smog persong

سموگ دنیا بھر کا مسئلہ ہے ،لیکن وہاں اس کے حل بھی تلاش کیے جارہے ہیں،ہمارے ہاں؟

EjazNews

لفظ اسموگ سب سے پہلے ڈاکٹر ہنری اینٹوائن(Dr. Henry Antoine) نے 1905ء میں اپنے ایک ریسرچ پیپر میں پہلی بار استعمال کیا تھا۔ڈاکٹر ہنری کے مطابق شہر کی فضا میں دھند اور دھواں مل کرا سموگ کو جنم دیتا ہے، جبکہ دیہی علاقوں میں اسموگ کا نام و نشان تک نظر نہیں آتا۔ موسم سرما میں دھند ہونا معمول کی بات ہے، لیکن چندبرسوں سے فضائی آلودگی میں اضافے کے سبب، خصوصاً پنجاب میں اسموگ نے معمولات زندگی ہی متاثر نہیں کیے، بلکہ صحت کے لیے انتہائی خطرناک بھی ثابت ہورہی ہے۔ جب ہوا میں نمی اور گرم پانی سے اُٹھنے والے بخارات کی تعداد زیادہ ہوجائے،تو فضا کو دھند گھیر لیتی ہے،جس سے ٹریفک حادثات رونما ہوتے ہیں،تاہم یہ کسی خاص عارضے کا سبب نہیں بنتی،جبکہ ’’ایک تحقیق کے مطابق ایک سال میں اسموگ کی وجہ سے تقریباً دس ہزار بچّے موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔
عالمی ادارۂ صحت کی جاری کردہ ایک رپورٹ کے مطابق دنیا بھر کی شہری آبادی کا 80فیصد حصّہ آلودہ فضا میں سانس لینے پر مجبور ہے،جو سالانہ 70لاکھ اموات کی وجہ بنتی ہے۔ ایک اور تحقیق کے مطابق جو افراد طویل عرصے تک فضائی آلودگی کا سامنا کریں، اُن کی ذہنی صلاحیتوں پر مضر اثرات مرتّب ہوتے ہیں اور یہ اثرات عُمر کے ساتھ ساتھ بڑھتے چلےجاتے ہیں۔تاہم، اس سے کم تعلیم یافتہ افراد سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ عالمی ادارۂ صحت کے مطابق دُنیا کی91فیصد آبادی ایسے مقامات پر رہائش پذیر ہے، جہاں کی فضا عالمی ادارۂ صحت کے متعین کردہ معیار سے قدرے زیادہ خراب ہے۔ ایک طبّی جریدے کی رپورٹ کے مطابق 2015ء میں دُنیا بھر میں 90لاکھ افراد کی ہلاکت آلودگی کی وجہ سے ہوئی تھی،جن میں سے 92فیصد اموات ترقّی پذیر مُمالک میں ہوئیں۔اسموگ کی ایک وجہ فصلوں کی کٹائی کے بعد بچ جانے والا کچرا یعنی جڑیں، ٹہنیاں اور شاخوں کا جلانا بھی ہے۔اگرچہ مقامی طور پر تو یہ جلایا ہی جاتا ہے، لیکن سرحد پار بھارت میں جلائے جانے والے کچرے کے سبب بھی اسموگ ایک گہری تہہ پاکستان، بالخصوص سرحدی علاقوں اور لاہور کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔ ایک وقت تھا جب لاہور میں ٹریفک کم اور سبزہ زیادہ تھا تو اس اسموگ کا پتہ بھی نہیں چلتا تھا لیکن جیسے ہی یہ شہر سبزے کو ختم کر کے ریت اور سیمنٹ کو بڑھاتا جارہا ہے اسموگ بھی بڑھتی ہی جارہی ہے۔ایک بھارتی اخبار کے مطابق روزانہ اوسطاً چار ہزار کے قریب دھان کے کھیتوں سے بچ جانے والی شاخیں اور جڑیں جلائی جاتی ہیں اور اس کا دھواں پاکستان، پنجاب، بالخصوص، لاہور کی فضا کو انتہائی آلودہ کرنے کا سبب بن رہا ہے۔ یہ دھواں مغربی سمت چلنے والی ہوائوں کی وجہ سے پاکستان میں پہنچتا ہےاوران ہوائوں کی رفتار سات آٹھ کلومیٹر فی گھنٹہ ہوتی ہے۔
موسمِ سرما میںجب کوئلے کی کھپت بڑھتی ہے، تو چین کے کئی علاقوں میں اسموگ کی وجہ سے ایئرپورٹس، شاہراہیں، سکولز وغیرہ بند کرنے کی نوبت آجاتی ہے۔اسموگ کی دوسری بڑی وجہ ٹرانسپورٹ سے خارج ہونے والا دھواں، مختلف کیمیائی مادے اور کاربن کے ذرات وغیرہ بھی ہیں، خصوصاً بڑے شہروں میں نہ صرف ٹریفک زیادہ ہوتی ہے، بلکہ کئی کئی گھنٹے جام بھی رہتی ہے۔ ٹرانسپورٹ سے خارج ہونے والا دھواں حد درجہ مضرِ صحت ہے کہ اس میں دھوئیں کے ساتھ ساتھ کاربن مونو آکسائیڈ، نائٹروجن آکسائیڈ، ایندھن سے خارج ہونے والے بخارات، سلفرڈائی آکسائیڈ اور ہائیڈرو کاربن وغیرہ شامل ہوتے ہیں اور ان تمام کیمیائی مادّوں کے اثرات تب اور بھی زیادہ مضر ہوجاتے ہیں، جب یہ تمام مادّے سورج کی روشنی، حرارت، امونیا اور نمی سے ری ایکشن کر کے خطرناک ذرّات میں تبدیل ہو جائیں۔ اس پورے عمل میں نہ صرف اسموگ کی شدّت میں اضافہ ہوتا ہے، بلکہ فضا میں پائی جانے والی حفاظتی تہہ، اوزون کو بھی ناقابل تلافی نقصان پہنچتا ہے، جس سے انسانی زندگی کو مزید خطرات لاحق ہوجاتے ہیں۔کرپشن کا ناسور معاشرے میں اس قدر پھیل چکا ہے کہ متعلقہ محکمے پیسے لے کر دھواں چھوڑتی گاڑیوں کو چیک کیے بغیر ہی سرٹیفکیٹس جاری کر دیتے ہیں اور ان افراد کو اس بات کا احساس تک نہیں ہوتا کہ وہ خود اور ان کی فیملی بھی اسی ماحول میں رہ رہے ہیں۔ اور ان پر بھی اسموگ دیگر افراد کی طرح ہی اثر انداز ہوگی۔
2015ء میں برطانوی سپریم کورٹ نے بھی حکم دیا کہ حکومت فضائی آلودگی مزید کم کرنے کے اقدامات کرے ۔اس عدالتی حکم کی پاس داری کے ثمرات2018ء میں حاصل ہو ئے۔ کئی ممالک اس کوشش میں مصروف ہیں کہ ایسی گاڑیوں کو فروغ دیا جائے، جو عام ایندھن کی بجائے بجلی سے چلیں، پاکستان میں بھی کوشش کی جارہی ہے کہ بجلی سے چلنے والی گاڑیوں کو متعارف کروایا جائے۔دنیا بھر میں ایسے جدید ترین ویکیوم ایئرکلینر لگائے جا رہے ہیں، جو تیس ہزار مکعب میٹر فی گھنٹہ کے حساب سے ہوا کی آلودگی صاف کرتے ہیں۔ یوں اُس مخصوص مقام پر چھائی اسموگ کافی حد تک کم ہوجاتی ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے مُلک میں نہ تو حکمرانوں کی توجّہ عوامی مسائل پر مبذول ہے اور نہ ہی عوام اپنی صحت کا خیال رکھنے کا شعور رکھتے ہیں۔
یاد رہے، اسموگ کی ایک وجہ ہریالی اور درختوں کی کمی بھی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  اٹیکسیا کیا ہے ؟
کیٹاگری میں : صحت

اپنا تبصرہ بھیجیں