سرزمین ہے۔ دنیا کے تین عظیم پہاڑی سلسلے۔۔۔۔ کوہ ہمالیہ، کوہ قراقرم اور کوہ ہندوکش اس علاقے میں موجود ہیں۔ ان تینوں سلسلوں کا ملاپ دریائے سندھ اور دریائے گلگت کے سنگم کے قریب ’’پڑی ‘‘کے مقام پر ہوتا ہے۔
دنیا کی آٹھ ہزار میٹر سے بلند چودہ چوٹیوں میں سے پانچ چوٹیاں شمالی علاقہ جات میں ہیں ۔
دنیا کی ایک سو بلند ترین چوٹیوں میں سے 36چوٹیاں پاکستان میں ہیں۔ شمالی علاقہ جات میں سات ہزار میٹر سے بلند درجنوں نہیں بلکہسینکڑوں چوٹیاں ہیںایک محتاط اندازے کے مطابق سات ہزار میٹر سے بلند 187 چوٹیاں ہیں۔
شمالی علاقہ جات میں گلیشیئروں کی وجہ سے چھوٹے بڑے بہت سے دریا ہیں۔ بلتستان میں دریائے سندھ، دریائے شیوک ، دریائے سالتورو، دریائے برولدو اور دریائے باشو ہیں ۔ دریائے سالتورو مشرق کی طرف سے آ کر خپلو کے قریب دریائے شیوک میں مل جاتا ہے۔ دریائے شیوک مشرق میں سکردو سے بتیس کلو میٹر پہلے دریائے سندھ میں شامل ہو جاتا ہے۔ دریائے با شوشمال مغرب سے جنوب مشرق کی طرف بہتا ہوا درائے برولدو میں مل جاتا ہے (برولد و کو دریائے شگر بھی کہا جاتا ہے) اور جنوب کی طرف بہتا ہوا اسکردو کے قریب دریائے سندھ میں شامل ہوجاتا ہے۔

ان وادیوں میں جو ایک دفعہ آتا ہے وہ انہیں اپنی زندگی میں کبھی بھول نہیں سکتا

غذر میں دریائے گلگت ( دریائے غذر) شمال مغرب میں اپنے معاونین ؛ دریائے یاسین ، دریائے اشکومن کو ساتھ لے کر مشرق کی طرف بہتا ہوا جنوب مشرق کی طرف رخ بدل کر گلگت پہنچتا ہے۔ گلگت اور دنیور کے درمیان دریائے ہنزہ اس میں شامل ہوجاتا ہے اور پھر یہ دریائے سندھ میں جا ملتا ہے۔ دریائے ہنزہ اپنے معاونین در یائے خنجراب ، دریائے گجراب ، دریائے چورن، دریائے شمشال، دریائے (ہسپر) نگر اور دریائے نلتر کو ساتھ لے کردریائے گلگت میں شامل ہوجاتا ہے۔
دریائے روپال دریائے استور میں شامل ہو جاتا ہے۔ دریائے استور بونجی کے قریب دریائے سندھ میں شامل ہو جا تا ہے۔
شمالی علاقہ جات کی صدیوں سے یہ اہمیت رہی ہے کہ چین، کشمیر، تاجکستان اور افغانستان کے لیے راستے موجودرہے ہیں۔ بلاشبہ یہ راستے زمینی درے انتہائی بلندیوں پر ہیں اور ان میں سے صرف چار پانچ ماہ کے لیے سفر ممکن ہوتارہتا ہے۔
شمالی علاقہ جات کو صوبہ کے پی کے، وادی کاغان سے ملانے والا درہ بابوسرسطح زمین سے4145 میٹر کی بلندی پر ہے۔ شاہراہ قراقرم کی تعمیر سے پہلے درہ بابوسر پا کستان کے دوسرے علاقوں کے ساتھ رابطے کا واحد ذریعہ تھا جو جون تا ستمبر چار ماہ کے لیے سفر کے لیے کھلا رہتا تھا، باقی وقت برف باری کے باعث راستہ بند رہتا تھا۔
شمالی علاقہ جات میں کئی خوبصورت وادیاں ہیں ۔ ان میں دیامر، روپال، پرستان (فیری لینڈ)، سکردو، شگر، روند و، خپلو، کھرمنگ ، گلتری، گلگت، نلتر، یاسین، اشکومن، پنیال، گو پیز، غذر، استور، ہنزہ وغیرہ اہم ہیں۔ ان وادیوں میں خوبصورت جنگلات ہیں، ان سے قیمتی عمارتی لکڑی حاصل ہوتی ہے۔قیمتی جڑی بوٹیاں حاصل ہوتی ہیں۔
ان وادیوں میں بہت لذیز پھل پیدا ہوتے ہیں ۔ باغات میں پھولوں سے شہد حاصل کیا جا تا ہے۔ ان وادیوں میں خوبصورت چراگا ہیں ہیں جہاں مال مویشی پالے جاتے ہیں جن سے دودھ، گوشت ، کھالیں اور اون حاصل ہوتے ہیں۔
شمالی علاقہ جات میں جہاں بہت سی وادیاں ہیں وہاں ہر وادی کی خوبصورتی کو چار چاند لگانے کے لیے فیروزے کی طرح چھائی ہوئی جھیلیں ہیں۔
وادی استور میں استور سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر جھیل راما ہے جس کی کش اورخوبصورتی لا جواب ہے۔ سیاح اس جھیل کے کنارے ایک رات گزارنے کو حاصل زندگی تصور کرتے ہیں ۔
بلتستان میں جھیل کپتناہ، جھیل شگر جر یہ ،جھیل غندوسی غوارشی، جھیل فوروق، جھیل دیوسائی خوبصورت جھیلیں ہیں لیکن زیادہ پرکشش جھیلیں کچورا اور ست پارہ ہیں۔ ان جھیلوں میں کشتی رانی کا شوق پورا کرنے والوں کے لیے موٹر بوٹس موجود ہیں۔ ان ساری جھیلوں میں مچھلیاں پائی جاتی ہیں۔ست پارہ کے دہانے پر ایک بہت بڑی چٹان پر بدھ کی شبیہہ کندہ ہے۔ اس جھیل کے پانی سے آب رسانی، آب پاشی اور بجلی پیدا کرنے کے فائدے اٹھائے جاتے ہیں۔ ست پارہ سکردو کے لیے بہت اہمیت کی حامل ہے۔
ہنزہ میں گلمت مرغابیوں کے شکار کے لیے مشہور ہے ضلع غذر میں گوپس کی وادی میں جھیل پھنڈر بھی قابل دید ہے۔ اس جھیل میں خوبصورت مچھلیوں کی بہتات ہے، لوگ اس جھیل میں مچھلیوں کے شکار کے لیے دور دور سے آتے ہیں ۔ نلتر، شندور، گدئی، سر کون (بونجی)، کٹوال (حراموش)، گا سو، گینا، گل اختوری قابل ذکر جھیلیں ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  میکسیکو: یہ دنیا کا بے حد دلچسپ ثقافتی سیاحتی مرکز ہے
شنگریلا ریزورٹس میں لوئر کچورا جھیل

سکردو سے قریب ہی ساڑھے نو ہزار فٹ کی بلندی پرتقریبا دوسوساٹھ مربع کلومیٹر وسیع وعریض مرتفع دیوسائی ہے۔ دیوسائی کو مقامی زبان میں نیبار سہ کہا جاتا ہے جس کے معنی ہیں ٹھنڈی جگہ ۔ گرمی کے موسم میں اس سطح مرتفع پر طرح طرح کی جڑی بوٹیاں اگتی ہیں ۔ رنگ رنگ کے خوبصورت پھول کھلتے ہیں۔ یہ جڑی بوٹیاں اور یہ پھول مختلف دواؤں کی تیاری میں استعمال ہوتے ہیں ۔ اسی موسم میں چرواہے اپنی بھیڑ بکریاں چرانے کے لیے لے جاتے ہیں ۔ وہ اس موسم میں وہیں قیام کرتے ہیں۔
شمالی علاقہ جات اپنے جغرافیائی محل وقوع کے باعث اور چین اور وسطی ایشیا کے لیے تجارتی شاہراہ ہونے کے باعث برصغیر کے حکمرانوں کے لیے ہمیشہ خصوصی اہمیت کے حامل رہے ہیں۔ ابتدا میں سکھوں اور ڈوگروں نے اور بعد میں انگریزوں نے اس علاقے میں خاص دلچسپی لینی شروع کی۔ انگریزوں نے ان علاقوں میں اپنا اثرورسوخ بڑھانا شروع کیا اس کے بعد انگریز چلاس نگر اور ہنزہ پر حملہ آور ہو گئے۔
شمالی علاقہ جات 1840-92ء کے دوران مہاراجہ کشمیر کی فوجوں اور برٹش انڈیا حکومت کی جارحیت کا شکار رہے جس کے نتیجے میں مختلف انتظامی اور سیاسی تبدیلیاں رونما ہوتی رہیں۔
۱۸۸۹ء میں برطانوی حکومت نے گلگت ایجنسی قائم کی اور گلگت اور بلتستان کو ایک انتظامی وحدت میں تبدیل کردیا۔ اس کے تین سال بعد (1892ء میں) بلتستان کو انتظامی لحاظ سے گلگت اور لداخ میں تقسیم کر دیا گیا جبکہ بلتستان کو دوسب ڈویژنوں (سکردو اور کرگل) میں تقسیم کر دیا گیا۔ استور اور حراموش کو پہلے بلتستان میں لیکن بعد میں گلگت میں ضم کر دیا گیا۔
۱۸۹۲ء میں چلاس میں برطانوی اسسٹنٹ پولیٹیکل ایجنٹ مقرر کردیا گیا۔ اس اسسٹنٹ پولیٹیکل ایجنٹ کے زیرانتظام چلاس، تانگیر اور داریل کا علاقہ مقرر ہوا۔ ۱۸۹۵ ء کوغذر، یاسین اور اشکومن کا علاقہ گلگت ایجنسی میں ضم کر دیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں:  گناہوں کا شہر

(ڈاکٹر ممتاز منگلوری)

اپنا تبصرہ بھیجیں