weapons

پاکستان میں اسلحہ پرپابندیوں کے قوانین اور صورتحال

EjazNews

پاکستان کے مختلف حصوں میں ضرورت بھی ہے اور نمائشی حیثیت کے حامل بھی۔ خیبر پختونخواہ کے بعض علاقوں میں راکٹوں سے بم چلانے کے بھی واقعات ہوئے۔ طویل الرینج اور کم رینج کے راکٹوں کی بھی وہاں تیار کیے جاتے ہیں اینٹی ائیر کرافٹ گنیں اور مارٹر بھی خریدے جاسکتے ہیں۔ پنجاب اور سندھ میں اسلحہ لوگوں کی ضرورت ہے۔ بڑھتے ہوئے جرائم کے باعث یہ اب ضرورت بن چکا ہے لیکن خیبر پختونخواہ اور بلوچستان میں یہ ان کی روایت کا حصہ ہے۔ آئین ہر شخص کو اس کے تحفظ کی ضمانت دیتا ہے دنیا بھر میں شریف شہریوں کو جان و مال کے تحفظ کے لیے اسلحہ کی خریداری کا حق دیا گیا ہے۔ مگر پاکستان میں پشاور کے نزدیک درہ آدم خیل میں انگریز کے زمانے سے ہی زبردست ہتھیار بنائے جارہے تھے خود انگریز بھی حیران تھے کہ قبائلی علاقوں نے لوہے کی صنعت میں اس قدر ترقی کر لی تھی کہ وہ وہاں پر انگریزوں کے مد مقابل آنے والے ہتھیاروں کی تیاری میں مگن تھے ۔اس زمانہ میں انگریزوں نے ان کے ایک ہتھیار کو لی اینڈ فیلڈ Lee-Enfiel.303رکھا تھا۔ چربہ سازی میں قبائلی علاقوں کا کوئی ثانی نہیں ۔ کلاشنکوف کے نمونے پر انہوں نے اپنی کلاشنکوف بنائی حتیٰ کہ منی کلاشنکوفیں بھی بنا ڈالیں اور پھر جیمز بانڈ یا ٹین گن کے نام پر بھی ہتھیار بنا ڈالے۔ 2005ءمیں ہمالیہ کی بلند و بالا پہاڑیوں میں سفر کرنے والے مائیکل پالن نے اپنی 288صفحات پر مشتمل کتاب میں اس کا تفصیلی تجزیہ پیش کیا ہے۔ بقول پالن پاکستانی قبائلی علاقوں میں ہر قسم کے ہتھیار بنائے جارہے ہیں۔انہوں نے پاکستانی علاقوں کو ہتھیار سازی کے لیے موزوں قرار دیا۔
چند سال قبل خیبر پختونخواہ میں سیاحوں کو غبارے پھاڑنے یا ہوا میں کلاشنکوف کا ایک فائر کرنے کا شغل بھی کھیلا جاتا تھا یہ کھیل عام تھالوگ کندھوں پر کلاشنکوفیں لٹکائے پھرتے تھے اور کوئی بھی سیاہ بلند و بالا چوٹیوں کے بیچ میں کلاشنکوف کی گولی چلا کر اپنے سفر کے لطف کو دوبالا کر سکتا تھا گولیوں کی گونج خرناس پہاڑوں سے ٹکرا کر واپس آتی اورگولی چلانے والاخوش ہو جاتا یہ ممنوعہ خیال تھا کلاشنکوف چلنے کے چند منٹوں بعد آنافاناً لوگ غائب ہو جاتے،پنجابی اور کشمیری ثقافت میں بھی بندوق کو یا ہوائی فائرنگ کو ایک خاص حیثیت حاصل ہے ۔ یہ شوق مشرق وسطیٰ اور ملتان میں بھی پایا جاتا ہے اور افغانستان کو تو اس کا صدر مقام کہا جاسکتا ہے۔ کیوڈو ریکو اور امریکہ کے کچھ ممالک میں بھی ہوائی فائرنگ کرنا ایک روایت کا حصہ ہے۔
پاکستان میں0.38کی بندوق کی حد مقرر تھی۔ لائسنس یافتہ شہری کسی بھی قسم کی شارٹ گن گھر اور گاڑی میں رکھ سکتے تھے۔ وزارت داخلہ نے ملک بھر میں کارآمد اسلحہ کے لاکھوں لائسنس جاری کر رکھے تھے چنانچہ پاکستان مکمل طور پر آٹو میٹک ، نیم آٹو میٹک اور ہینڈ گنوں یعنی پستولوں اور ریفلوں کا ایک اچھا خاص مرکز بن گیا ۔ کچھ لوگوں نے اندرون ملک اور بہت سے لوگوں نے بیرون ملک سے اسلحہ درآمد کیا۔ یہ لوگ اپنے ہر اسلحہ کو لائسنس پر چڑھانے کے پابند تھے۔
پاکستان میں اسلحہ کی خریدو فروخت کا کاروبار زیادہ وسیع نہیں۔ قانونی طور پر مجاز اسلحہ ڈیلر ہی لائسنس یافتہ شخص ہتھیار خرید سکتا ہے اس بارے میں قوانین زیادہ واضح نہیں۔ کچھ اسلحہ ڈیلروں نے قوانین میں ابہا م کا خوب فائدہ اٹھایا۔کسی بھی آٹو میٹک ہتھیار کو ایک پن نکال کر نیم خود مختار ہتھیار میں تبدیل کیاسکتا ہے ۔کچھ لوگوں نے اس وقت ہتھیار خریدے جب اس کی قیمت 3لاکھ تھی ایک طویل اور لمبے عمل کے ذریعے منگوائے گئے ۔
پاکستان میں تعلیمی اداروں، ہوسٹلوں ، میلوں اورسیاسی اور مذہبی تقریبات اور عدالتوں کو اسلحہ فری زون قرار دیا ہے۔ بڑے بڑے سکینر ان عمارتوں کے باہر تعینات کیے گئے ہیں ۔ پولیس کے چوکس جوان جیبوں اور کمر پر ہاتھ مار کر اسلحہ کا پتہ لگانے کی ناکام کوشش کرتے ہیں۔ عدالتوں میں پیش آنے والا قتل کا واقعہ اس کی افسوسناک مثال ہو سکتا ہے۔ ریاستی ادارہ پولیس امن و امان کی بحالی میں بری طریقے سے ناکا م رہا اسلحہ ہوسٹلوں میں بھی موجود ہے اور سیاسی اجتماعات میں تو اس کا دکھاوا کسی سے ڈھکا چھپا نہیں بلکہ پولیس کی موجودگی میں ہر سیاسی جلسے میں اسلحہ کی نمائش کی جاتی ہے۔ مقدمات درج ہونے کے بعد ان کی تفتیش کا کچھ پتہ نہیں چلتا۔
قانون کے تحت غیر قانونی اسلحہ رکھنے والے شہری کو 7سال کے لیے جیل کی سلاخوں کے پیچھے بھیجا جاسکتا ہے لیکن ایسا ماضی میں کبھی نہیں ہوا۔ چنانچہ 2010ءمیں پیپلز پارٹی کی حکومت نے غیر قانونی اسلحہ جمع کروانے کی تحریک شروع کی۔ رضا کارانہ طور پر اسلحہ جمع کروانے والوں کو عام معافی کا اعلان کیا۔ 89ہزار ہتھیار پولیس کے پاس جمع ہوئے پتہ نہیں ان کا کیا بنا ،ری سیل ہوئے یا بے کار ۔ لیکن کہا جاتا ہے کہ 89ہتھیار واپس ہوئے۔ ماضی میں کئی حکومتوں نے اسلحہ جمع کروانے والوں کے لیے عام معافی کا اعلان کیا۔ اس سلسلے میں وفاقی حکومت نے 2010ءمیں ایک رپورٹ بھی مرتب کی تھی۔ اور اس رپورٹ کی باز گشت اقوام متحدہ میں بھی سنی گئی۔اس رپورٹ نے حکومت پاکستان نے اسلحہ کی غیر قانونی تجارت کے خاتمے میں اپنے اقداما ت کا ذکر کیا تھااور بتایا تھا کہ کس طرح حکومت پاکستان ناجائز اسلحہ کی روک تھام کے لیے اقوام متحدہ کے قانون پر عمل پیر ا ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق مختلف سکیموں میں 641107ہتھیار جمع کروائے۔ افواج پاکستان نے ہزاروں کی تعداد میں طالبان سے اسلحہ لے کر تباہ کر دیا۔
اگست 2017ءمیں ملک کو ہتھیاروں سے پاک کرنے کا حکومت نے عندیہ دیا تھا جس پر بعض سیاسی شخصیات نے اپنے خدشات کا اظہار کیا تھا۔ شریف شہریوں سے اسلحہ واپس لینے کے بعد ان کے جان و مال کے تحفظ کی ضمانت کون دے گا۔ یہ ایک سوال وفاقی کابینہ میں بھی گردش کرتا رہا اور مختلف وزارتوں کے اجلاسوں میں بھی اس کی بازگشت سنائی دی۔کئی لوگوں نے اسے قومی مفاد کے منافی قرار دیا۔ دوسری طرف انہوں نے یہ بھی کہا کہ ملک میں پایا جانے والا خود کار ہتھیار کس کی مرضی اور منشا سے سمگل ہوئے بعض لوگوں کے خیال میں پولیس کی غفلت ہی ملک بھر میں اسلحہ کی سمگلنگ کا سبب بنی۔
2006ءتک ہر کو ئی ممنوعہ بور کا لائسنس لینے کا مجاز نہ تھا صرف ارکان اسمبلی اور سینیٹر ہی یہ اعزا ز حاصل کر سکتے تھے تاہم 2007ءمیں ارکان صوبائی اسمبلی بھی شامل ہوگئے ،رہے گینگسٹر تو وہ تو کہیں سے بھی اپنا اسلحہ خرید سکتے ہیں۔
29دسمبر 2017ءپاکستان میں اسلحہ لائسنس رکھنے والوں کے لیے اچھا نہ تھا وفاقی وزارت داخلہ نے تمام لائسنس یافتگان کو خود کار ہتھیار اور ممنوعہ بور کا اسلحہ لائسنس جمع کرانے کا حکم دیا گیا اس کے لیے 31جنوری 2018ءکی تاریخ مقرر کی گئی جو کب کی ختم ہو چکی۔ وفاقی حکومت کا یہ فیصلہ نیا نہیں اس قسم کے اقدامات سابق حکومتیں بھی اٹھا چکی ہیں بلکہ 1990ءکی دہائی میں بھی ممنوعہ اسلحہ کے قوانین نافذ کیے گئے اس وقت سپریم کورٹ نے اسلحہ لائسنس کی تنسیخ کو انسانی بنیادی حقوق کے منافی قرار دیتے ہوئے منسوخ کر دیا تھا۔ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں لکھا تھا کہ کسی بھی شخص کو سنے بغیر اس کا فیصلہ نہیں کیا جاسکتایعنی اسلحہ لائسنس رکھنے والوں کا موقف سنے بغیر لائسنس کی تنسیخ تمام قانونی تقاضے پورے نہیں کرتے اس وقت حکومت نے سپریم کورٹ کا فیصلہ مان لیا۔ اور لاکھوں لوگوں کو ملک بھر میں ریلیف مل گیا۔ اب ایک مرتبہ پھر وفاقی حکومت نے اسی قسم کا فیصلہ جاری کیا ہے۔ چنانچہ روزانہ ہی عدالتوں میں متعدد درخواستیں دائر کی جارہی ہیں لوگ اپنے تحفظ کے لیے عدالتوں کا ر خ کر رہے ہیں۔وکلاءلائسنسوں کو بچانے کے لیے طویل قانونی جنگ کے لیے تیار ہیں ایک اندازے کے مطابق عدالتوں میں اس مقصد کے لیے بہت زیاد مقدمات دائر کیے گئے۔
حکومت نے لائسنس کے اجراءکے لیے کئی شرائط عائد کیں۔ مثلاً انکم ٹیکس دہندہ ہونا چاہیے۔ یا کم از کم زرعی ٹیکس تو دیتا ہو۔ مصلح افواج یا گزٹیٹ افسروں کو بھی اسلحہ لائسنس دیا گیا جبکہ غیر ملکی سفارت کار بھی وزارت خارجہ کی سفارش پر لائسنس لے سکتے تھے۔ رجسٹرڈ سکیورٹی کمپنیاں بھی لائسنس کی حقدار تھیں جبکہ ڈاکٹر، انجینئر اور وکلاءبھی لے سکتے تھے وزارت داخلہ کی منظور سے کوئی بھی تنظیم، گروپ یا شخص اسلحہ کا لائسنس لے سکتا تھا اس وقت وفاقی حکومت نے فروری 2014ءمیں وفاقی حکومت نے لائسنس کے اجراءکا ایک کوٹہ مقرر کر رکھا تھا۔کراچی اور لاہور کے لیے 40سے زائد لائسنس ماہانہ جاری نہیں کیے جاسکتے تھے جبکہ حیدر آباد، سکھر ملتان ، پشاور کے لیے اس کوٹہ کی حد 30مقرر تھی دیگر اضلاع میں 20لائسنس ماہانہ جاری کیے جاسکتے تھے۔ سابق قانون کے مطابق ڈی سی او کی سفارش پر سیکرٹری داخلہ لائسنس جاری کرتا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:  اپنے پیسے کی حفاظت خود کرنا پڑتی ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں