peshant

آپ کی صحت پر خاندانی اثرات

EjazNews

ایک خاندان میں دل کی بیماری کی موجودگی۔۔۔۔ماں یا باپ میں سے کسی ایک میں اس بیماری کا ہونا یا ان کے والدین میں اس کی موجودگی آگے اولاد میں بھی دل کی بیماری کے امکان کو قوی کر دیتی ہے۔ اگر آپ کے خاندان میں ماں یا باپ کی طرف سے ایسا ہے تو اسے اپنے ایک فیکٹر میں شمار کیجئے۔ اگر آپ کے ماں باپ دونوں ہی دل کی بیماری کے مریض رہے ہوں تو آپ کے دل کی شریانوں کے متاثر ہونے کا خطرہ عام لوگوں سے پانچ گنا تک ہے اور اگر آپ کے والدین بد قسمتی سے ہارٹ اٹیک سے دو چار ہو چکے ہوں، بالخصوص 50 سال کی عمر سے پہلے اس کا نشانہ بنے ہوں تو آپ کے لیے بھی یہ خطرہ موجود ہے کہ آپ کو بھی 50 سال کی عمرسے پہلے اٹیک ہو سکتا ہے۔ ہمارے جین کی حد تک ہماری مختاری بیماریوں کے انداز اور زندگی کے دورانیہ کو کنٹرول کرتے ہیں۔ ہائی بلڈ پریشر ذیا بطیس اور موٹاپے جیسے رسک فیکٹر جو دل کی بیماری بڑھانے کا سبب بنتے ہیں، خاص طور پر ہمارے جین میں شامل ہوتے ہیں اور نسل در نسل آگے چلتے ہیں۔ موروثی اثرات قابل ذکر حد تک زندگی اور موت کے معاملات پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ اسی وجہ سے کچھ خاندانوں میں تمباکو نوشی ،ورزش سے گریز اور بسیار خوری جیسی عادات کی رغبت ہوتی ہے۔
فن لینڈ دنیا بھر میں سب سے زیادہ دل کی بیماری رکھنے والا ملک تھا۔ وہاں مختلف سروے کیے گئے۔ ایک مطالعہ کے تحت دل کی بیماری کے خاندانی اثرات رکھنے والے 211 مردوں کے کوائف مرتب کیے گئے۔ 50 کوہارٹ اٹیک ہو چکا تھا 55 افراد دل کی بیماری کے نتیجہ میں انتقال کر گئے جبکہ 53 کو انجائنا ،بقیہ 53 افراد میں بظاہر دل کی بیماری کے اثرات موجود نہیں تھے۔ لیکن ان کے طبی معائنے میں حیرت انگیز طور پر دیکھنے میں آیا کہ ان بالغ افراد کا بلڈ کولیسٹرول عام افراد کے بر عکس دوگنا تھا جبکہ عام افراد( جن کے خاندان میں دل کی بیماری نہیں تھی) کے مقابلے میں دل کی بیماری کے خاندانی اثرات رکھنے والے مذکورہ 53 افراد کا بلڈ پریشر تین گنا زیادہ تھا۔
کیلی فورنیا میں سائنس دانوں نے کامیابی کے ساتھ ایسے جینز کی شناخت کرلی ہے جو ہائی بلڈ پریشر اور دل کی بیماری کا رسک فیکٹر بڑھاتے ہیں۔ ایک پراجیکٹ میں دل کی واضح اور مصدقہ بیماری رکھنے والے 400 مریضوں کو زیر مطالعہ رکھا گیا اور ان کا موازنہ اسی عمر اور جنس سے تعلق رکھنے والے 150 صحت مند افراد سے کیا گیا۔ ان دونوں گروپوں میں کولیسٹرول لیول کے فرق سے قطع نظر ان کے جینز میں مخصوص قسم کی تبدیلیاں دیکھنے میں آئیں۔ ایک خصوصی جین جو ایپولو پروٹین کی تشکیل کرتا ہے، ماہرین کے نوٹس میں آیا۔ جینز میں اس طرح کا ردو بدل سمجھنے کے لیے اگر چہ طویل تحقیق اور محنت کی ضرورت ہے لیکن ایک بات واضح ہوتی جارہی ہے کہ ہائی بلڈ پریشر اور ہائی بلڈ کولیسٹرول کی عدم موجودگی کے باوجود ایک فردجس کے خاندان میں دل کی بیماری پائی جاتی ہے وہ بھی اس بیماری میں مبتلا ہونے کا پورا پورا خطرہ اور امکان رکھتا ہے۔ جینیٹک ٹیسٹ کی ایک فرد میں دل کی بیماری کے خطرے کو دو ٹوک انداز میں ہاں یا نہ کی صورت میں بتاسکتے ہیں اور یہ ٹیسٹ بہت جلد رائج ہو جائیں گے۔
چونکہ خاندانی اثرات دل کی شریانوں میں خرابی کا خطرہ بڑھاتے ہیں اس لیے امریکن اکیڈی آف پیڈیاٹرکس نے ایسے خاندانوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اپنے بچوں کا کولیسٹرول لیول پوری توجہ سے نظر میں رکھیں اور وقفے وقفے سے چیک کراتے رہیں۔
ماہرین کا خیال ہے کہ برصغیر کے لوگوں میں ایسے نسلی یا خاندانی اثرات کثرت سے پائے جاتے ہیں جو معمول سے ہٹ کر ہائی کولیسٹرول کی بے قاعدگی پیدا کرتے ہیں۔
جینیاتی طور پر متعین کولیسٹرول کے تمام تر مسائل کا تفصیلی جائزہ نہ تو ہمارا موضوع ہے اور نہ عام قاری کو اس سے کوئی فائدہ ہو سکتا ہے۔ لیکن آپ کے لیے یہ سمجھنا یقینااہم اور ضروری ہے کہ ان جینیاتی بے قاعدگیوں کے نتیجہ میں درج ذیل ایک یا ایک سے زیادہ مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔
1۔ مجموعی کولیسٹرول کی مقدار (لیول) میں اضافہ ہوسکتاہے۔
2۔LDL برے کولیسٹرول کا لیول بڑھ سکتا ہے۔
3 ۔ ٹرائی گلیسرائیڈز لیول میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
4۔ HDLاچھے کولیسٹرول کی مقدار کم ہو سکتی ہے۔
بدقسمتی سے اگر آپ کو خاندانی اثرات میں جینیاتی بے قاعدگی ملی ہے تو آپ اپنا کولیسٹرول لیول کم کرنے میں پوری طرح کامیاب نہیں ہو سکتے۔

یہ بھی پڑھیں:  بچوں میں پیٹ کا درد
کیٹاگری میں : صحت

اپنا تبصرہ بھیجیں