nawaz sharif

میاں نواز شریف علاج کیلئے بیرون ملک جائیں گے

EjazNews

سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کی صحت کو لے کر ایک اہم بات پورے میڈیا پر چل رہی ہے کہ وہ علاج کی غرض سے بیرون ملک جارہے ہیں۔ ان کے ساتھ مریم نواز نہیں شہباز شریف جارہے ہیں۔ سابق وزیراعظم کی صحت کو لے کرپورے ملک میں ایک بے چینی کی کیفیت پائی جارہی ہے۔
نواز شریف کی صحت اس حد تک خراب کیسے ہوگئی یہ بہت اہم سوال ہے۔ کیونکہ جب وہ وزیراعظم کے عہدے پر تھے ان کا ایک بائی پاس بھی ہوا اور اس کے بعد وہ صحت یاب بھی ہو گئے تھے۔ انہوں نے اسلام آباد سے لاہور تک ایک بڑا مارچ بھی کیا تھا بیمارشخص ایسا مارچ نہیں کر سکتا ۔ جب وہ گرفتار ہوئے اس وقت بھی ان کی صحت ٹھیک تھی ۔جیل میں ان کی صحیح طرح سے دیکھ بھال نہ ہونے سے جب بھی وہ علاج کیلئے ہسپتال جاتے تو ایسی ایسی باتیں کی جاتیں کہ جیسے ان کی صحت بالکل ٹھیک ہے یہ صحت خرابی کا بہانہ کیا جارہا ہے اور یہی سوچ میاں نواز شریف کی صحت کو اس قدر خراب کر گئی ۔
میاں نواز شریف کی ساری زندگی کا اگر جائزہ لیا جائے تو وہ ایک اچھے اور شاہانہ زندگی گزارتے رہے ہیں۔ دولت کی ریل پیل ان کے ہوش سنبھالتے ہی تھی۔ پیسوں کی کمی ان کے یہاں کبھی بھی نہیں تھی۔ ان کے آباو اجداد کے پاس پیسے نہیں ہوں گے لیکن جب انہوں نے ہوش سنبھالی تو وہ صاحب حیثیت تھے۔
پی ٹی آئی کی حکومت اقتدار میں آنے کے بعد سے نواز شریف کے معاملہ پر سخت رویہ اختیار کیے ہوئے تھی ۔ حتیٰ کہ اپنے بیرون ملک دورے میں وزیراعظم نے ان کا ذکر کیا اور ان کی جیل سے اے سی اور ٹی وی نکالنے تک بات کی گئی ۔

یہ بھی پڑھیں:  پشاور زلمی کی ایک اور جیت

اب نواز شریف کی صحت اس قدر خراب ہو چکی ہے کہ پورا ملک ان کی صحت یابی کیلئے دعا کر رہا ہے۔ کیا حکومت کو اس وقت نظر نہیں آرہا تھا جب چیخ چیخ کر ان کے معالج ڈاکٹر عدنان کہہ رہے تھے کہ نواز شریف کو علاج کی ضرورت ہے، جب ان کی بیٹی پورے پاکستان میں کہہ رہی تھیں کہ نواز شریف کو علاج کی ضرورت ہے۔
نواز شریف کو اس نہج پر پہنچا دیا گیا تھا کہ وہ بیرون ملک جانے کیلئے تیار نہیں تھے۔ وہ کیسے راضی ہوئے ہیں یہ تو ہمیں نہیں معلوم لیکن انہیں راضی کر لیا گیا ہے۔ اب ان کے جانے میں کوئی رکاوٹ نہیں ڈالنی چاہئے۔ انہیں فوراً سے پہلے علاج کیلئے بیرون ملک جانے کی اجازت دینی چاہیے۔
حکومت وقت کو یہ سوچنے کی ضرورت ہے کہ جیسے راتوں رات تبدیلی نہیں آتی ویسے ہی ایسے اشخاص جنہوں نے پوری زندگی شاہانہ گزاری ہو اور عمر کے آخری حصے میں آپ ان کو جیلوں میں بند کر کے ہر قسم کی سہولت چھیننے کی کوشش کریں گے۔ تو ان کی صحت خراب ہو ہی جائے گی یہ دنیا کے کسی بھی شخص کے ساتھ کرلیں اس کی صحت خراب ہو جائے گی۔

یہ بھی پڑھیں:  انٹرنیشنل کرکٹ پاکستانی ٹیم کے بغیر ادھوری ہے :سرفراز احمد، پاکستان میں سکیورٹی کے بہترین انتظام ہیں: لہیرو تھریمانے

اپنا تبصرہ بھیجیں