China Education

تعلیم کے شعبے میں چین کا امریکہ اور برطانیہ سے مقابلہ

EjazNews

چین تعلیم کے شعبے میں اپنی اہمیت اور حیثیت منواتا جارہا ہے۔ اس کی کارکردگی بے مثال ہے، افریقی طالب علموں میںگزشتہ چند سالوں میں چین میں دلچسپی میں26فیصد اضافہ ہوا ہے۔2003ءمیں صرف 2ہزار افریقی طالب علم چین میں زیر تعلیم تھے۔ یونیسکوکے مطابق 2015ءمیں افریقی طلبہ کی تعداد 50ہزار ہوچکی تھی جبکہ امریکہ اور برطانیہ میں مشترکہ طور پر افریقی طلبہ کی تعداد 40ہزار سے زائد نہیں۔چین نے افریقی طالب علموں کے حوالے سے 2014ءمیں سب کو پیچھے چھوڑ دیا تھا۔ افریقی طالب علموں کے لیے فرانس کے بعد چین سب سے زیادہ اہمیت کا حامل ہے ۔ فرانس میں تقریباً95ہزار افریقی طالب علم زیر تعلیم ہیں اور چین میں چند سالوں میں ان کی تعداد 50ہزار سے تجاوز کر چکی ہے۔ چینی وزارت تعلیم کے مطابق ان اعداد و شمار میں تیزی سے اضافہ ہورہاہے۔ چین اور افریقہ میں بڑھتے ہوئے تعلقات کے بڑھتے ہوئے اثرات تعلیم پر بھی مرتب ہو رہے ہیں۔ امریکی، یورپی ، ایشیائی اور اوشیانا ممالک کے لاکھوں طلبہ زیر تعلیم ہیں۔تاہم افریقہ طلبہ کی مجموعی تعداد کا 13فیصد ہے جو 2003ءمیں 2فیصد تھے۔ اس ڈرامائی اضافے کی کئی وجوہات ہیں۔ چین انسانی تربیت کے شعبے میں تیزی سے ابھرتا ہوا ملک ہے اورچین نے کورم آن چائینہ امریکہ کارپوریشن یعنی چین افریقہ تعاون کا فورم قائم کیا ہے اور افریقی بچوں کو زیور تعلیم سے آراستہ کرنے کے لیے مالی امداد بھی مہیا کر رہے ہیں اور سیاسی تعاون بھی۔ چین نے 2006ءمیں افریقی طالب علموں کے لیے ایک بڑا سکالر شپ پروگرام بھی جاری کیا۔ اس طرح آنے والے دنوں میں یہ افریقی نوجوان اپنے ممالک میں چینی اثرات کے پھیلاﺅ کا سبب بنیں گے، یہ ایسے ہی جیسے کیمبرج، ہاورڈ یونیورسٹی کے فارغ التحصیل طالب علموں نے برطانیہ اور یورپ کے جمہوری تصورات کے پھیلاﺅ میں اپنا کر دار ادا کیا ہے۔ ان طالب علموں کا تعلق گیمبیا ، ایتھو پیا، مراکش، مشرقی افریق، ایریٹیریااور کیمرون سے ہے۔ یورپی ممالک کو تشویش ہے کہ مستقبل میں ان ممالک میں مغربی تصورات کی جگہ چینی کمیونزم یا سوشل ازم کو فوقیت حاصل ہوگی اور دوسری طرف امریکی اثرو رسو خ کم ہو جائے گا۔ دوسری طرف ان ممالک میں برین ڈرین بھی ہوگا۔ لیکن یہ برین ڈرین ، فرانس ، امریکہ ، برطانیہ کی طرف نہیں ہوگا بلکہ اس کا رخ چین کی جانب ہے اس طرح چین کو بہت ذہین دماغ مل جائیں گے۔
امریکہ ایک عالمی سپر طاقت ہے ۔ سائنس ،ٹیکنالوجی اور انجینئرنگ اور میتھ کے شعبوں میں اب امریکی طلبہ و طالبات دوسرے ممالک کا مقابلہ کرنے کی تعلیمی سکت نہیں رکھتے اور اس بات کا اعتراض خود امریکی ماہرین تعلیم نے بھی کیا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے ناسا کے بجٹ پر کٹ لگا کر خلائی سائنس کے شعبوں کی ترقی کو پیچھے دھکیل دیا ہے اور اب سکولوں میں بھی اس کا فرق پڑا ہے۔ اس کا امریکہ میں ہر سطح پر منفی اثر پڑا ۔
چین اور دوسرے ممالک کی ملٹی نیشنل کمپنیاں ان 4 شعبوں میں تعلیمی ترقی کے لیے بہت زیادہ سرمایہ کاری کررہی ہیں ان کا حصہ کئی ارب ڈالر سے تجاوز کر چکا ہے۔ لیکن امریکی کمپنیاںتقریباً 8ارب ڈالر کے لگ بھگ سرمایہ کاری کررہی ہیں ابھی اس شعبے میں ان کی سرمایہ کاری 1ارب 3کروڑ کے لگ بھگ ہے امریکہ میں 138بڑے منصوبوں میں سال گزشتہ درجنوںکمپنیوں نے 1ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی تھی جبکہ چین اور دوسرے ممالک کی کمپنیاں اس سے کہیں زیادہ ایسا سائنس ، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اور میتھ کے شعبوں میں خرچ کر رہی ہیں۔ امریکہ ایجوکیشن ٹیکنالوجی کی مد میں اب اپنا مقام کھوتا جارہا ہے۔ بلکہ ایک امریکی مبصر کے مطابق امریکہ ٹریل کر رہا ہے۔ اس کے پاس تربیت یافتہ ورک فورس کی کمی ہے اور یہ عمل مستقبل میں اس کی صنعتی ترقی پر برے طریقے سے اثر انداز ہوگا۔ جس کا ابھی امریکی حکام کو اندازہ نہیں ہے۔
چین 2020ءتک ان 4سائنسی شعبوں پر15ارب خرچ کرچکا ہو گا جبکہ امریکہ میں اس کا حجم نصف ہوگا۔ یہی نہیں امریکہ شاید آرگنائزیشن برائے اقتصادی تعاون و ترقی جنہیں ہم عرف عام میں سائنسی طور پر ترقی یافتہ ممالک کہتے ہیں اس میں بھی وہ رینکنگ میں نیچے آجائے ۔ ان ممالک میں 2015ءمیں کی گئی رینکنگ کے مطابق امریکی بچے سنگا پور ، جاپان، کینیڈا اور چین سے پیچھے تھے۔ بلکہ اسٹونیا کے طالب علم بھی امریکی بچوں سے زیادہ ذہین نکلے۔ ٹاپ 10میں امریکہ کا شمار درمیانے درجے کے طالب علموں میں کیا گیا تھا۔ ذہانت سے محروم یہ امریکی بچے بڑے ہو کر کس طریقے سے عالمی ترقی کا مقابلہ کریں گے۔
پروگرام فار انٹرنیشنل سٹوڈنٹ اسسمنٹ جسے عرف عام میں عسا کہا جاتا ہے اس نے 2015ءمیں 72 بچے 15سال کی عمر میں 5لاکھ 40ہزار بچوں سے امتحان لیے اور ان سے مختلف طرح کے سوالات کے ذریعے سے سائنس ، ٹیکنالوجی ، انجینئرنگ اور میتھ سے ان کی قابلیت کا اندازہ لگانے کی کوشش کی ان میں پہلے نمبر سنگاپور، دوسرے پر ہانگ کانگ، تیسرے پر مکاﺅ، چوتھے پر تائیوا ن اور پانچویں پر چین تھا۔پھر کوریا ، سوئزر لینڈ، اسٹونیا ، کینیڈا ،نیدر لینڈز ، ڈنمارک ، فن لینڈ، سلو وینیا ، بیلجیم ، جرمنی ، پولینڈاور آئرلینڈ کا نمبر آتا ہے۔ امریکی اس معاملے میں بہت ہی پیچھے رہ گئے تھے بلکہ ان کا نمبر تو تیسری دنیا کے کئی ممالک کے بعد آیا۔بزنس اینڈ سائنس نامی جریدے میں شائع ہونے والی اس تحقیق کے مطابق 5.5 لاکھ ذہین طالب علموں میں امریکی طالب علم ریڈنگ اور سائنس کے مضامین میں آگے نہ تھے۔ ٹاپ 10ممالک میں میتھ ، ریڈنگ اور سائنس کے مضامین میں امریکی طالب علم کسی شمار قطار میں شامل نہ تھے اور کم و بیش یہی ممالک مختلف پوزیشنوں پر رہے۔ یہ اندازہ لگانا چندہ مشکل نہیں کہ ذہانت کا کوئی تعلق سرحدوں سے نہیں اور نہ ہی اس کا تعلق اپنی تعلیمی اداروں میں دی جانے والی سہولتوں سے ہے۔ بلکہ اس کا تعلق تعلیمی قابلیت ، اساتذہ کا معیار اور وہاں خرچ کی جانے والی سہولتوں سے ہے ان کے بغیر دنیا کا کوئی ملک ترقی نہیں کر سکتا۔ لہٰذا مختلف ممالک کو چاہیے کہ وہ اپنے ہاں ان شعبوں میں زیادہ سے زیادہ سرمایہ کاری کریں اور اپنی خواتین کو بھی ان شعبوں میں ان کا ضروری حصہ دیں ۔ یہ قومی ترقی کے لیے انتہائی ضروری ہے۔
اعلیٰ تعلیم یافتہ چینی باشندوں کا تناسب 3.75فیصد سے زیادہ ہوچکا ہے ۔ امریکہ میں یہ تناسب33فیصد اور ترقی یافتہ ممالک میں40فیصد ہے۔ اس وقت چینی طالب علم عالمی تعلیمی منڈی کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔ تقریباً تمام ہی ممالک چینیوں کے لیے خصوصی پیکجوں کا اعلان کر رہے ہیں۔ اس سے انہیں اپنے تعلیمی اداروں میں طلباءکی تعداد اور مناسب فیسوں کے حصول میں بہت مدد ملے گی۔ یہی وجہ ہے کہ اس وقت امریکہ میں بھی چینی زبان سیکھنے والوں کا تناسب مسلسل بڑھتا جارہا ہے۔ 10ویں اور 12ویں جماعت میں 64ہزار طالب علم غیر ملکی زبانیں سیکھ رہے ہیں ۔ ہسپانوی سیکھنے والوں کا تناسب 69فیصد ، فرانسیسی سیکھنے والوں کا تناسب 2فیصد اور جرمن سیکھنے والوں کا 3فیصد ہے۔ چینی سیکھنے والوں کا تناسب 2.3سے تجاوز کر چکی ہے۔ جبکہ جاپانی، روسی اور عربی زبان سیکھنے والوں کا تناسب 1فیصد سے کم ہے۔ امریکہ کے تقریباً تمام ہی سکولوں میں ہسپانوی زبان کو سب سے زیادہ اہمیت حاصل ہے۔ اس کے بعد زیادہ دلچسپی فرانسیسی زبان میں ہے۔ جو پورے امریکہ بھر میں پھیلے ہوئے ہیں۔غیر ملکی زبانوں میں سب سے زیادہ اہمیت اب چینی زبان کو حاصل ہو رہی ہے۔ اس سے امریکہ میں چین کی بڑھتی ہوئی دلچسپی کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔
برطانوی یونیورسٹیوں کو تو غیر ملکی طالب علموں کی شاید اب ضرورت کم ہوتی جارہی ہے ۔برطانوی یونیورسٹیوں کے ریسرچ کے ادارے کے مطابق یہاں کے فارغ التحصیل طالب علم دنیا بھر میں برطانوی نقطہ نظر کے پھیلاﺅ کا باعث بنتے ہیں مگر 2012ءمیں حکومت نے تعلیم کے بعد ورک ویزہ دینے کی سہولت منسوخ کر دی تھی۔ مشاورت کے دوران صرف 6فیصد نے اس تنسیخ کی حمایت کی کیونکہ طالب علموں پر روزگارکے مواقع بند کرنے سے ان کے لیے یہاں ٹھہرنا مشکل ہوگیا تھا۔ غیر یورپی یونین گریجوایٹ کی صرف 3فیصد کو Tire 2کو ورک ویزہ دیا جاتا ہے۔ Tire2ورک ویزہ ان کی ڈگریاں ملنے کے بعددیا جاتا ہے کیونکہ ڈگریاں ملنے سے پہلے اوورسیز طالب علموں کو اپنے وطن واپس جانا پڑتا ہے۔ لہٰذا ملازمتوں کے لیے انہیں اپنے ملک میں رہ کر ہی درخواست دینا پڑتی ہے مگر اپنے ملک میں رہ کر تو وہ کسی بھی ملک کے لیے درخواست دے سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  آسٹریلیا کا افغانستان میں سفارتخانہ بند کرنے کا فیصلہ

اپنا تبصرہ بھیجیں