climat change

موسمیاتی تبدیلیوں سے سب سے زیادہ برصغیر کے خطوں کو ہے

EjazNews

موسمیاتی تبدیلیاں جنوبی ایشیائی ممالک میں بھی اپنا رنگ دکھا رہی ہیں۔ گزشتوں برسوں میں ہاروی اور ایرما نامی طوفانوں نے امریکہ میں لاکھوں لوگوں کو متاثر کیا۔ پاکستان، بنگلہ دیش، افغانستان اور بھارت میں پانی نے 4کرو ڑ10لاکھ افراد کو متاثر کیا، کروڑوں لوگ متاثر ہوئے۔ جنوبی ایشیا کے ممالک افغانستان سے لے کر مشرق میں بنگلہ دیش تک جہاں دنیا کی ایک چوتھائی آبادی مقیم ہے طوفانی بارشوں اور سیلابوں نے اربوں ڈالر کا نقصان پہنچایا ہے اگر یہی کیفیت رہی تو بقول ورلڈ ریسورسز انسٹی ٹیوٹ 2030ءتک اس خطے میں پانی سے پہنچنے والے نقصانات کا حجم 215ارب ڈالر سالانہ تک پہنچ جائے گا۔ سمندروں کے گردو پیش میں رہنے والے بڑے گاﺅں کے کچوں کے علاقوں میں رہائش پذیر اور زیریں علاقوں کے مکین زیادہ متاثر ہوں گے۔ وہ علاقے بھی شدید ترین متاثر ہوں گے جہاں مناسب مقدار میں نکاسی کا انتظام نہ ہوگا۔ موسمیاتی تبدیلیوں سے پہنچنے والے نقصانات سے پہنچنے والے نقصان کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر پام ہی کے مطابق شدید موسم سے ناصرف شہری علاقے متاثر ہوں گے بلکہ ملٹی نیشنل کمپنیاں کو بھی دھچکا پہنچے گا۔ بالخصوص ان کمپنیوں کا کاروبار متاثر ہو گا جو ان ممالک سے خام مال خریدتی ہیں۔
مثلاً ممبئی بھارت کا مالیاتی دارالحکومت سمجھا جاتا ہے، یہ ٹیکنالوجی کا بڑا مرکز ہے۔ بنگلہ دیش میں ڈھاکہ مرکزی دارالحکومت اور بڑا تجارتی مرکز ہے۔ پاکستان میں کراچی اور لاہور شدید بارشوں سے متاثر ہوئے یہ دونوں شہر تجارتی سرگرمیوں میں مرکزی حیثیت رکھتے ہیں۔ اسی طرح نیپال اور پھر بھارت میں بھی مشرقی ریاستیں بہار اور آسام شدید متاثر ہوتی ہیں۔ موسمیاتی تبدیلیوں پر نظر رکھنے و الے ماہرین نے مستقبل میں شدید موسمیاتی تبدیلیوں سے خبردار کیا ہے۔ ورلڈ ریسورسز انسٹی ٹیوٹ کی ایک رپورٹ کے مطابق سیلاب کی تباہ کاریوں سے ان ممالک میں 95لاکھ افراد سالانہ متاثر ہوتے ہیں۔ بھارت میں جی ڈی پی کے 14.5ڈالر اور بنگلہ دیش میں 5.5ڈالر کے اثاثوں کو نقصانات کا اندیشہ رہتا ہے۔ صرف ایشیاءمیں 2016ءمیں 320 قدرتی آفات نے جنم لیا۔ جن کے نقصانات کا تخمینہ 87ارب ڈالر لگایا گیا ہے۔ بھارت پہلے نمبر پر بنگلہ دیش دوسرے نمبر پر اور پھر ویتنام اور مصر کے بعد پاکستان کا نمبر آتا ہے۔ میانمار ، کمبوڈیا ، مالی ،موذبیک، چاڈ اور افغانستان بھی زیادہ متاثر ممالک میں شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  مسئلہ کشمیر پر16اگست کو سلامتی کونسل کا اجلاس طلب
موسمیاتی تبدیلیوں پر نظر رکھنے و الے ماہرین نے مستقبل میں شدید موسمیاتی تبدیلیوں سے خبردار کیا ہے۔

اقوام متحدہ کے آفس برائے ڈیزاسٹر رسک نے اپنی ایک رپورٹ میں لکھا ہے کہ 20سالوں میں متاثر ہونے والے 2ارب 30کروڑوں باشندوں میں 65فیصد لوگ ایشیا ءمیں مقیم تھے۔ یہ وہ خطہ ہے جہاں دنیا کے 3بڑے ملک قائم ہیں۔ یعنی پاکستان، بھارت اور بنگلہ دیش ہیں۔
ان 3ممالک میں قدرتی آفات سے پہنچنے والے نقصانات میں زیادہ نقصان بارشوں کی وجہ سے ہوا۔ تقریباً 50فیصد طوفانوں سے ہوا۔ آندھی اور طوفانو ں 19فیصد، زلزلوں اور لینڈ سلائیڈنگ سے 9فیصد ، اور 3فیصد نقصان پہنچا، سیلابوں سے 80فیصد ۔ چنانچہ مالی نقصانات زیادہ تر سیلاب سے پہنچے۔ انفراسٹرکچر بالخصوص بجلی اور ٹیکنالوجی کے ڈھانچے برباد ہو گئے۔ نہری نظام کی مرمت کرنا پڑی اور سہولتوں کو بھی دیکھنا پڑا۔ بھارتی ماہرین نے بھی اپنے ملک میں آنے والے گزشتہ خوفناک سیلابوں کا جائزہ لیا ہے۔ 17دن تک ہونے والی بارشوںسے اربوں روپے کا نقصان ہوگیا۔ ادھر بھارت پاکستان کا پانی بند کرنے کے در پہ ہے لیکن اس کے نہری اور دریائی نظام میں شدید بہاﺅ کو روکنے کی صلاحیت نہیں۔ چنائی میں 13کروڑ لوگ نیم ترقی یافتہ اور غیر رسمی آبادیوں میں رہائش پذیر ہیں۔ عالمی بینک نے بھی اپنی متعدد رپورٹوں میں سلم ایریاز کی نشاندہی کی ہے۔ کراچی میں بھی حالیہ بارشوں سے یہی علاقے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔ اگر دیکھا جائے تو مستقبل میں سیلابوں کو روکنا بھارت کے نہری نظام کے بس میں نہیں۔ خوفناک طوفان اور بے پایا نقصان کا اندیشہ ہے۔
عالمی ماہرین کے مطابق نیپال اور بھارت سیلابوں سے نبٹنے کے لیے آبی منصوبوں پراربوں ڈالر خرچ کر رہے ہیں۔ ان میں سے بہت سے منصوبوں کا تعلق پاکستان کو پانی کی فراہمی بند کرنا ہے لیکن یہ امر یقینی ہے کہ پاکستان کو پانی کی فراہمی روکنے کی کوشش میں بھارت اپنے کئی شہروں کو سیلاب کی تباہ کاریوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دے گا۔ اس کو اس بات کی کوئی پرواہ نہیں کہ بھارت میں ہندوﺅں کا مستقبل کیا ہے ان کا مطمئہ نظر مسلمانوں کو بے بسی کی زندگی کے اندھیروں میں دھکیلنا ہے یہ مقصد خواہ کیسے ہی پورا کیوں نہ ہو وہ اس میں لگے ہوئے ہیں لیکن یہ امر بھی یقینی ہے کہ سیلاب کی شدت بھارت کے کئی حصوں کو نیست و نابود کر دے گی۔

یہ بھی پڑھیں:  نیوزی لینڈ کی وزیراعظم نے آتشی اسلحے پر پابندی لگا دی

اپنا تبصرہ بھیجیں