babri masjid

بابری مسجد کو رام مندر بنانے کا فیصلہ ،یہ ابتدا ہے انتہا کی

EjazNews

مسلمانوں کی اس بابری مسجد کو ہندوﺅں نے 1992میں شہید کر دیا تھا جس کے بعد مختلف مقامات پر ہونے والے فسادات میں تین ہزار سے زائد مسلمان شہید ہوئے۔بابری مسجد کامعاملہ گزشتہ ایک صدی سے زیر بحث ہے۔ مسلمانوں نے 1945ءمیں اس مقام پر ہندوﺅں کو اپنی عبادت کرنے کے لیے جگہ فراہم کی ، انہوں نے چوری چھپے اندھیر میں کچھ پتلے رکھ دئیے اور پھر اسی کو بنیاد بنا کر مسجد کو شہید کر دیا۔
اس مسجد کی بنیاد ایودھیہ کے مقام پر مغل سلطنت کے بانی ظہیر الدین بابر نے رکھی تھی۔بابر کے نام سے ہندو انتہا پسند نفرت کرتے ہیں لیکن تاریخ کو مٹایا نہیں جاسکتا۔ہندوستان میں اس تاریخ کو مٹانے کا کام ہو رہاہے وہ تاریخ کو بھی مسخ کر دینا چاہتے ہیں۔
ایودھیا میں بابری مسجد کی شہادت کا معاملہ ایک مرتبہ پھرپوری آب و تاب سے منظر عام پر آگیا ہے۔اس مرتبہ یہ ہندو شدت پسندوں کی جانب سے سامنے نہیں آیا بلکہ ان کا ایجنڈا پورا ہوگیا ہے۔
انڈین میڈیا میں پوری طرح بابری مسجد کاتذکر ہ ہو رہاہے ۔
جب اس سلسلے میں ہندوستان کی سیاست پر گہری نظر رکھنے والے الف سلیم صاحب سے ہم نے بات کی تو ان کا کہنا تھا کہ یہ صرف ایک بابری مسجد کی بات نہیں ہے۔ آپ یقین کیجئے یہ ابتداءہے اس انتہا کی جب انڈیا بھر میں مسلمانوں کی ایک بھی مسجد نہیں رہے گی۔ ہر جگہ سے مورتیاں نکلیں گی ، پہلے ان علاقوں سے نکلیں گی جہاں مسلمانوں کی آبادیاں کم ہیں اور بعد میں زیادہ آبادیوں والے علاقوں سے۔
برصغیر کی تاریخ غیر ملکی حملہ آورو سے بھری ہوئی ہے۔لیکن بھارت کی شدت پسند حکومت نے تاریخ کو بدلنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ اسلامی تاریخ کو مسخ کرنے اور ہندوﺅں میں انتہا پسندی کی بیداری بھارت میں پوری شدت سے کام جاری ہے۔بھارت کے تمام اقدامات انتہا پسندی کی جانب جاتے ہیں جس کا پہلا نشانہ مسلمان ضرور ہیں لیکن یقین سے جان لیجئے دوسرے مذاہب کے لوگ بھی محفوظ نہیں رہیں گے ۔ ہزاروں کلیساﺅں کو بھارت میں نذر آتش کیا گیا۔ سکھوں کو آج تک ان کے مقدس مقام کی بے حرمتی اور دنگے بھولے نہیں ہیں جب انہیں سرعام سر وں میںٹائر ڈال کر دہلی کی سڑکوں پر زندہ نذر آتش کیا گیا تھا اور ان کی بہو بیٹیوں کی عزتیں سربازار نیلام کی گئیں تھیں۔
انڈین سپریم کورٹ نے 1045صفحوں پرمشتمل فیصلہ دیا ہے۔ یہ فیصلہ مکمل طورپر ہندو انتہا پسندی پر مشتمل ہوگا اس میں کوئی شک کی گنجائش نہیں ہے۔ آپ دیکھیں اگر یہی فیصلہ مسلمانوں کے حق میں آتا تو کیا انڈیا کا میڈیا اسی طرح اس پر گفتگو کرتا اور جو انڈین انتہا پسند ہندو ہیں کیا اس فیصلے کو مانتے ۔ لیکن اس سے بڑھ کر آپ کو یہ سوچنے کی ضرورت ہے کیا انڈیا کے کسی جج میں اتنی جرا¿ت ہے کہ وہ اپنی اور اپنی فیملی کی جان ہتھیلی پر رکھ کر کوئی ایسا فیصلہ سنا سکے جس سے ہندو انتہا پسند ناراض ہو جائیں بی جے پی کے دور حکومت میں۔ اب انڈیا کے انتہا پسند ہندو اپنے پورے جوش میں ہیں۔ ان کے پاس اقتدار بھی ہے اور وجوہات ڈھونڈنا تو کوئی مشکل کام ہے ہی نہیں ۔

یہ بھی پڑھیں:  بھارتی فوج جتنا کشمیرکی آزادی کو دبا رہے ہیں وہ اتنی ابھر رہی ہے

اسد الدین اویسی نے اپنا موقف دیتے ہوئے کہا ہے کہ جن لوگوں نے بابری مسجد کو شہید کیا سپریم کورٹ نے انہی کو کہا ہے کہ وہ وہاں پر ٹرسٹ قائم کریں۔مسلمانوں کو 5ایکڑ پر مسجد بنانے کے لیے زمین دی گئی ہے۔ مسلمان غریب ، کمزور ضرور ہے۔ لیکن وہ اتنا گرا ہوا نہیں ہے کہ وہ 5ایکڑ زمین نہ خرید سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم کو کسی سے بھیک نہیں چاہیے ۔ان کا کہنا تھا کہ انڈیا اب ہندو توا بننے جارہاہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں