hazrat khansa

حضرت خنساءرضی اللہ عنہا کی بہادری

EjazNews

حضرت خنساءرضی اللہ عنہا مشہور شاعرہ ہیں اپنی خوشی سے اپنی قوم کےساتھ آکر مدینہ میں مسلمان ہوئیں۔ حضرت عمرؓ کی خلافت کے زمانہ میںقادسیہ کی مشہور جنگ ہوئی ہے اس لڑائی میں اپنے چار وں بیٹوں سمیت شریک ہوئیں ۔ ان نوجوان لڑکوں کو جنگ سے ایک دن پہلے نصیحت کی اور لڑائی کی کی شرکت کی ترغیب دی۔ فرمانے لگیں: میرے پیارے بیٹو! تم اپنی خوشی سے مسلمان ہوئے ہو اور اپنی ہی مرضی سے تم نے ہجرت کی ہے۔ ان کاموں کیلئے تم کو کسی نے مجبور نہیں کیا ۔ خدا کی قسم جس طرح ایک ماں کے پیٹ سے پیدا ہوئے ہو اسی طرح تم سب ایک ہی باپ کی اولاد ہو۔ میں نے نہ تمہارے باپ کی خیانت کی اور نہ تمہارے ماموﺅں کو بدنام کیا ہے اور نہ تمہاری شرافت میںکوئی دھبہ لگایا ہے اور نہ تمہارے نسب کو خراب کیا ہے تم کو معلوم ہے کہ اللہ کے راستہ میں لڑنے کا کیا ثواب اور کتنا بڑا درجہ ہے اور تمہیںیہ بھی معلوم ہے کہ آخرت باقی رہنے والی ہے اور دنیا فنا ہونےوالی ہے۔
اللہ فرماتا ہے:
ترجمہ: اے ایمان والو تکلیفوں میں صبر کرو اور کفاروں کے مقابلے میںجمے رہو اور تیار رہوکہ تم فلاںپاﺅ۔ (ال عمران)
کل صبح کو جب صحیح سالم اٹھو اور لڑائی کی جلتی ہوئی آگ دیکھو تو اس کے انگاروں میں گھس جاﺅ اور کافروں کا خوب مقابلہ کرو خدا نے چاہا تو جنت میںنہایت عزت و اکرام سے داخل ہو گے چنانچہ جب صبح ہوئی اور لڑائی کی آگ خوب تیز ہوگئی تو چاروں لڑکوں میں سے ایک ایک لڑکا نمبر وار آگے بڑھتا اور اپنی ماں کی نصیحت کو اشعار میں پڑھ کر جوش پیدا کرتا اور جنگ کی آگ میں کود پڑتا اور بہادر ی کا جوہر دکھا کر شہید ہو جاتا۔ اسی طرح دوسرا بڑھتا اور بہتوں کو موت کے گھاٹ اتار کر شہید ہ وجاتا۔ اسی طرح چاروں یکے بعد دیگرے ماں کے سامنے جنگ میں شہید ہوگئے جب ماں کو ان کی شہادت کی خبر پہنچی تو اللہ کا شکر ادا کر کے کہا خدا کا شکر ہے جس نے مجھے ان کی شہادت سے مشرف و مکرم بنایا ۔ مجھے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سائے میں ان لڑکوں کے ساتھ رہوں گی۔
حضرت خنساءرضی اللہ عنہا کی اس داستان سے شجاعت اور صبر سیکھو۔

یہ بھی پڑھیں:  بنی اسرائیل کے مولوی صاحب کو سمجھانیوالی عورت کا ذکر خیر

اپنا تبصرہ بھیجیں