medician

عالمی ادویہ ساز کمپنیوں کی چھٹی کرانے سے ادویات سستی نہیں ہوں گی،خام مال کو سستا کرنے سے قیمتیں کنٹرول ہوں گی

EjazNews

پاکستان کی ادویات انڈسٹری کا شمار منافع بخش صنعتوں میں ہوتا ہے غیر ملکی رپورٹوں کے مطابق پاکستان میں فارما سویٹیکل کمپنی کئی ارب ڈالر کی ہے۔ ڈھائی سے تین ارب ڈالر کی غیر ملکی ادویات کی منڈی ہمارے پاکستان میں موجود ہے۔ اس کی وجہ پانی ، فضا اور ناقص خوراک سے جنم لینے والی بیماریاں ہیں۔ ہم اپنے چاروں طرف سے مختلف طرح کے امراض سے گھرے ہوئے ہیں پانی پیتے ہیں تو پیٹ ، گلے اور کئی دوسرے امراض کا شکار ہونے کا اندیشہ ہے۔ گھر سے قدم باہر نکالیں تو فضائی آلودگی جینے نہیں دیتی۔ لٹ کی سی سی بیماری بھی کئی بیماریاں جنم دے دی رہی ہے۔ سڑکوں پر چلتے ہیں تو ہر طرف شوروغل ہے کان پڑی آواز سنائی نہیں دیتی۔ ہر کار سوار کو ہارن بجانے کا شوق ہے ۔ یوں لگتا ہے جیسے ہر کسی کا ہاتھ ہارن پر گرا ہوا ہے۔ کھانے پینے کی کوئی چیز خریدیں تو اس میں ملاوٹ ہے حتی ٰ کہ قدرتی نعمتوں میں بھی لوگوں نے ملاوٹ شروع کر دی کسی نے انجکشن کے ذریعے ملاوٹ کی تو کسی نے گندے پانی کے ذریعے سے خوراک کو ناقص بنا دیا۔ زہریلے کیمیائی مادوں میں اگنے والے صحت بخش پھل اور سبزیاں انسانی موت کا باعث بننے لگیںیوں موت کا کھیل ہمارے چاروں طرف کھیلا جارہا ہے اور کھیلنے والے نادیدہ ہاتھ قانون کی گرفت سے ابھی تک باہر ہیں۔
ماحولیاتی اور دوسری طرح کی آلودگیوں نے ہمیں بیمار ڈال دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی رپورٹوں کے مطابق پاکستان میں ادویات کی مارکیٹ کئی ارب ڈالر کی ہے۔ فارما سویٹیکل کمپنی ہماری ادویات کو بھی کئی ارب روپے کی آمدن ہو رہی ہے۔ ایکسائز ڈیوٹی، سیلز ٹیکس ، فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی یہ سب ایف بی آر کے خزان بھرنے میں معاون ثابت ہو رہے ہیں۔ فارما سویٹیکل کمپنی ٹیکس دینے والی دس بڑے شعبوں میں ہوتا ہے۔ بیماریوں کے بڑھنے کے ساتھ ساتھ ہم میں سے بہت سے لوگوں کو اندھا دھند گولیاں کھانے کی بھی عادت پڑ چکی ہے یہ ضروری بھی ہے بیماری کو اس کی جڑ پکڑتے وقت ہی قابو کر لینا بہتر ہوتا ہے ورنہ ادنیٰ سی بیماری موت کا پیغام بھی بن جاتی ہے۔
ایسے میں غریب قوم کے لیے ادویات کی قیمتوں کا تعین ایک سنگین مسئلہ ہے۔ کوئی کہتا ہے قیمت بہت کم ہے کسی کے نزدیک قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔ مقامی صنعت بیرونی ادویات کی قیمتوں میں اضافے کا واویلا کرتی ہیں اورغیر ملکی کمپنیاں پاکستانی برانڈ کو غیر مستند قرار دے کر رد کرنے کے چکر میں لگی رہتی ہیں ۔ یہ سب پیسے کا کھیل ہے جو انسانی صحت سے بھی کھیلا جارہا ہے۔ کون سچا ہے کون جھوٹا کسی کو کچھ سمجھ نہیں ۔ لیکن یہ حقیقت ہے کہ ادویات کی قیمتوں کا کوئی ٹھوس ، جامع پیمانہ ہمارے ہاں موجود ہی نہیں۔
ادویہ ساز انڈسٹری کا کام محض دوا بنانا نہیں لوگوں کو تنخواہیں دینا اور ان کا خیال رکھنا بھی ہے۔ 2001ءکے بعد سے حکومتوں نے مقامی انڈسٹری کو ادویات کی قیمتیں بڑھانے کی اجازت نہیں دی۔ ایک مضبوط ریگولیٹری نظام قائم تھا۔ لیکن اس کے باوجود مقامی صنعت نے ان 16سالوں میں اپنی قیمتو ں میں اضافہ کیا اور یہ اضافہ مارکیٹ کو مد نظر رکھ کر بڑی آسانی سے پتہ چلایا جاسکتا ہے۔ لہٰذا یہ کہنا درست نہیں کہ ماضی کے 16-17سالوں میں ادویات کی قیمتوں میں کوئی اضافہ نہیں کیا گیا۔ مقامی اور غیر مقامی فارما سویٹیکل انڈسٹری وقتاً فوقتاً مارکیٹ ریٹیل کی قیمت میں اضافہ کرتی رہی ہے۔
2015ءمیں حکومت نے ادویات کی قیمتوں میں اضافہ کا ایک ایس آر او جاری کیا یہ ایس آر او صبح جاری کیا اور شام کو واپس ہوگیا بظاہر اس ایس آر او کو اجراءمخصوص چند ہاتھوں کو فائدہ پہنچانے کے لیے کیا گیا تھا اور انہوں نے اس سے فائدہ اٹھایا۔ کچھ اداروں نے اپنی قیمتیں ایس آر او کے جاری ہوتے ہی بڑھا لیں وہ فائدے میں رہے اور قیمتوں میں اضافہ کا سوچنے والے سوچتے ہی رہ گے۔ یوں اس ایس آر او کا فائدہ چند مخصوص ہاتھوں کو پہنچا۔ یہ بات محو نظر رہے کہ ٹیکسوں کی شرح ادویات کے مختلف مداخل پر مختلف ہے۔ کسی پر تین فیصد کسی پر 11فیصد ہے ۔ بلڈ پریشر کی ادویات پر ٹیکسوں کی شرح مختلف ہے۔
اس وقت مقامی صنعت ادویات کی تقریباً 60سے 70فیصد ضروریات کو پورا کر رہے ہیں کچھ انفرادی طور پر اور کچھ غیر ملکی کمپنیوں کے ساتھ اشتراک کے ذریعے سے کام کر رہی ہیں۔ فارما سویٹیکل کمپنی کے بعض کرتا دھرتاﺅ نے دھمکی دی ہے کہ ہم اس وقت تک کام کریں گے جب تک ہمیں منافع نظر آئے گا۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ سندر کی انڈسٹریل سٹیٹ میں کئی کارخانے نامکمل پڑے ہیں۔ ان کے مطابق خام مال مہنگا ہونے سے مقامی ادویات کے مہنگے ہونے کا خدشہ ہے۔ کیونکہ درآمدی خام مال کا ایمپکٹ ادویات پر 70فیصد آتا ہے کیونکہ ادویات کی کئی اشیاءدرآمد کی جاتی ہیں۔
جہاں تک عالمی برانڈ اور مقامی مصنوعات کے معیارات کا تعلق ہے تو عالمی مشینری سے بنائی جانے والی ادویات میں بظاہر کوئی فرق نہیں ہونا چاہیے لیکن ہمارے ہاں اصل مسئلہ ادویات کی ٹرانسپوٹیشن کا ہے۔ہماری سپلائی چین کا نظام ناقص ہے۔ سٹوریج کی سہولت بھی دستیاب نہیں چنانچہ پاکستان میں ہر قسم کی ادویات کی تیاری کے باوجود سٹوریج اور ٹرانسپوٹیشن نہ ہونے کی وجہ سے کچھ ادویات کی کوالٹی وہ نہ رہتی ہو بالخصوص ادویات دیہات تک پہنچتے پہنچتے خراب ہونے کا اندیشہ ہے۔ چنانچہ اس مشکل سے نجات پانے کے لیے کھلی ادویات کی تیاری ختم کر دی گئی ہے۔ ایک وقت تھا جب ہر قسم کی گولیاں کھلی اور شیشیوں میں ملتی تھیں۔ اب ان کی پیکنگ شاندار اور مہنگی ہو گئی ہے۔بعض لوگوں نے پیکنگ کو ہلکا کر کے ادویات کو سستا کرنے کا مطالبہ کیا ہے لیکن ادویات ساز شخصیات کے مطابق پیکنگ کو بہتر سے بہتر بنانا ضروری ہے یہ دواﺅں کو موسمی اثرات سے بچانا کے لیے ضروری ہے۔ پاکستان میں بننے والی بہت سی ادویات کی پیکنگ اس قدر اچھی ہے کہ وہ اسے عام موسمیاتی تبدیلیوں سے محفوظ رکھنے میں کافی ہے۔ نمی اور حرارت کے اثرات سے محفوظ رکھتی ہے۔
بعض ممالک میں ادویات کی قیمتوں کو ان کی فارما سویٹیکل تنظیمیں کنٹرول کرتی ہیں۔ بنگلہ دیش میں ادویات کے سستے ہونے کی بڑی وجہ یہ ہے کہ وہاں مقامی انڈسٹری نے بہت زیادہ ترقی کر لی اور انٹرنیشنل ادارے نہ ہونے کے برابر ہیں اس کا یہ مطلب نہیں کہ عالمی ادویہ ساز کمپنیوں کی چھٹی کرانے سے ادویات سستی ہو جائیں گی۔ یہ ممکن نہیں۔ دراصل خام مال کو سستا کرنے کی ضرورت ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  گھریلو تشدد کی ہمارے ہاں کیا صورتحال ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں