imran khan speech -12rabul awal

میرا ایمان ہے اگر دنیا میں کسی نے عظیم انسان بننا ہے تو وہ نبی کریم ﷺکو رول ماڈل بنالے:وزیراعظم عمران خان

EjazNews

وزیراعظم عمران خان کا اسلام آباد میں رحمت اللعالمین کانفرنس میں خطاب کرتے ہوئے کہنا تھاکہ میرا مدینہ کی ریاست پر زور دینا اور نوجوانوں کو کہنا کہ نبی ﷺ کی زندگی سے سیکھو یہ میری زندگی کا تجربہ ہے۔ میں نے دنیا میں کرکٹ کھیلی اور پورے پاکستان کو میں جانتا ہوں اور یہ میری زندگی کا سفر تھا شروع میں مجھے اس کی خبر ہی نہ تھی۔ والد صاحب مجھے زبردستی جمعہ کی نماز کے لیے لے جاتے تھے ان کی عزت کرتا تھا اس لیے چلا جاتا تھا یا عید کی نماز کیلئے اس کے علاوہ میرا کوئی ایمان نہیں تھا۔ میں یہ جو سفر طے کر کے پہنچا ہوں یہ میں اپنی زندگی کے تجربے سے سیکھا ہے۔میں یہ جو سچ پر پہنچا ہوں یہ ایک بڑا سفر تھا اور یہ سفر تو چلتا جائے گا یہ ایک سمندر آپ ایمان کے کتنے درجوں پر پہنچتے جائیں گے آپ جتنی عبادت کرتے جائیں گے جتنا پڑھتے جائیں گے تو آپ کو پتہ چلے گا کہ آپ کو کتنا کم پتہ ہے۔ کہ یہ کتنا بڑا سفر ہے۔ میں اس نتیجے پر پہلے ہی پہنچ گیا کہ ہم دنیا میں رول ماڈل ڈھونڈتے ہیں ۔جب میں کرکٹ کھیلتاتھا تو میرے رول ماڈل تھے جو بدلتے جاتے تھے۔آپ سوچتے ہیں کہ میں اس طرح کا بننتا چاہتاہوں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کے والدین نے انہیں بہترین سکولوں میں بھیجا ۔ وہاں ہمیں کبھی احساس نہیں ہوا کہ ہمارا رول ماڈل نبی کریم ﷺ کو بننا چاہیے ۔ لیکن جو رول ماڈل تھے وہ اور تھے۔ کوئی فلمسٹار تھے،پاپ سٹار تھے، کھلاڑی تھے۔ہمیں یہ سمجھ ہی نہیں تھے کہ جو دنیا میں سب سے عظیم رول ماڈل ہے، ہماری تعلیم ہمیں اس طرف نہیں لے کر گئی۔ میں اپنی زندگی کے تجربے پر پہنچ گیا ہوں۔ میں نے الیکشن سے پہلے یہ باتیں اس لیے نہیں کیں کہ کہیں لوگ مجھے یہ نہ کہیں یہ ووٹ لینے کیلئے ایسی باتیں کرر ہاہے۔میں نے مدینہ کی ریاست کی بعد الیکشن جیتنے کی بعد کیں۔
انہوں نے کہا کہ میرا ایمان ہے اگر دنیا میں کسی نے عظیم انسان بننا ہے تو وہ نبی کریم ﷺکو رول ماڈل بنالے۔اگر ایک قوم نے عظیم قوم بننا ہے تو وہ مدینہ کی ریاست کے اصولوں پر چل جائے۔ کیونکہ یہ میں اس لیے کہہ رہا ہوں کہ یہ دنیا میں ثابت ہوگیا جو بھی لوگ نبی کریم ﷺ کے ارد گرد تھے عظیم لوگ بن گئے۔ ان کو دیکھتے دیکھتے عظیم بن گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ انشاءاللہ ہم تعلیمی نظام ٹھیک کریں گے ہر بچے کو پتہ ہو کہ انہوں نے کس طرح ایک معاشرے کو تبدیل کیا۔
وزیراعظم عمران خان کا کہناتھا کہ نبی کریم ﷺ کے دنیا سے پردہ کرنے کے بعد 6سالوں کے اندر دوسپر پاوریں گھٹنے ٹیک گئیں ۔ہمارے بچوں کو اس چیز کا نہیں پتہ ۔ ہمارے نبی کریم ﷺ کی زندگی تاریخ کا حصہ ہے۔ کسی اور پیغمبر کی زندگی تاریخ کا اس طرح حصہ نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہماری یونیورسٹیز میں اس پر ریسرچ ہونا چاہیے۔ کہ یہ فینامنا کیا ہے۔ یہ تاریخ کا حصہ ہے ہزار سال تک مسلمان دنیا کی سپر پاور بنے رہے 7 سو سالوں تک ٹاپ کے سائنسدان مسلمان تھے۔یہ تاریخ کاحصہ ہے یہ ہمارے بچوں کو پتہ ہی نہیں۔ موبائل ہمارے لیے بہت بڑا چیلنج ہے۔ جس طرح کی چیزیں موبائل کے ذریعے آرہی ہیں۔ اگر ہم نے بچوں کو نہ بتایا کہ تاریخ کیا تھی آپ کی ، کیا وہ چیزیں تھیں کہ ایک زمانے میں ہم اوپر گئے اور پھر نیچے آگئے۔
علامہ اقبال کے متعلق ان کا کہنا تھا کہ وہ اس وقت سمجھ گئے تھے کہ مسلمان اوپر سے نیچے کیوں آئے ہیں۔ ان کا کلام پڑھ لیں ، علامہ اقبال نے باربار کہا ہے کہ جب مسلمان گرتا ہے تو وہ مدینہ کی ریاست سے دور چلا جاتا ہے۔اور جب بھی مسلمان قوم اٹھی ہے ان اصولوں پر جانا شروع کر دیا۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پہلے ہم اپنی تعلیمی نظام کوٹھیک کریں ۔ کیا وجہ تھی کہ انڈونیشیا اور ملائیشیا کے لوگ صرف مسلمان تاجروں کا کریکٹر دیکھ کر مسلمان ہو گئے۔ وہ سچے تھے سچے انسان کی بڑی عزت ہوتی ہے۔ آپ آزما کر دیکھ لیں اربوں پتی جھوٹاہوگا اس کی کوئی عزت نہیں ہوگا لیکن ایک غریب شخص سچا ہوگا تو اس کی عزت ہوگی۔
وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ بڑے بڑے امیر لوگ دنیا میں آئے کون جانتا ہے آج ان کو صرف ان لوگوں کو جانتا ہے جنہوں نے اپنے پیسے سے انسانوں کی خدمت کی۔ ان کا کہنا تھاکہ یہ پیسہ بنانا سب سے زیادہ بت پرستی ہے جب ایک انسان تباہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے زندگی کے مشن کو پیسہ بنانا بنا لیتا ہے۔ نبی ﷺ کا مقصد پیسہ بنانا تو تھا ہی نہیں نہ پاور حاصل کرنا تھے انہوں نے تو انسانیت کیلئے سب کچھ کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ معاشرہ تب اٹھتا جب سزا اور جزا ہوتی ہے۔ بنیادی ضروریات ریاست کی ذمہ داری ہے ، لوگوں کو انصاف دے کر آزاد کرو ، ناانصافی سے ملک میں میرٹ ختم ہو جاتا ہے اور معاشرے میں میرٹ ختم ہوتے ہی دنیا کا مقابلہ کر ہی نہیں سکتا۔ مدینہ کی ریاست میں جو لوگ اٹھے وہ میرٹ کے اوپر تھے۔ وہاں سب سے بڑی چیز میرٹ تھی ۔ پھر تعلیم کے اوپر زور دیاگیا۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ لوگ مجھے باربار کہتے ہیں کہاں ہے مدینہ کی ریاست تو میں ان کو کہتا ہوں کہ یہ پہلے دن نہیں بن گئی تھی یہ ایک جدوجہد کا نام ہے۔ہوسکتا اس آئیڈیل تک ہم نہ پہنچ پائیں لیکن ہم راستہ پر لگ گئے یہ قوم اٹھ جائے گی۔ کامیابی اللہ نے دینی ہوتی ہے عزت اور کامیابی دینے والا ہے ہمارا کام ہے اس راستہ پر لگ کر جدوجہد کرنا ہے۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ہمارے پاس کرپٹ مافیا بیٹھے ہوئے ہیں ۔میڈیا میں بیٹھے ہیں، سیاست میں، بیوروکریسی میں ۔ ہمارا کام ہے جدوجہد سے ان کو شکست دے کر اس ملک کو آگے بڑھانا۔
وزیراعظم عمران خان کاکہنا تھاکہ لوگ مجھے کہتے ہیں عمران صاحب آپ میں رحم نہیں ہے۔ کیا رحم نہیں ہے جی ، جن لوگوں نے اس ملک کو کنگال کر کے مقروض کر دیا ہے ان کو معاف کر دیں ۔میرا کام ان کو معاف کرنا نہیں ہے۔ میرے پیسے انہوں نے چوری نہیں کیے قوم کے پیسے چوری کیے ہیں۔ لوگ غربت میں مہنگائی میں پھنسے ہوئے ہیں ان کا پیسہ چوری کرلیا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے عبرتناک سزائیں دیں تھی ان کو جنہوں نے کرپشن کی تھی۔ انہوں نے کہا تھا کہ میں اپنی بیٹی کو معاف نہیں کروں گا۔ رحم تو ہوتا ہے پسے ہوئے طبقے کے لیے جو غریب ہے نادار ہیں، پسے ہوئے ہیں۔ جو بیوائیں ہیں رحم تو ان کیلئے ہوتا ہے۔ بڑے بڑے ڈاکوﺅں کو کون معاف کرتا ہے۔ رحم کر کر کے این آر او دے دے کر تو ہم نے اپنے معاشرے کو تباہ کیا ہے۔
ان کا کہنا تھاکہ مدینہ کی ریاست میں اصول بنائے گئے تھے نبی کریم ﷺ نے لوگوں کے کریکٹر اٹھائے تھے انسان ہی تو ریاست بناتے ہیں۔ اللہ قرآن پاک میں کہتا ہے کہ میں کبھی کسی قوم کی حالت نہیںبدلتا جب تک وہ قوم خود اپنی حالت بدلنے کی کوشش نہ کرے۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سچ بولنے کیلئے طاقت چاہئے۔ سچ بولنے والے کےساتھ ا للہ کھڑاہوجاتا ہے۔ ان کا کہناتھا کہ کمزور طبقہ ہماری ذمہ داری ہے۔ پاکستان میں سب سے زیادہ لوگ خیرات کرتے ہیں اور سب سے کم ٹیکس دیتے ہیں۔ میں انشاءاللہ مدینہ کی ریاست کے اصول پاکستان میں لاتا رہوں گا میں قوم کو کہتا ہوں کہ آپ نے بھی تبدیل ہونا ہے رشوت آپ دیتے رہیں گے ٹیکس نہیں دیں گے تو کیسے ہم عظیم قوم بنیں گے۔
انہوں نے علماءسے کہا کہ آپ کی ذمہ داری ہے کہ آپ نے ہماری رہنمائی کرنی ہے میں عالم نہیں ہوں ، عالم کا بہت بڑا درجہ ہے اسلام میں، تاریخ اسلام پڑھیں ایک عالم جہاں جاتا تھا اس ریاست کے دروازے اس کیلئے کھل جاتے تھے اس کو اچھے کھانے کھلائے جاتے تھے اچھی جگہ ٹھہرایا جاتا تھا۔ جو مسلمانوں کی تاریخ میں بڑے بڑے قاتل جیسے تیمور تھا وہ پہلے پوچھتا تھا کہ عالم کون ہے وہ علماءکو باہر نکال لیتا اور باقی سب کو قتل کر دیتا تھا تو عالم کا بڑا درجہ ہے اسلام میں۔ ان کا کہنا تھا کہ آپ ہماری مدد کریں تاکہ ہم انہی اصولوں کو بنائیں اپنی یونیورسٹی میں پڑھائیں مسلمان کیا ہے ، مسلمان کیلئے بنیادی کوالٹی کیا ہونی چاہیے۔
ان کا کہنا تھا آپ سکینڈے نیویا چلے جائیں وہاں جو انصاف ہے جو رحم ہے ان کی عدالتیں جو انصاف دیتی ہیں وہ یہاں نہیں ہے۔ ہمارے ہاں طاقتور کیلئے علیحدہ قانون ہے اور کمزور کے لیے علیحدہ۔

یہ بھی پڑھیں:  نواز شریف کی ضمانت ؟بابر اعوان کی بریت ؟ اور علیم خان کی احتساب عدالت میں پیشی

اپنا تبصرہ بھیجیں