imrankhan speech kartar purt koridorr

لیڈر کبھی نفرتیں نہیں پھیلاتا، نفرتیں پھیلا کر ووٹ نہیں لیتا:وزیراعظم عمران خان

EjazNews

میں سب سے پہلے سکھ برادری کو گرو نانک دیو جی کی 550ویں سالگرہ کی مبارکباد دیتا ہوں۔ آپ کو خوش آمدید کہتا ہوں، آج میں خاص طور پر آپ کو مبارکباد دینے کے بعد ، ایف ڈبلیو سب سے آگے تھی اور باقی ساری منسٹر جنہوں نے 10مہینوںمیں یہ سب تعمیر کیا ان کو میں آج خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔ مجھے تو اندازہ ہی نہیں تھا کہ میری حکومت اتنی ایفشنٹ ہے اگر ہم 10مہینے میں اتنا کام کر سکتے ہیں تو ہم اور بہت سے کام کر سکتے ہیں۔ دل سے آپ کے لیے دعا ہے کہ آپ نے اتنے لوگوں کو اتنی خوشی دی۔
انہوں نے کہا کہ نجوت سنگھ سدھو نے دل سے آج شعر و شاعری کی ۔ دل میں اللہ بستا ہے ، آپ کسی کو بھی جب خوشی دیتے ہیں آپ اللہ کو خوش کرتے ہیں۔ ہم مسلمان کہتے ہیں رب العالمین ، سارے انسانوں کا خدا ، ہمارے نبی ﷺ رحمت اللعالمین ہیں۔ سب انسانوں کیلئے رحمت لانے والے ، صرف مسلمانوں کیلئے نہیں۔ جو اللہ کے پیغمبر اس دنیا میں آئے وہ صرف دو پیغام لے کر آئے ایک انسانیت کا اور دوسرا انصاف کا یہ دو چیزیں انسانی معاشرے کو جانوروں کے معاشرے سے فرق کر تی ہے۔ جانوروں کے معاشرے میں نہ انصاف ہوتا ہے نہ انسانیت ہوتی ہے۔ جو طاقتور ہوتا ہے وہ بچ جاتا ہے ، طاقتور جو مرضی کر لے جانورو ں میں کمزور کے حقوق نہیں ہوتے۔
ان کا کہنا تھا کہ گرو جی کا پیغام جو بھی پڑھتا ہے وہ انسانیت کی بات کرتے ہیں، نفرتیں پھیلانے کی بات نہیں کرتے ،وہ لوگ جو سارے اللہ کے قریب تھے ان سب سے انسان پیار کرتے ہیں۔ یہاں ہندوستان میں برصغیر میں، پاکستان میں وہ لوگ جو انسانیت کیلئے آئے تھے بڑے بڑے صوفی ،بابا فرید گنج شکر، نظام الدین اولیا، حضرت معین الدین چشتی آج بھی لوگ ان کے مزاروں پر جاتے ان کو دعائیں دیتے کیونکہ وہ انسانیت کیلئے آئے تھے۔ وہی چیز میں آپ کے اندر دیکھتا ہوں جو آپ کے دل میں عقیدہ ہے گرو نانک کا ۔ آپ یقین کریں مجھے اندازہ ہی نہیں تھا کہ کرتار پور کی کیا اہمیت ہے دنیا میں ۔ مجھے سال پہلے پتا چلا ہے۔ میں اپنے پاکستانیوں کو بتاتا ہوں کہ ہم مدینہ کو دور سے دیکھ سکیں اور جا نہ سکیں تو ہم پر کیا بیتے گی ،یہ سکھوں کا مدینہ ہے،آج آپ کے دلوں سے دعائیں نکلتیں ہیں ۔
ان کا کہنا تھا کہ میں دو اور چیزیں کہنا چاہتا ہوں۔ لیڈر کبھی نفرتیں نہیں پھیلاتا، نفرتیں پھیلا کر ووٹ نہیں لیتا، جب تک ساﺅتھ افریقہ رہے گا وہ ہمیشہ نیلسن منڈیلا کو دعائیں دے گے۔ اس نے انسانوں کو اکٹھا کیا۔ گورے ایک طرف ، حبشی ایک طرف، ایشین ایک طرف سب تقسیم تھے ۔ کوئی نہیں سمجھتا تھا کہ ساﺅتھ افریقہ میں کبھی انصاف ہو گا، امن ہوگا ،سب سمجھتے تھے ایک دن خون ہوگا۔ ایک لیڈر 27سال جیل میں گزارتا ہے اور رہائی کے بعد معاف کردیتا ہے ظالموں کو اور انسانوں کو اکٹھا کرتا ہے۔ ہمارے نبی ﷺ نے انسانوں کو اکٹھا کیا نفرتیں نہیں پھیلائیں، اور ان کے بعد جو بھی صوفی آئے انہوں نے محبتیں پھیلائیں۔ ہمارے دین میں لکھا ہے کہ آپ نے ایک انسان کو قتل کیا اس کا مطلب ساری انسانیت کو قتل کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ نجوت سنگھ سدھو نے جو بارڈر کھولنے کی بات کی ہے تو میں جب برسر اقتدار آیا تو میں نے نریندر مودی سے بات کی بارڈر کھول دیں ٹریڈ ہو ، ہم ہمسایوں کی طرح بات چیت سے مسائل حل کرسکتے تھے، مجھے یاد ہے من موہن سنگھ جب پرائم منسٹر تھے ،انہوں نے مجھے ایک بات کہی تھی کہ ہم ایک مسئلہ کشمیر کا حل کرلیں برصغیر بہت تیزی سے اٹھ سکتا ہے۔ لیکن مجھے آج افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ یہ ظلم و ستم سے بھی اٹھ گیا ہے۔ 80لاکھ لوگوں کے سارے حقوق ختم کر کے ان کو 9لاکھ فوج سے بند کیا گیا ہے۔ اس وقت یہ انسانیت کا ایشو ہے۔ کشمیریوں کو جانوروں کی طرح رکھا گیا ہے، ایسے امن نہیں ہو گا۔ انصاف سے امن ہوتا ہے۔ نا انصافی سے انتشار پھیلتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ مودی ہم کو آزاد کر دیں اس مسئلے سے تاکہ ہم انسانوں کی طرح رہ سکیں ۔ نجوت سنگھ سدھو نے کہا کہ تجارت شروع ہو جائے سوچیں سارے برصغیر میں کیسے خوشحالی آسکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مجھے خوشی ہے سکھ برادری کے ساتھ یہ دن گزارا۔ میں سمجھ سکتا ہوں کہ آپ کے جذبات کس طرح کے ہیں ۔ انشاءاللہ ایک دن ہمارے تعلقات ہندوستان سے وہ ہوں گے جو ہونے چاہئیں۔ میں یہ بھی دیکھتا ہوں کہ یہ جو نفرتیں 70سال سے ہیں اس مسئلہ حل نہ ہونے کی وجہ سے ہیں ۔فرانس اور جرمنی نے آپس کی لڑائیوں میں کروڑوں انسان قتل کروائے لیکن آج ٹریڈ ہو رہی ہے اور کیسی خوشحالی ہے۔ میں دیکھتا ہوں کہ وہ دن دور نہیں جب یہ مسئلہ حل ہو جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں:  ہمارے کسان آج بھی وہی طریقہ کار استعمال کر رہے ہیں جو موئن جو دڑو رائج تھے:وزیراعظم

اپنا تبصرہ بھیجیں