hazrat ayisha

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا ذکر خیر

EjazNews

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی ہیں، حضرت خدیجہ ؓ کے انتقال کے بعد چھ سال کی عمرمیں ان کانکاح ہوا۔ نکاح کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا مکہ میں تین سال قیام رہا جب آپ نے ہجرت کی تو آپ نے مدینہ جا کر ابوبکر ؓ کو بھیجا کہ ام رومان ، اسماءؓ اور عائشہ کو یہاں لے آئیں۔ نیز رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے زیدبن حارثہ ؓ اور ابو رافع ؓ کوبھی حضرت فاطمہ ؓ ، ام کلثومؓ اور حضرت سودہ ؓ وغیرہ کے لانے کے لیے روانہ فرمایا۔ مدینہ میں آکر حضرت عائشہ ؓ سخت بخار میں مبتلا ہوگئیں جس کی وجہ سے سر کے بال جھڑ گئے۔ صحت کے بعد ام رومان کو رسم عروسی ادا کرنے کا خیال آیا۔ اس وقت حضرت عائشہ ؓ کو آواز دی ان کو اس واقعہ کی بالکل خبر نہیںتھی۔ ماں کے پاس آئیں انہوں نے منہ دھویا۔ بال درست کئے،گھر میں لے گئیں۔ انصاری عورتیں انتظار میں تھیں۔ یہ گھر میں داخل ہوئیں تو سب نے مبارکباد دی۔ چاشت کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور رسم عروسی ادا ہوئی۔ شوال میں نکاح ہوا تھا اور شوال ہی میں یہ رسم بھی ادا کی گئی۔ حضرت عائشہ ؓ نو سال تک رسول اللہ ﷺ کے ساتھ رہیں جس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انتقال فرمایا تھا تو اس وقت حضرت عائشہ ؓ کی عمر اٹھارہ سال کی تھی۔ آنحضرت ﷺ کی وفات کے بعد حضرت عائشہ ؓ تقریباً اڑتالیس سال تک زندہ رہیں۔57ھ میں وفات ہوئی اس وقت ان کی عمر چھیاسٹھ سال کی تھی۔ وصیت کے مطابق جنت البقیع میں رات کے وقت دفن ہوئیں۔ حضرت عائشہ ؓ بڑی فاضلہ عالمہ تھیں دو ہزار دو سو دس حدیثیں ان سے مروی ہیں۔ بڑے بڑے علماءکی استانی تھیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مردوں میں تو بہت سے لوگ کمال کے درجے کو پہنچے مگر عورتوں میں صرف مریم ؑ بنت عمران اور آسیہؑ زن فرعون ہی کمال کو پہنچی ہیں اور حضرت عائشہ ؓ کے بارے میں فرمایا:
ترجمہ: اورعائشہؓ کوتو سب عورتوں پرایسی ہی فضیلت حاصل ہے جیسے ثرید کو سب کھانوں پر ہے۔
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے ان کو طیبہ ٹھہرایا ہے اوران کی برات اور پاک دامنی اور سچائی کے سلسلہ میں ایک پورا رکوع ہے اور بخاری وغیرہ کی حدیثوں میں اس کی بڑی تفصیل ہے۔ اس واقعہ سے حضرت عائشہ ؓ کے زہد و تقوی ، طہارت، عفت اور عصمت، حلم، بردباری اور تواضع اور خاکساری وغیرہ کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے۔ بعض دفعہ قرآن مجید کا نزول ان کے گھر میں ہوتا تھا۔ فرشتے حضرت عائشہ ؓ کو سلام کرتے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جبرائیل تشریف فرما ہیں تم کو السلام علیکم کہتے ہیں۔حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا وعلیہ السلام ور حمة اللہ۔
حضرت عائشہ ؓ کے سبب سے مسلمانوں پر بڑی بڑی برکتیں نازل ہوئیں ہیں۔ تیمم کی آسانی انہیں کی وجہ سے ہوئی ہے۔ حضرت عائشہ ؓمجاہدین کی خدمت کرتیں تھیں۔غزوات میں اپنے کندھوں پر پانی کی مشکیں اٹھا کر لاتیں اور زخمی لوگوں کو پلاتی تھیں۔ غریبوں کی بڑی ہمدردی کرتی تھیں، اللہ کے راستے میں بہت خرچ کرتی تھیں اور زخمی لوگوں کوپانی پلاتی تھیں ۔غریبوں کی بڑی ہمدرد ی کرتی تھیں۔ اللہ کے راستے میں بہت خرچ کرتی تھیں۔ یاد الٰہی میں ہر دم مصروف رہتی تھیں تواریخ اور سیرت کی کتابوں میں ان کی فضیلت اور واقعات کی پوری تفصیل ہے۔ اس لیے تم بھی حضرت عائشہؓ کی طرح بنواوران کے نقش قدم اور طریقوں پر چلنے کی کوشش کرو۔

یہ بھی پڑھیں:  حضرت حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا ذکر خیر

اپنا تبصرہ بھیجیں