Iqbal-potriat

آبا مرے لاتی و مناتی

EjazNews

اقبال کا بچپن،پنجاب کے قدیم شہرسیالکوٹ کی خوابیدہ و خاموش گلیوں میں گزرا۔ذہنی نشو و نما کا ابتدائی دورسید میر حسن ایسے نابغۂ روز گار استاد کی صحبت اورسکاچ مشن سکول (بعد ازاں کالج) کے مخصوص تعلیمی ماحول میں بسر ہوا۔اوائلِ شباب میںانھوں نے لاہور کی شعری و ادبی محفلوں اور گورنمنٹ کالج کے اساتذہ بالخصوص پروفیسر آرنلڈ سے استفادئہ علمی کیا اور پھر انھوں نے کیمبرج کے علمی ماحول اور ہائیڈل برگ کی رومان پرور فضائوں سے بھی بہت کچھ اخذ کیا،لیکن ان کی شخصیت کی مجمو عی تشکیل و تعمیر میں ان سب چیزوں کے ساتھ ساتھ ان کے آباو اجدادکے گونا گوں اثرات کابھی دخل ہے،جن کا خون اقبال کی رگوں میں گردش کر رہا تھا۔

سپرو،برہمنوں کی ایک شا خ ہے اور برہمن ہندوئوں کی سب سے اونچی اور معزز ذات سمجھی جاتی ہے۔اقبال کے آبا و اجداد سپرو تھے۔سپروئوں کی اس نسل میں، ایک شخص بابا لول حج سب سے پہلے قبولِ اسلام کی نعمت سے بہرہ ور ہوئے۔وسیلہ معاش کے طور پرانھوں نے زراعت کا پیشہ اختیار کر رکھا تھا۔دائرہ اسلام میں آنے کے بعد،ان کا نکاح کسی مسلم گھرانے کی خاتون سے ہوا ،مگر بیوی سے اُن کے تعلقات اچھے نہ تھے۔ بابا کی آنکھیں بھینگی اور پائوں ٹیٹرھے تھے،  بیوی کبھی کبھی ان پر ہنسا کرتی تھی۔ایک روز بیوی کی طنزیہ ہنسی سے دلِ حساس کو ایسی ٹھیس پہنچی کہ دنیا کی ہر شے سے جی اچاٹ ہو گیا۔ بیوی بچے،گھر بار،کھیت کھلیا ن،مال مویشی،سب کچھ چھوڑ چھاڑ، اور دامن جھاڑ کر اُٹھ کھڑے ہو ئے۔ گھر بار اور شہر ہی سے نہیں،سر زمین کشمیر ہی سے کوچ کیا۔

آشفتہ مزاجی،بابا کو سالہا سال تک اجنبی سرزمینوں میں لیے پھرتی رہی۔کتنے شام وسحر گزر گئے،دن ہفتوں میں اور مہینے سالوں میں تبدیل ہو تے گئے۔ وقت کا سیلِ رواں جاری رہا۔ اقبال کے بابا جی نے سالہا سال سیر و سیاحت میں گز ار دئیے۔

روایت ہے کہ بابا، حج بیت اللہ سے بھی متعدد بار مشرف ہو ئے۔تقریباً بارہ برس بعد واپس کشمیر آگئے۔لوٹ کر تو آنا ہی تھا۔ انسانی فطرت ہے۔)ہر چیز اپنی اصل کی طرف واپس آتی ہے۔(

وطن کی مٹی میں ایک خاص قسم کی مہک ہو تی ہے۔پھر اس مٹی کی پیدا وار،کشمیر کے دہکتے چنار اور سرسبز کھیت اور وہاں کے زعفران زار __بابا لول حج کو کیا کچھ نہیں یاد آتا ہو گا۔ کب تک بن باس گزارتے۔کشمیر کی مٹی کی خوشبو،پس ماندگان کی یادیں اور خون کا رشتہ انھیں واپس کھینچ لایا۔ بابالول حج واپس تو آگئے، مگر اب وہ ایک مختلف شخص تھے۔ سالہا سال کی سیاحتی زندگی،دنیا جہان کے مشاہدے،اجنبی سرزمینوں کے تجربات اور سب سے بڑھ کر حج بیت اللہ کی تاثیر نے اُن کے قلب و ذہن کو ایسی صفائی اور پاکیزگی عطا کی اور ایسا منقلب کیا کہ وہ معمول کی زندگی کی طرف راغب ہو نے کی بجائے بابا نصر الدین کے ہاتھ پر بیعت ہو گئے۔ یہ بابا کشمیر کے معروف بزرگ شیخ العالم شیخ نورالدین ولی کے ایک نامور خلیفہ تھے۔ لول حج نے مکروہاتِ زمانہ سے منہ موڑ کر زندگی کے باقی ایام،بابا نصر الدین کی خدمت اور صحبت میں بسر کر دئیے۔اقبال کے یہ نیک طینت جَد (بابا لول حج)چرارشریف میں واقع شیخ العالم کی معروف درگاہ کے احا طے میں،اپنے مرشد کے جوار میں آسودئہ خاک ہیں۔

خاندانِ اقبال میں غور و فکر،درویشی اور تصوف کی جس روایت کا آغاز بابا لول حج سے ہوا، چند پشتوں کے بعد یہ روایت ہمیںاسی خاندا ن کے ایک بزرگ شیخ اکبر کے ہاں بھی نظر آتی ہے، جو غالباً اقبال کے پڑ دادا تھے۔شیخ اکبر کو بابا لول حج کا سیاحتی ذوق و شوق ورثے میں ملا تھا۔وہ ایک متقی،پر ہیز گار اور نیک انسان تھے۔اُن کے مرشد سادات میں سے تھے۔شیخ اکبر کی خاندانی نجابت اور پارسائی نے مرشد کو اتنا متاثر کیا کہ انھوں نے اپنی صاحبزادی شیخ اکبر کے عقد میں دے دی۔پھر جب سید صاحب فوت ہوئے تو شیخ اکبر ہی ان کے جانشین مقرر ہو ئے،کیونکہ سید صاحب کے بیٹے ابھی سن بلوغت کو نہیں پہنچے تھے۔

گویا ہمارے اقبال،پیروں کی اولا د تھے۔اس پر تعجب کیوں؟اقبال نے خود ایک جگہ کہاہے کہ ’’ہمارے والد کے دادا یا پڑ دادا پیر تھے۔‘‘اقبال کی طبیعت میں روحانیت اور تصوف کی طرف میلان اور جذب وسوزشاید انھی بزرگوں کے خون کا اثر تھا۔

بابا لول حج نے وطن چھوڑا،ایک عرصہ سیرو سیاحت میں گزار دیا،پھر اپنے وطن کشمیر جنت نظیر کو لوٹ آئے،اب ان کی اولاد نے رخت سفر باندھا۔ شیخ ا کبر نے کئی بار پنجاب کا سفر کیا اور ضلع سیالکوٹ کے ایک گائوں میں مقیم رہے۔بعض روایا ت کے مطا بق اقبال کے َاسلاف میں چوتھی پشت میں شیخ محمد رفیق کشمیر سے ہجرت کر کے سیالکوٹ آئے تھے۔تین بھا ئی بھی اُن کے ساتھ تھے۔دوسرے بھائی تو پنجاب کے مختلف علاقوں کی طرف کوچ کر گئے،محمد رفیق نے سیالکوٹ میں بزازی کی دکان کھو ل لی۔وہ ’’درمیانے قد کے بزرگ تھے اور نہایت وجیہہ ا ور خوبصو رت تھے اور خدو خال،لب و لہجے اور درخشاں چہرے سے ان کی کشمیریت ٹپکی پڑتی تھی‘‘۔ایک بار وہ اپنے بیٹے غلام محمد کے پاس روپڑ (پنجاب) گئے تھے کہ بیمار ہوئے اور وہیںفوت ہو گئے۔شیخ محمد رفیق کے ایک بیٹے عبداللہ  ریاست حید ر آباد دکن چلے گئے اور وہاں اپنے قدیمی آبائی پیشے زراعت سے وابستہ ہو گئے۔

بعض روا یات میں ہے کہ ہجرت کرنے والے بزرگ جمال الدین تھے۔وہ شیخ محمد رفیق کے والد تھے۔یہی شیخ محمد رفیق،اقبال کے دادا تھے۔

کشمیر سے ہجرت شیخ محمد رفیق نے کی ہو یا ان کے والد شیخ جمال الدین نے،یہ ذکر ہے انیسویں صدی کے تیسرے عشرے کا۔اس زمانے میں کشمیر سکھوں کے زیرِ نگیں تھا۔بقو ل ڈاکٹر جاوید اقبال یہ :’’عہدِحکومت؛ کشمیر کی تاریخ کا بد ترین دور تھا۔‘‘اپنے ۲۷ سالہ عہدحکومت (۱۸۱۹ء  -۱۸۴۶ء )میں سکھ صوبے دار ہر طرح کی من مانی کرتے رہے۔ زندہ رُودمیں ایک انگریز مصنف ولیم مور کرافٹ کا بیان نقل کیا گیا ہے کہ سکھ کشمیریوں کو انسان نہیں،جانور سمجھتے تھے۔ ان کے دورِ حکومت میں اگر کوئی سکھ کسی کشمیری کو قتل کر دیتا تو اُسے قانوناً سولہ روپے سے بیس روپے تک جرمانہ ادا کرنا پڑتا۔اس میں مقتول کے خاندان کو، اگر وہ ہندو ہوتا تو چار روپے ملتے،اگر مقتول مسلمان ہوتا تو اسے فقط دو روپے دیے جاتے۔ اسی زمانے کے ایک اور سیاح بیرن شون برگ کی روایت ہے کہ گائے کے ذبیحے کی سزا موت تھی۔اگر کوئی مسلمان گائے ذبح کرتا پکڑا جاتا تو اُسے سری نگر کی گلیوں میں گھسیٹا جاتا اور پھر پھانسی پر لٹکا دیا جاتا یا زندہ جلا دیا جاتا۔سکھوں کے ان مظالم کے علاوہ باشندگانِ کشمیر کو کبھی کبھی قدرتی آفات (قحط، سیلاب، زلزلوں وغیرہ )کا سامنا بھی کرنا پڑ تا تھا :

یہ بھی پڑھیں:  امریکہ کی سب سے کم عمر امیر ترین خاتون کی کامیابی کا رزا کیا ہے؟

زلزلے ہیں ، بجلیاں ہیں ، قحط ہیں ، آلام ہیں

کیسی  کیسی  دخترانِ  مادرِ  ایام ہیں

خیال رہے کہ اگر چہ سکھو ں نے بطورِ خاص مسلمانوں کو ظلم و ستم کا نشانہ بنایا،تاہم کشمیر کا عمومی ماحول غیر مسلموں کے لیے بھی پریشان کن تھا۔ہندوئوں کے بہت سے خاندانوں (مثلاً:پنڈت جواہر لال نہرو اور سرتیج بہادر سپرو کے اجداد )نے بھی اسی زمانے میں کشمیر سے ترکِ وطن کیا۔آئے دن کے مسائل و مصائب،پریشانیوں اور عدمِ تحفظ کے احساس نے اقبال کے بزرگوں کو بھی کشمیر سے ہجرت کر نے پر مجبور کردیا۔

شیخ محمدرفیق کے ہاں یکے بعد دیگرے دس بیٹے پیدا ہوئے مگر سوئے اتفاق سے ان میں سے کوئی بھی زندہ نہ بچا۔۱۸۷۳ء میں گیارھواں بیٹا تولّد ہوا۔نام اس کا رکھا گیا: نورمحمد۔ معاشرے میں عمومی تو ہم پرستی،جہالت اور ضعیف الاعتقادی کا دور دورہ تھا۔گھرانے کی زیادہ تر مستورات بھی ٹو نے ٹوٹکے اور تعویذ گنڈے پر یقین رکھتی تھیں۔کسی کو سوجھا تو ٹو نے کے طور پر نورمحمد کی ناک چھید کر، اس میں ایک چھوٹی سے ’’نتھ‘‘ڈا ل دی گئی تا کہ موت کا فرشتہ اسے لڑکی سمجھ کر ٹل جائے۔اس ٹونے کا کیا اثر ہو تا،زندگی اور موت توقادرِ مطلق کے ہاتھ میں ہے۔ اس کا فیصلہ تھا کہ گیارھواں بیٹا زندہ رہے گا، طویل عمر پائے گااور اُ س کی صُلب سے محمد اقبال پیدا ہو گا، جو نہ صرف ملت ِاسلامیہ بلکہ پوری عالمِ انسانیت کو اقبال مندی کا راستہ دکھا ئے گا۔ہاں اس ’’نتھ‘‘کی وجہ سے نور محمد کا عرف شیخ نتھو پڑ گیا۔

شیخ نور محمدعرف نتھو تجارت پیشہ گھرانے کے فرد تھے۔انھوں نے قرآن شریف ضرور پڑھا ہوگا، مگر کسی مدرسے میں باقاعدہ تعلیم نہ حاصل کر سکے تھے۔وہ ذہین تھے،اور کچھ سیکھنے،آگے بڑھنے اور کچھ حاصل کر نے کے ذوق و شوق سے مالا مال۔بس اسی لگن اور دل چسپی کی بنا پر حر ف شناسی سے عبارت شناسی کی منزل تک پہنچے اور رفتہ رفتہ،دھیرے دھیرے اردو عبارت پڑھنے لگے۔بعد ازاں فارسی کتابیں بھی پڑھ لیتے تھے۔

وہ سادہ مزاج،برد بار اور حلیم الطبع شخص تھے۔والد کے کاروبارمیں ان کا ہاتھ بٹانے لگے۔ جس کسی کو ان سے معاملہ پیش آتا، وہ اس نوجوان کے حسن ِاخلاق سے متاَثر ہوتا۔شیخ محمد رفیق نے جلد ہی اپنے اکلو تے بیٹے نور محمد کی شادی سمبڑیال، ضلع سیالکوٹ کے ایک کشمیری گھرانے میں کردی۔اب نور محمددُھسّو ں اور لو ئیوں کی تجارت میں زیادہ توجہ سے حصہ لینے لگے۔ شیخ محمد رفیق بوڑھے ہو چکے تھے۔نور محمد نے کاروبار سنبھا ل لیا اور اپنی محنت اور کوشش سے اسے مزید ترقی دی۔ دُھسّو ں کی تجارت کے ساتھ برقعوں کی ٹو پیاں بھی تیا رکرنے لگے۔ٹو پیا ں بہت عمدہ تھیں،مقبول ہوئیں۔ایک روا یت کے مطابق ان کی دکان پر کپڑے بھی سیے جاتے تھے اور سیالکوٹ میں سب سے پہلے سلائی مشین انھوں نے منگا ئی تھی۔انھوںنے چند درزی اور ٹوپیاں سینے والے کاریگر، اپنے ہاں ملازم رکھ لیے۔وہ خود ایک نیک نفس اور دیانت دار شخص تھے۔ان کی دکان پر سلائی کا کام توجہ اور سلیقے سے کیا جاتا تھا،اس لیے خدا نے کارو با ر میں برکت دی اور گھرانے کی مالی حالت بہتر ہو گئی۔

اپنے حسنِ اخلاق،عالی ظر فی،گونا گوں خوبیوں اور صلحِ کُل طبیعت کی وجہ سے شیخ نور محمد کو عز ت و حترام کی نظر سے دیکھا جا تا تھا۔ خا ندان اور برادری میں انھیں’’میاں جی‘‘کہہ کر پکارتے تھے۔پنجاب کے دیہی معاشرے میں ’’میاں جی‘‘کے ساتھ بزرگی،احترام،دانش و بینش اور معاملہ فہمی کے تصورات وابستہ ہیں۔ شیخ نور محمد نہ صرف اپنے خاندان بلکہ محلے،کاروباری حلقوں اور شہر میں بھی ایک خاص مقام رکھتے تھے۔تقریباً ۲۵ سال کی عمر میں اللّٰہ نے انھیں اولادِ نرینہ عطا کی، نام عطا محمد رکھا گیا۔ شیخ عطا محمد(۱۸۵۹ء-۱۹۴۰ء) نے رُڑکی انجینئرنگ کالج سے ڈپلوما حاصل کیا اورایک بھر پور زندگی گزاری۔لاہور اور یورپ میں اقبال کی تعلیم کے زیادہ تر اخراجات وہی برداشت کرتے رہے۔

شیخ نور محمد کی شخصیت کا ایک اور پہلوبھی قابلِ ذکر ہے،جس کا تعلق ان کی روحانیت سے ہے۔ وہ نیک سرشت اور پاکیزہ مزاج تھے۔تلاوتِ کلام پاک،عبادات خصوصاً  نوا فلِ شب اور تہجد سے شغف رکھتے تھے۔ خدمتِ خلق کے ساتھ کلام اللّٰہ کی تلاوت کو ’’دین و دنیا کی ترقی کا سبب سمجھتے تھے۔ان کی یہی تاکید اپنی اولاد کو تھی۔‘‘

تصوف سے ان کی دل چسپی کا ایک اور حوالہ شیخ محی الدین ابن عربی کی تصانیف (فتوحاتِ مکیہ اور فصوص الحکم )تھیں۔وہ تعلیمات ِابن عربی کی شرح و بحث میں شریک رہتے تھے۔’’علم و عرفان کا ذوق اور دینی جذبہ انھیں کشاں کشاں علما و صلحا کی مجالس میں لے جاتا اوروہ ا ن صحبتوں سے برابر استفادہ کیا کرتے تھے۔کبھی کبھی اہلِ علم کی یہ مجلسیں ان کے مکان یا دکان پر بھی آراستہ ہو تی تھیں۔ان کی گفتگو حکیمانہ خیالات وعارفانہ کیفیات کی آئینہ دار ہوتی تھی۔چنانچہ میر حسن انھیں ’’ان پڑھ فلسفی‘‘کے لقب سے پکارتے تھے۔‘‘ بعض لوگ تصوف کے مشکل نکات کی تفہیم کے لیے ان سے رجوع کیا کرتے تھے۔

شیخ نور محمد کی روحانیت اور صو فیانہ افتاد و نہاد سے متعلق متعدد واقعات ملتے ہیںمگر ان کی روحانیت اورتصوف کا رنگ،تصوف کے روایتی طور طریقوں سے بالکل جدا تھا۔ڈاکٹر افتخار احمد صدیقی لکھتے ہیں ’’۔شیخ نور محمد ان صوفیوں سے بالکل مختلف تھے جو وجد و حال کی لذتوں میں کھو کر، قرآن سے بے تعلق ہو جاتے ہیں۔انھیں مطالعۂ قرآن کا خاص ذوق تھا۔‘‘ہمیں شیخ نور محمد کی زندگی،دیانت وشرافت،خدمتِ خلق اور کسبِ حلال کے لیے محنت و جدوجہدسے عبارت نظر آتی ہے۔ ساری عمر روزی کے لیے ’’دل بہ یارودست بہ کار‘‘ پر ان کا عمل رہا۔دل خدا کی طرف،ہاتھ کام میں لگے رہتے تھے۔

یہ بھی پڑھیں:  امریکہ میں بیتے ماہ و سال

دنیاوی تگ و دو میں انھوں نے ہمیشہ خیال رکھا کہ رزقِ حلال سے تجاوز نہ ہونے پائے۔ روایت ہے کہ کچھ عرصہ وہ ڈپٹی وزیر علی کے ہاں ملازم رہے۔اس ملازمت کی ’’آمدن کا کچھ حصہ ایسا بھی تھا،جو کسبِ حلال کے اسلامی تصور میںنہیں آتا تھا۔‘‘چنانچہ شیخ نور محمد نے وہ ملازمت ہی تر ک کر دی۔

ان کی روحانیت کا یہ پہلو بھی نام نہاد صوفیہ سے مختلف اور منفرد تھا کہ وہ بناوٹ اور تصنع سے کوسوں دور تھے اور کسی خاص وظیفے کے یااسمِ ا عظم کے اِخفا کے قائل نہ تھے۔علامہ اقبال کے بھتیجے شیخ اعجازاحمد راوی ہیں کہ ایک بار میں نے دادا جان سے ’’اسمِ اعظم‘‘کے بارے میں پوچھا تو فرمایا: ’’مجھے جادو منتر،ٹونے ٹوٹکے جیسا کوئی اسمِ اعظم معلوم نہیں ہے کہ اس کے پڑھتے ہی کچھ سے کچھ ہو جائے۔ہاں، اللّٰہ تعالیٰ سے دعا کر نے سے مشکلیں آسان ہو جاتی ہیں، اس لیے دعا ہی اسمِ اعظم ہے۔پھر فرمایا :قرآن حکیم میں آیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی بہت سے اچھی صفات ہیں،جن کے ذریعے اس سے دعائیں کرنی چاہیں۔روحانیت سے متعلق شیخ نورمحمد کی زندگی میں متعدد واقعات ملتے ہیں۔ تفصیلات سے صر ف ِنظر کرتے ہوئے یہاں صرف ایک واقعہ بیان کرنا کافی ہو گا۔

 ان کی عمر لگ بھگ چالیس برس ہوگی، جب انھوں نے ایک خواب دیکھا کہ ایک وسیع و عریض میدان میں بہت سے لوگ جمع ہیں۔فضامیں ایک خوب صورت پرندہ یا سفید کبوتر اُڑ رہا ہے۔ لوگ اُٹھ اُٹھ کر دیوانہ وار اُسے پکڑ نے کی جدوجہد کر رہے ہیں۔پرندہ کبھی نیچے اترتا،کبھی آسمان کی طرف اُڑ جاتا۔آخر وہ سراپا جمال پرندہ،ایک دم فضا سے اترا اور نور محمد کی گود میں آگرا۔خواب سچے بھی ہو تے ہیں۔چند روز بعد شیخ نور محمد کے ہا ں ایک بچہ پیدا ہو ا، یہ اس سچے خواب کی تعبیر تھی۔خواب؛ اقبال مندی کا تھا۔خواب کے تعبیر کے دن نومبر کی ۹ تاریخ تھی اور سنہ ۱۸۷۷ء،اس  کا نام بجا طور پر ’’محمد اقبال‘‘رکھا گیا۔

اقبال کی والدہ امام بی کا تعلق سمبڑیال ضلع سیالکوٹ کے ایک کشمیری گھرانے سے تھا۔ وہ ایک نیک دل،سلیقہ شعار اور دین دار خاتون تھیں۔بالکل ان پڑھ تھیں،مگر اُن کی معاملہ فہمی،حسنِ سلو ک اور جذبۂ خدمت ِخلق کی وجہ سے پوارا محلہ ان کا گرویدہ تھا۔بسا اوقات عورتیں اپنے زیور ان کے پاس امانتاً رکھ جاتیں۔محلے یا برادری کے گھرانوں میں کوئی اختلاف ہو جاتا یاکوئی جھگڑا اُٹھ کھڑا ہو تا تو بے جی کی طرف رجوع کیا جاتا اور وہ اس خوش اسلوبی کے ساتھ فیصلہ صادر کرتیں کہ فریقین مطمئن ہو جاتے۔ بے جی ہمیشہ غریبوں اور محتا جوں کی مدد اور اعانت کے لیے تیار رہتیں۔قدرت نے انھیں غریب پروری اور خدمتِ خلق کا غیر معمولی جذبہ و دیعت کیا تھا۔وہ خاموشی سے مستحق خواتین کی مدد کیا کرتیں۔امداد کرنے کا ایک طریقہ یہ تھا کہ وہ محلے برادری کے غریب مگر شریف گھرانوں کی دس بارہ سال کی تین چار بچیاں اپنے گھر لے آتیں اور ان کی کفالت کرتیں۔بچیاـںگھر کے کام کاج میں ہاتھ بٹاتیں اور اس کے ساتھ ہی بے جی سے قرآن پاک، نماز، ضروری دینی تعلیم،اردو لکھنا پڑھنا،کھانا پکانا اور سینا پرونا بھی سیکھتیں۔ بے جی اپنی ہی بچیوں کی طرح ان کی پرورش کرتیں۔کچھ مدت بعد مناسب رشتہ تلاش کر کے ان کا بیاہ کردیتیں۔یوں محسوس ہوتا جیسا اپنی ہی بیٹیوں کو رخصت کر رہی ہوں۔تربیت بھی وہ نہایت ذمہ داری سے کرتیںاور اس سلسلے میں ہمیشہ چوکنا رہتیں۔بچیوں کے گھر سے باہرجانے اورقریبی اعزہ سے ملنے ملانے کے علاوہ،وہ بچوںپر بھی کڑی نظر رکھتیں۔ بقول شیخ اعجاز احمد:تربیت کے معاملے میں وہ ایک آمر سے کم نہ تھیں۔

ایسی والدہ کے گہوارئہ تربیت میں پرورش پانے والے بچے کو اقبال مند اور ماہ وانجم کا ہم قسمت ہو نا ہی تھا:

 تربیت سے تیری  مَیں ، انجم کا ہم قسمت ہوا

گھر  مرے  اجداد  کا  سرمایۂ  عزت  ہو

شیخ نور محمد،امام بی اور میر حسن __اقبال،ان تین نیک طینت ہستیوں کے پروردہ اور تربیت یافتہ تھے۔اقبال کے کرم فرما ،لسان العصر حضرت اکبر الٰہ آبادی نے، برسوں بعد والدئہ اقبال کا جو مرثیہ لکھا،اُس میں نہایت صحیح بات کہی کہ اقبال کی شخصیت میں جوخوبیاںتھیں:حق شناسی،خوش خوئی،ذوقِ معرفت،خودداری،تمکنت وغیرہ،ان کا بنیادی سبب یہ تھا کہ اُن کے والدین ’’ابرار‘‘تھے اور اقبال کی ذات میں انھی کا فیض ِتربیت جلوہ گر تھا:

حضرتِ اقبال میں جو خوبیاں پیدا ہوئیں

قوم کی نظریں جو ان کے طرز کی شیدا ہوئیں

یہ حق آگاہی ، یہ خوش گوئی ، یہ ذوقِ معرفت

یہ طریقِ دوستی ، خودداریِ باتمکنت

اس کے شاہد ہیں کہ ان کے والدین ابرار تھے

باخدا تھے ، اہلِ دل تھے ، صاحبِ اسرار تھے

جلوہ گر ان میں ، انھی کا ہے یہ فیض تربیت

ہے ثمر اس باغ کا یہ طبعِ عالی منزلت

شیخ نور محمد اپنے اقبال مند بیٹے کی تربیت کے لیے کس قدر سنجیدہ اور کوشاں رہے ہوں گے، اس کا اندازہ دو ایک واقعات سے لگایا جا سکتا ہے :

ایک واقعہ تو وہ ہے جس کا ذکر اقبال نے سب سے پہلے ۱۹۳۴ ء کے سفر افغانستان سے واپس آتے ہو ئے،اپنے عزیزدوست اور رفیقِ سفر سید سلیمان ندوی سے کیا تھا۔بعد ازاں نذیر نیازی کو بھی یہی واقعہ سنایا تھا کہ جب مَیں سیالکوٹ میں پڑھتا تھا تو نمازِفجر کے بعد قرآن مجید کی تلاوت میرا معمول تھا۔والد صاحب اپنے اوراد و ظائف سے فارغ ہو کر مسجد سے گھر آتے اور مجھے تلاوت کرتا دیکھ کر،اپنے کمرے میں چلے جاتے۔ایک روز نمازِفجر کے بعد حسبِ معمو ل تلاوت میں مصروف تھا کہ والد صاحب میر ے پاس سے گزرے۔ فرمایا : کبھی فرصت ملی تو میں تمھیں ایک بات بتائوں گا۔کچھ مدت بعد اسی طرح مسجد سے آکر میرے پاس بیٹھ گئے۔میں تلاوت کر تے کرتے رک گیا۔وہ فرمانے لگے :تم کیا پڑھ رہے ہو ؟مجھے ان کے اس سوال پر تعجب ہوا اور کچھ ملال بھی،کیو نکہ انھیں معلوم تھا کہ میں قر آن مجید کی تلاوت کر رہا ہوں۔بہرحال میں نے بڑے ادب سے جواب دیا :قرآن مجید۔کہنے لگے :تم جو کچھ پڑھتے ہو،اسے سمجھتے بھی ہو؟ کہا:کیوں نہیں،کچھ نہ کچھ سمجھ لیتا ہوں۔ والد صاحب خاموش ہو ئے اور اٹھ کر اپنے کمرے میں چلے گئے میں سوچتا رہا: اس سوال جواب کا مقصد کیا تھا؟

یہ بھی پڑھیں:  بابا گرو نانک کے تصورات و نظریات

چند دن گزر گئے۔بات آئی گئی ہو گئی۔اس واقعے کو چھٹا روز تھا۔ حسبِ معمول میںتلاوت کر رہا تھا کہ والد صاحب مسجد سے آئے اور جب میں نے تلاوت ختم کر لی تو مجھے بلا یا اور اپنے پاس بٹھا کر بڑی نر می سے کہنے لگے :بیٹے !قر آن مجید وہ شخص سمجھ سکتا ہے جس پر اس کا نزول ہو۔ جب تک تم یہ نہ سمجھوکہ قر آن مجید تمھا رے قلب پر بھی اسی طرح اتر رہاہے جیسے رسول اللہ ﷺکے قلب ِاقدس پر نازل ہوا تھاتو تلاوت کا مزہ نہیںاور تم قرآن مجید کو پوری طرح سمجھ بھی نہیں سکتے ہو۔اگرتم تلاوت اس طرح کرو،جیسے یہ تم پر نازل ہو رہا ہے یعنی اللّٰہ خود تم سے ہم کلام ہے تو یہ تمھاری رگ و پے میں سرایت کر جائے گا۔

اقبال کہتے ہیں کہ والد صاحب کی باتوںسے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ قرآن مجید دل کے راستے بھی انسانی شعور میں داخل ہو تا ہے۔

بالِ جبریل(ص۷۸) کا یہ شعر،اسی واقعے کی یاد دلاتا ہے :

ترے ضمیر پہ جب تک نہ ہو نزولِ کتاب

گرہ کشا ہے نہ رازی ، نہ صاحبِ کشاف

شیخ نور محمد کے اندازِتر بیت کے ایک اور واقعے کا ذکر اقبال نے رموزِبے خودی میں کیا ہے۔مثنو ی کے متعلقہ حصے کا عنو ان ہے :’’در معنیِ ایں کہ حسنِ سیر تِ ملیّہ ازتاَدّب بآدا ب ِ محمد یہ است‘‘یعنی اس مضمون کی و ضا حت میں کہ ملت ِ اسلامیہ کا حسنِ سیر ت و کر دا ر، آ دابِ محمد یہؐ کی اِتبا ع میں ہے۔

علامہ بتا تے ہیں کہ میر الڑ کپن کا ز ما نہ تھا،بلکہ آ غاز ِ شبا ب۔ ایک رو ز ایک  بھکا ری ہمارے گھر کے در و ازے پر آ یا اور اونچی او نچی آو ازمیں بھیک ما نگنے لگا۔ میں نے چا ہا کہ وہ ٹل جائے، مگر وہ پیہم ِ صد ا بلند کرتار ہا۔مجھے غصہ آ گیا اور جو شِ جذ با ت میں اچھے بر ے کی تمیز نہ ر ہی۔ مَیں نے اس کے سر پر ایک لا ٹھی دے ما ری۔ اُس نے ا د ھر اد ھرسے بھیک ما نگ کر جو کچھ بھی جمع کیا تھا، وہ اُس کی جھو لی سے ز مین پر گر گیا۔ و الد صا حب یہ منظر دیکھ ر ہے تھے، میر ی اس حر کت سے بے حد آ ز ردہ ہو ئے، چہر ہ مر جھا گیا اوران پر افسر دگی چھا گئی۔ ان کے لبو ں سے ایک جگر سو ز آہ نکلی اور دل سینے میں تڑ پ اٹھا۔ ستا رے جیسا ایک آنسو نکلا، پلکو ں پر چمکا اور گر گیا۔ یہ دیکھ کر مجھے سخت ند امت ہو ئی کہ میں نے و الد کو سخت تکلیف پہنچا ئی۔ا پنی اس حر کت پر بے قر ار بھی ہو ا (کہ اب تلا فی کیسے ہو ؟)اسی کیفیت میں و الد ِ ما جد کہنے لگے: اُ متِ مسلمہ کل اپنے آ قا ر سو ل اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ و سلم کے سا منے جمع ہو گی۔ ان میں ہر طبقے کے لو گ ہو ں گے: غاز ی، حفا ظِ حد یث، شہدا، اکا بر ِامتّ، ز اہد، عا لم اور گنہگا ر بھی۔ اس مو قعے پر اس درد مند گد ا گر کی صد ا بلند ہو گی (وہ فر یا د کر ے گا کہ مجھ سے ایک نو جو ان نے ز یا دتی کی ہے)۔ چنا نچہ نبی کر یم صلی اللّٰہ علیہ و سلم مجھ سے مخاطب ہوں گے:

حق  جوانے  مسلمے  با  تو  سپرد

کو   نصیبے  از  دبستا نم   نبرد

از تو ایںیک کار ِآساںہم نہ شد

یعنی  آں انبارِ  گِل آدم  نہ شد

)حق تعالیٰ نے ایک مسلما ن نو جو ان کو تیر ے سپر د کیا کہ تو اسے صحیح تعلیم و تر بیت دے لیکن اس نو جو ان نے میر ی ادب گاہ سے کو ئی سبق نہ حا صل کیا۔ [حضو رؐ  فر مائیں گے کہ] تو اس آسان سے کا م کو بھی انجا م نہ دے سکا، یعنی ایک تودۂ مٹّی کو آدمی نہ بنا سکا۔

و الد نے فر ما یا کہ اگر چہ آنحضو ر ؐ، اس ملا مت میں بھی نر م گفتا رہی ہو ں مگر میں تو سخت خفیف اور شرمند ہ ہو ں گا اور امیدو بیم میں گر فتا ر ر ہوں گا۔ پھر مجھے مخا طب ہو کر کہا : بیٹا !ذ را سو چو اور رسول اللہﷺ کی امت کے جمع ہو نے کا منظر تصو ر میں لا ئو، پھر میر ی یہ سفید داڑھی دیکھو اور میر ے امید و بیم کے لرزے کو نگا ہ  میں رکھو۔ اس کے بعد درد مندا نہ لہجے میں کہنے لگے:

بر پد ر ایں  جو رِ  نا ز یبا مکن

پیشِ مو لا بندہ  را  ر سو ا  مکن

غنچہ ا ی از  شاخسارِ مصطفی

گل شو از بادِ  بہار مصطفی

از بہا ر ش ر نگ و بو  با ید گر فت

بہر ۂ از خلقِ اُو با ید گر فت

)دیکھو، بیٹا!اپنے باپ پر یہ نا زیبا ظلم نہ کر و اور آ قا کے سا منے غلا م کو ر سو ا نہ کر نا۔ تو شاخسارِ مصطفی کا ایک غنچہ ہے۔حضو رؐ ہی کی نسیمِ بہا ر سے شگفتہ ہو کر پھو ل بن جا۔ تجھے آپؐ کی بہا ر سے ر نگ و بو حاصل کر نی چا ہیے اور تجھے آ پؐ کے خلقِ عظیم کی اتبا ع کرنی چا ہیے۔

 و جو ہا ت تو اور بھی ہیں، مثلا ً اقبا ل گھر انے کی دین سے گہر ی و ابستگی، مذ ہبی شعا ئر کی پا بندی، والد ۂ ا قبال کا جذ بۂ خدمتِ خلق ؛پھر علا مہ میر حسن کی تر بیت اور خو د اقبال کے و الد شیخ نو ر محمد کا روحانی مز اج، نیک نفسی اور پر ہیز گا ری و غیر ہ  لیکن ر اقم کی د انست میں یہی وہ و ا قعہ ہے، جس نے اقبال کے قلب و ذ ہن میں آ خر ت میں جو اب دہی کے احسا س و شعو رکو بید ا ر کیا اور اُ ن کے نیک طینت والد نے اپنی دل سو زاور درد مند انہ گفتگو اور پند و نصیحت کے ذ ر یعے، ان کے دل میں محبت ِر سو لؐ کا بیج بو یا۔ اقبال کی شا عر ی اور شخصیت میں یہ بیج ایک تن آ ور، اور بلند وبا لا اور اطر اف میں خو ب پھیلی ہو ئی شاخوں و الا گھنا در خت بن کر نمو دا ر ہو ا۔

عین ممکن ہے اقبال کے لڑ کپن میں اسی طر ح کے کچھ اور و اقعا ت بھی رو نما ہو ئے ہو ں۔

ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی کی کتاب ، علامہ اقبال شخصیت اور فکر و فن سے اقتباس

اپنا تبصرہ بھیجیں