old women health

بڑھتی ہوئی عمر کے ساتھ عورتوں کے چند طبی مسائل

EjazNews

ٹانگوں میں خون کی رگوں کا پھول جانا :
ٹانگوں میں خون کی رگوں کا پھول جانا (پھولی ہوئی وریدیں) یہ خون کی وہ رگیں ہیں جو پھول جاتی ہیں اور اکثر ان میں تکلیف ہوتی ہے۔ جن بوڑھی عورتوں کے زیادہ چکے ہوتے ہیں، ان کے ساتھ یہ مسئلہ پیش آنے کا اندیشہ زیادہ ہوتا ہے۔
علاج:
پھولی ہوئی رگوں کے لیے کوئی دوا نہیں ہے۔ روز انہ 20 منٹ تک پیدل چلنے یا اپنی ٹانگوں کو حرکت دینے کی کوشش کریں۔
کوشش کریں کہ زیادہ وقت کھڑے کھڑے یا پاوں لٹکا کر بیٹھے ہوئے نہ گزاریں اور نہ اپنی ٹانگوں کو ایک دوسرے پر زیادہ دیر رکھیں۔
اگر آپ کو زیادہ دیر تک کھڑے یا بیٹھے رہنا پڑتا ہے تو کوشش کریں کہ بیچ میں وقفے دیں اور ان وقفوں میں اس طرح لیٹ جائیں کہ آپ کے پاﺅں آپ کے دل کی سطح سے اوپر ہوں۔ دن میں جتنی مرتبہ ایسا ہو سکے کریں۔
جب آپ کو دیر تک کھڑے رہنا پڑے تو اپنی جگہ پر چلنے کی کوشش کیا کریں۔
اس طرح سوئیں کہ آپ کے پاوں کی تکیے یا کپڑوں کی گٹھڑی پر رکھے ہوں۔
رگوں کو مزید پھولنے سے بچانے کے لیے لچکدار موزے، لچک دار پٹیاں(بینڈجن) یا ایسا کپڑا استعمال کریں جسے بہت کس کر نہ لپیٹا گیا ہو لیکن یہ خیال رکھیں کہ رات میں ان چیزوں کو اتار دیا کریں۔
کمر کا درد:
زیادہ عمر کی عورتوں کو کمر میں درد کی شکایت اکثر، عمر بھر بھاری بوجھ اٹھا کر چلنے کی وجہ سے ہوجاتی ہے۔
یہ کام کرنا اکثر مفید ثابت ہوتا ہے:
کمر کے پٹھوں کو مضبوط اور سیدھا کرنے کی ورزش روزانہ کریں۔ اگر آپ اس قسم کی ورزش مل کر ساتھ کرنے کے لیے عورتوں کا ایک گروپ بنالیں تو آپ کو اس میں لطف آئے گا۔
اگر آپ کو آئندہ بھی سخت محنت مشقت کا کام کرنا ہو تو اپنے خاندان کے نوجوان افراد سے محنت کے ان کاموں میں مدد لیں۔
جوڑوں کا درد (گٹھیا):
زیادہ عمر کی بہت سی عورتوں کو گھٹیاکی وجہ سے جوڑوں میں درد کی شکایت ہوجاتی ہے۔ عام طور پر اس کا علاج پوری طرح نہیں ہوسکتا۔لیکن ہمارے مشورے آپ کیلئے مفید ہو سکتے ہیں۔
جسم کے جس حصے میں درد ہے، اسے آرام دیں۔
گرم پانی میں کپڑا بھگو کر درد والے مقامات پررکھیں۔
یہ خیال رکھیں کہ آپ کی جلد نہ جلے۔ (جوڑوں میں درد کے کچھ مریضوں میں، درد والے مقامات کی جلد بے حس ہوجاتی ہے۔ ان مقامات پر چھونے سے انہیں احساس ہی نہیں ہوتا۔)
جوڑوں کی ہلکی مالش کریں اور انہیں کھینچ کر سیدھا رکھنے کے ذریعہ، انہیں حرکت میں رکھیں۔
کمزور ہڈیاں (ہڈیوں کی خستگی)
عورت کا جسم کم مقدار میں ایسٹروجن تیار کرتا ہے اور اس کی ہڈیاں کمزور ہو جاتی ہیں۔ کمزور ہڈیاں آسانی سے ٹوٹ جاتی ہیں اور دیر سے جڑتی ہیں۔
ایک عورت کی ہڈیاں کمزور ہو جانے کا زیادہ امکان ہوتا ہے، اگر:
اس کی عمر 70 سال سے زیادہ ہے۔
وہ دبلی پتلی ہے۔
وہ ورزش نہیں کرتی۔
وہ ایسی غذائیں کافی مقدار میں نہیں کھاتی ہے جن میں کیلشیم زیادہ ہوتا ہے۔
وہ کئی بار حاملہ ہو چکی ہو۔
وہ بہت زیادہ شراب پیتی ہو۔
وہ تمباکو نوشی کرتی ہو یا تمباکو چباتی ہو۔
علاج:
روزانہ 20 سے 30 منٹ تک پیدل چلیں۔
زیادہ کیلشیم والی غذائیں کھائیں۔
ہارمون والی دوائیں لینا بھی مفید ہو سکتا ہے
دیکھنے اور سننے میں دشواری:
عمر بڑھنے کے ساتھ، بہت سی عورتیں اتنی اچھی طرح دیکھنے اور سننے کے قابل نہیں رہتیں جتنی کہ وہ پہلے تھیں۔ جن عورتوں کو دیکھنے یا سننے میں مشکل پیش آتی ہے، ان کے ساتھ حادثے پیش آنے کا خدشہ زیادہ ہوتا ہے اور اپنے گھر سے باہر نکل کر کام کرنایا بستی کی سرگرمیوں میں حصہ لینا ان کے لیے ممکن نہیں رہتا۔
دیکھنے کے مسائل:
40 سال کی عمر کے بعد قریب کی چیزوں کو دیکھنے میں مشکل پیدا ہونا عام بات ہے۔یہ بعید النظری کہلاتی ہے۔ اکثر نظر کا چشمہ مفید ہوتا ہے۔ ایک عورت کو اپنی آنکھ میں رطوبت (فلوڈ ) کے بہت زیادہ دباو کا بھی خیال رکھنا چاہیے ۔(سبز موتیا) جو اس کی آنکھ کے اندرونی حصے کو نقصان پہنچا سکتا ہے اور اس کے نتیجے میں بینائی بھی جاسکتی ہے۔ شدید سبز موتیا (گلوکوما) اچانک ہو جاتا ہے، اس کے ساتھ شدید سردرد یا آنکھ میں درد ہوتا ہے۔ آنکھ کو چھونے پر وہ تخت محسوس ہوتی ہے۔ پرانا موتیا عام طور پر تکلیف نہیں دیتا لیکن عورت آہستہ آہستہ بینائی کھونے لگتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  بریسٹ کینسر:اپنا معائنہ خود کریں

سننے کے مسائل:
سننے کے مسائل 50 سال کی عمر کے بعد بہت سی عورتوں کی سننے کی صلاحیت جاتی رہتی ہے۔ دوسرے لوگ اس مسئلے کو اہمیت نہیں دیتے کیوں کہ وہ اسے دیکھ نہیں سکتے یا پھر وہ اس عورت کو اپنی بات چیت میں شریک کرنا چھوڑ دیتے ہیں اور سماجی سرگرمیوں میں شامل نہیں کرتے۔
اگر آپ محسوس کریں کہ آپ کی سننے کی صلاحیت کم ہورہی ہے تو آپ ان مشوروں پرعمل کرسکتی ہیں:
آپ جس کے ساتھ باتیں کر رہی ہوں اس کے بالکل سامنے بیٹھیں۔
اپنے گھر کے لوگوں اور دوستوں سے کہیں کہ وہ آپ کے ساتھ آہستہ آہستہ اور واضح طور پر بات کیا کریں لیکن ان کو بتائیں کہ وہ چلائیں نہیں۔ چلانے کی وجہ سے الفاظ کو سمجھنا اور زیادہ مشکل ہوسکتا ہے۔
جب آپس میں بات چیت کر رہی ہوں تو ریڈیو اور ٹیلی ویژن بند کر دیں۔
کسی معالج سے بات کریں کہ کیا آپ کے سننے کی صلاحیت دواوں سے واپس آ سکتی ہے یا اس کے لیے سرجری ہوسکتی ہے یا اس کے لیے آلہ سماعت (ہیئر نگ ایڈ ) استعمال کیا جاسکتا ہے۔
بے چینی اور افسردگی:
بوڑھی عورتیں کبھی کبھی بے چینی اور افسردگی محسوس کرتی ہیں کیوں کہ خاندان اور بستی میں ان کا کردار اور مقام تبدیل ہوچکا ہوتا ہے۔ وہ خود کو اکیلا محسوس کرتی ہیں یا مستقبل کے بارے میں فکر مند ہوتی ہیں یا پھر اس لیے کہ ان کے ساتھ صحت کے مسائل ہوتے ہیں جو ان کے لیے تکلیف اور بے آرامی کا سبب بنتے ہیں۔
ذہنی الجھاو:
کچھ بوڑھے لوگوں کو چیزیں یاد رکھنے کا واضح طور پر سوچنے میں مشکل پیش آنے لگتی ہے۔ جب اس قسم کے مسائل شدید ہوجائیں تو یہ کیفیت ذہنی الجھاو¿ (Dementia) کہلاتی ہے۔
علامات:
توجہ مرکوز رکھنے میں مشکل یا بات چیت کے درمیان ہی میں بات بھول جانا۔
ایک ہی بات کو بار بار دہرانا۔ ایسا فرد یاد نہیں رکھے گا کہ وہ کونسی بات پہلے بھی کر چکا ہے۔
روز مرہ کے کاموں میں مشکل پیش آنا۔ ایسا فرد یہ جاننے میں دشواری محسوس کرے گا کہ لباس کس طرح پہنا ہے یا کھانا کس طرح تیار کرنا ہے۔
رویے میں تبدیلی:
ایسا فرد چڑ چڑے پن اور ناراضگی کا اظہار کر سکتا ہے یا اچانک غیر متوقع قسم کے کام کر ڈالے گا۔یہ علامات دماغ میں تبدیلیوں کی وجہ سے پیدا ہوتی ہیں اور ان کو ظاہر ہونے میں عام طور پر طویل عرصہ لگتا ہے۔ اگر یہ علامات اچانک شروع ہو جائیں تو ممکن ہے کہ ان کا کوئی دوسرا سبب ہو مثلاً بہت زیادہ دوائیں لینا (سمیت ، یا زہر پھیلنا، کوئی شدید انفیکشن ، ناقص غذائیں یا شدید افسردگی۔ ان مسائل کا علاج کیا جائے تو ذہنی الجھاﺅاکثر دور ہو جاتا ہے)۔
علاج:
ذہنی الجھاوکا کوئی خصوصی علاج نہیں ہے۔ جو فرد ذہنی الجھاوکا شکار ہو، اس کی دیکھ بھال، گھر کے افراد کے لیے بہت مشکل ثابت ہوسکتی ہے۔ اگر دیکھ بھال کی ذمہ داریاں آپس میں بانٹ لی جائیں اور جب بھی ممکن ہوں خاندان سے باہر کے افراد کی مدد بھی حاصل کر لی جائے تو یہ مفید ہوگا۔
ذہنی الجھاومیں مبتلا فرد کی مدد کرنے کے لیے کوشش کریں کہ:
اس فرد کے اطراف کے علاقے کو جس قدر ہو سکے محفوظ بنائیں۔
روز مرہ کے کام میں باقاعدگی کریں تا کہ اس فرد کو معلوم ہو کہ اس سے کیا توقع رکھی جارہی ہے۔
اس عورت سے پرسکون اور آہستہ آواز میں بات کریں۔ اسے جواب دینے کے لیے زیادہ وقت دیں۔
ایسی عورت سے باتیں کرتے ہوئے سوالات کو محدود رہیں۔ اسے جواب دینے کے لیے بہت سی چیزوں میں سے انتخاب نہ کرنا پڑے۔ ایسے سوال کریں جن کے جواب ”ہاںیا نہیں“ میں دئیے جاسکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  بانجھ پن کے ساتھ زندگی کیسے گزاری جائے؟

اپنا تبصرہ بھیجیں