sarfaraz ahmed

بابر ابھی سیکھ رہا ہے اسے ابھی کچھ وقت دینا چاہئے: سابق کپتان سرفراز احمد

EjazNews

پاکستان ٹیم کے سابق کپتان سرفراز کو جب کیپٹن شپ سے ہٹایا گیا تو اس کے بعد وہ پہلی مرتبہ میڈیا کے سامنے آئے ہیں۔ انہوںنے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ بطور کپتان میں نے سو میچ پاکستان کیلئے کھیلیں ہیں۔جس میں سے پچاس او ڈی آئی ہیں، 13ٹیسٹ اور 37ٹی ٹونٹی ہیں۔ میں نے بطورکپتان کوشش کی کہ جتنا میں بہتر پرفارم کر سکوں میں نے کیا ۔
ایک سوال کے جواب میں سرفراز کا کہنا تھا کہ وسیم خان صاحب لاہور سے میرے پاس آئے تھے انہوں نے کہا کہ آپ پریس کانفرنس کرناچاہیں گے تو میں نے کہا نہیں آپ نے ہی مجھے کیپٹن بنایا تھا اور اب یہ جو فیصلہ آپ نے کیا آپ کی مرضی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ساری چیزیں پوزیٹو تھیں۔
جب ان سے موجودہ ٹیم کے بارے میں پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا مجھے اس بات کا کوئی افسوس نہیں ہے کہ مجھے کیوں ہٹایا گیا میری نیک خواہشات بابر اعظم کے ساتھ ہیں۔وہ زیادہ سے زیادہ پاکستان کیلئے کھیلیں اور فتح حاصل کریں۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ یہ ٹیم بھی آسٹریلیا جا کر ہاری ہے تو ان کا کہناتھا کہ ابھی ٹیم کو تھوڑا ٹائم دینا چاہیے ، آسٹریلیا کا دورئہ بہت مشکل ہوتا ہے۔ کسی کے بارے میں کوئی رائے رکھنا بہت قبل از وقت ہے۔کبھی کبھار آپ بیسٹ ٹیم لے کر بھی جاتے ہیں تو وہ پرفارمنس نہیں دے پاتی ۔ میں سمجھتا ہوں پلیئر پر برا اور اچھاوقت آتا رہتا ہے، فخر زمان آپ کا ہیرو تھا اس نے ماضی میں پاکستان کیلئے چیمپیئن ٹرافی میں بہت اچھا کھیلا ہوا ہے۔ ہمیں اپنے پلیئر کوسپورٹ کرنی چاہیے اور نئی مینجمٹ کو ابھی کچھ ٹائم ضرور دینا چاہیے۔
سرفراز کا بابر اعظم کے بارے میں کہنا تھا کہ وہ میرا وائس کیپٹن ہی ہوا کرتا تھا۔ ابھی وہ نیا ہے ، ہم سب اس کو جتنا سپورٹ کر سکتے ہیں کریں، ینگ کپتان کیلئے آسان نہیں ہوتا کہ اتنی مضبوط ٹیم کے سامنے لڑے۔ آسٹریلیا مشکل ٹیم ہے، آپ سپورٹ کریں بابراعظم ابھی سیکھ رہاہے۔
انہوں نے پی سی بی کے چیئرمین کا شکریہ ادا کیا کہ انہوںنے مجھے اعتماد میں لیا ۔ اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے میڈیا اورفینز کا بھی شکریہ ادا کیا کہ جس طرح انہیں سپورٹ کیا گیا ۔ان کا کہناتھا کہ میری تمام تر دعائیں پاکستانی ٹیم کیلئے ہیں اور یہ ٹیم ضرورٹیسٹ میں متعارف کروائیں گی۔

یہ بھی پڑھیں:  قرضوں پر ایک سال کا ریلیف مل گیا ہے:وزیر خارجہ

اپنا تبصرہ بھیجیں