nawaz sharif lahore

زر ضمانت جمع کروائیں آج ہی روانہ ہو جائیں:حکومت، روانگی مشروط کرنا ناقابل فہم ہے:مسلم لیگ ن

EjazNews

پاکستان مسلم لیگ (ن) کی ترجمان مریم اورنگزیب نے وزیر قانون کی پریس کانفرنس کے بعد مسلم لیگ ن کی پوزیشن واضح کر دی ہے کہ میاں محمد نوازشریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کو مشروط کرنا ناقابلِ فہم حکومتی فیصلہ ہے ۔آئینی اور قانونی تقاضے پہلے ہی پورے کئے جاچکے ہیں ۔عدالت کے اوپر ایک حکومتی عدالت نہیں لگ سکتی ۔فیصلہ عمران صاحب کے متعصبانہ رویے اور سیاسی انتقام پر مبنی ہے۔محمد نواز شریف کے علاج میں ہر لمحہ انتہائی قیمتی اور اسے تاخیری حربوں کی نظر کرنا بدترین ظلم اور زیادتی ہے ۔
ایک طرف حکومت محمد نوازشریف کی صحت کی سنگینی کا اعتراف کر رہی ہے اور دوسری جانب انتہائی ریاکاری اور بد نیتی سے ان کے بیرونِ ملک فوری علاج میں رکاوٹیں کھڑی کر رہی ہے۔پاکستان کی سیاسی تاریخ میں سیاسی محاسبت میں کبھی کسی کی زندگی کے اِس طرح نہیں کھیلا گیا۔محمد نوازشریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کو مشروط کرنے کا حکومتی فیصلہ عمران صاحب کے متعصبانہ روئیے اور سیاسی انتقام پر مبنی ہے۔ضمانت کے وقت تمام آئینی و قانونی تقاضے پورے اور ضمانتی مچلکے جمع کرائے جاچکے ہیں۔
وزیر قانون نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا تھا کہ نواز شریف کو ایک مرتبہ علاج کیلئے بیرون ملک جانے کی اجازت ہے۔ لیکن انہیں زر ضمانت جمع کروانی ہوگی۔ حکومت کے پاس کیا یہ اختیار جب ان سے یہ پوچھا گیا تو بیرسٹر فروغ نسیم کا کہنا تھا کہ ‘حکومت کے پاس ضمانتی بانڈ مانگنے کا اختیار نہیں، ضمانت عدالت دیتی ہے تاہم 1981 کے قانون کے سیکشن 3 کے مطابق جب بھی ای سی ایل میں کسی کو ڈالا جائے تو حکومت کے پاس اس کا اختیار ہوتا ہے اور شہباز شریف کی درخواست میں بھی یہی کہا گیا تھا۔انہوں نے کہا کہ ‘اس سے قبل 2007 میں سزا یافتہ روؤف ڈی قادری کو بھی ایک بار باہر جانے کی اجازت دی گئی تھی۔
مسلم لیگ ن زر ضمانت جمع کروانے کیلئے تیار نہیں ، ان کا کہنا ہے کہ عدالتوں میں ضمانتی مچلکے جمع کروا دئیے گئے ہیں جبکہ حکومت اس بات پر اسرار کر رہی ہے کہ نواز شریف حکومت کے پاس الگ سے زر ضمانت جمع کرواکر باہر جا سکتے ہیں اور اگر علاج کیلئے توسیع درکار ہوگی تو اس کی درخواست بھی دے سکتے ہیں۔
وزیرقانون کا اپنی پریس کانفرنس میں کہنا تھا کہ آج ہی زر ضمانت جمع کروا دی جائے تو ان کا نام ایگزیٹ کنٹرول لسٹ سے ختم کر دیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں:  ہائی کورٹ ہر ڈویژن کی سطح پر ہونی چاہیے:وزیراعظم

اپنا تبصرہ بھیجیں