hazrat sodha

حضرت سودہ رضی اللہ عنہا کا ذکر خیر

EjazNews

یہ بھی ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی ہیں یہ اور ان کے پہلے خاوند مسلمان تھے۔ اپنے خاوند کے ساتھ ہجرت کرکے حبشہ چلی گئی تھیں،خاوند کا انتقال ہوگیا۔ بیوہ ہو گئیں، حضرت خدیجہؓ کے انتقال کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے نکاح کرلیا۔ یہ بڑی عابدہ، زاہدہ تھیں۔ کسی وجہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو طلاق دینے کا ارادہ کیا تھا ۔اس پر سودہ ؓ نے عرض کیا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم اب مجھے خاوند کی خواہش نہیں ہے۔ مگر مجھے یہ آرزو ہے کہ جنت میں آپ کی بیویوں میں شامل رہوں اس لیے آپ مجھے طلاق نہ دیں میں اپنی باری عائشہ ؓ کو ہبہ کر دیتی ہوںاس کو آپ نے منظور فرما لیا اور اس وجہ سے ان کی باری کا دن حضرت عائشہ ؓ کے حصے میں آتا تھا۔ (البدایہ والنہایة)
حضرت عائشہ ؓ ،حضرت سودہ ؓ کی بڑی تعریف کرتی تھیں۔ فرماتی ہیں کہ کسی عورت کو دیکھ کر مجھے یہ حرص نہیں ہوتی کہ میں بھی ویسی ہی ہو جاﺅں ۔ سوائے سودہؓ کے کہ ان کو دیکھ کر مجھ کو یہ حرص ہوتی ہے کہ میں ایسی ہی ہو جاﺅں جیسی کہ یہ ہیں۔ تم اس سے نصیحت حاصل کرو کہ خاوند کی مرضی کی خاطر اپنے حق کو دوسرے کو دے دیا۔ اسی کو ایثار کہا جاتا ہے۔ تم اپنے خاوند کی مرضی کے مطابق چلو۔

یہ بھی پڑھیں:  حضرت اُم ایمن رضی اللہ عنہا کا ذکر خیر

اپنا تبصرہ بھیجیں