Mian_Muhammad_Bakhsh

میاں محمد بخش ؒ

EjazNews

نازنیاز تے سفر عاشقی دا ایس قصے وچ آیا
سفر العشق محمد بخشانام ولیوں پایا
واہ دا باغ ارم دا بنیاں دیویں رب بہاراں
ٹھنڈی تتی دانہ لگوس رونق رہے ہزاراں
جے رب سچے رحمت کیتی رہی باغ اجالا
مرکے خاک ہوئے گا عاجز باغ بنا دن والا
میاں محمد گوجرگاﺅں کھڑی کے رہنے والے تھے۔ تاریخی کتب سے پتہ چلتا ہے کہ ان کے دوبھائی اور تھے جن کے نام میاں بہاول بخش اور میاں علی بخش تھے۔ میاں محمد بخش کو شاعری کاشوق بچپن ہی سے تھا اور پھر آہستہ آہستہ یہ شوق اور بڑھتا گیا یہی وجہ ہے کہ انہوں نے پنجابی زبان کے دوسرے صوفی شعراءکی طرح شاعری ہی کو اپنے اظہار کا ذریعہ بنایا۔
قصہ سوہنی مہینوال، تحفہ میراں، کرامات غوث الاعظم، قصہ شیخ صنعاں، قصہ شیریں فرہاد، قصہ سخی خواص خاں، قصہ مرزا صاحباں، قصہ شاہ منصور، گلزار فقر، ہدایت المسلمین، تحفہ رسولیہ، تذکرہ¿ مقیمی، سفر العشق (سیف الملوک) ،غنیمت کنجا ہی کی مشہور فارسی مثنوی نیرنگ عشق کاپنجابی میں ترجمہ بھی کیا۔ انہوں نے قصہ سیف الملوک 1779ءمیں لکھی تھی۔
میاں محمد بخش نے بہت سی کتابیں لکھی ہیں مگر ان کو شہر دوام بخشنے والی کتاب سفر العشق یعنی ”سیف الملوک“ وبدیع الجمال ہے ۔اس کتاب میںفن کی سچائی ، انسانی دکھ درد کا احساس بھی ہے اور انسانی سچائیوں کو بھی پیش کرتے ہیں۔ زبان و بیان کی خوبیاں، شاعرانہ صناعی، تشبیہات و استعارات، رمزدکنایہ، سلاست و روانی، زور بیان اور مشاہدہ ، احساس و ادراک، فنی خوبیاں اور سچائیاں ، مجاو حقیت غرض اپنی اس کتاب میں میاں محمد بخش کی شخصیت جس طرح مکمل صورت میں ابھرتی ہے وہ ان کی اور کسی تصنیف میں سامنے نہیںآتی ۔
سنوں حسن میمندی والی دساں کھول حکایت
جتھوں ایس قصے دی اول ظاہر ہوئی
روایت خبراں گھن کتاباں وچوں قصہ جوڑ بنایا
واللہ اعلم اوس زمانے کیونکر حال دھایا
ترجمہ:آپ سنیں، میں آپ کو حسن میمندی کی کہانی بتاتا ہوں، جہاں سے اس قصے کا آغاز ہوتا ہے۔
میں نے کتابوں میں سے واقعات لے کر پورا قصہ جوڑا ہے۔
باقی اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ اس زمانے میں یہ کیوں کر پیش آیا تھا۔
انہوںنے اپنی شاہکار تصنیف ”سیف الملوک“ میں خود ہی اس مقام کا تذکرہ کیا ہے۔
میاں محمد کے بارے میں ایک روایت ہے کہ انہوں نے ایک خواب دیکھا جس کے بعد وہ اپنے مرشد سائیں غلام محمد کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اپنے دل کاحال بیان کیا۔ انہوں نے ان کی بات سنی طلب کااندازہ کیا قلب کی کیفیت جانی اور فرمایا ”ابھی چندروز صبرکرو !“۔”ابھی چند روز اور صبر کرو“
اس طرح کافی عرصہ گزر گیا یہاں تک کہ ان کا اشتیاق اور بڑھتا گیا اوریہ تزکیہ نفس اور عرفان و آگہی کی کئی منزلیں طے کر گئے۔ آخر ایک روز سائیں غلام محمدانہیں اپنے پیر کی درگاہ پر لے گئے اور اپنی بیعت کا شرف عطا کیا اس کے ساتھ ہی ان سے کہا:کشمیر جاﺅ اورشیخ احمد ولی کی خدمت میں حاضرہو کر ان کی صحبت سے فیض حاصل کرو۔“
مرشد کا حکم تھا،دل میں طلب تھی اور ولایت مقدر ہو چکی تھی۔ لہٰذا میاں محمد بخش کشمیر کی طرف چل دئیے اور سرینگر جا پہنچے۔ وہاں شیخ احمد ولی کی خدمت میں پیش ہوئے اوراپنا مدعا بیان کیا چنانچہ وہاں انہوںنے فقیری اور سلوک کی منازل طے کیں اور جب شیخ احمد ولی نے دیکھا کہ علوم باطنی میں تکمیل پا چکے ہیں تو انہوں نے دستار ولایت عطا کی اور پھر یہ ان کی اجازت سے واپس کھڑی شریف آگئے۔
سیف الملوک میں قومی یا وطنی شاعری کا موقع تو نہیں ہے لیکن اس کے باوجود ایسے اشعار ملتے ہیں جن سے وطن سے پیار کے جذبے کا شدید اظہار ہوتا ہے۔ وہ اس مٹی سے پیار کرتے نظر آتے ہیںجہاں وہ پیدا ہوئے جہاں ان کا بچپن بیتا جہاں وہ جوان ہوئے اور پھر زندگی بسر کی۔ ہوسکتا ہے ان کے دل میں یہ احساس اس وقت جاگا ہو جب انہوں نے مختلف مقامات کا سفر اختیار کیا اور راہ کی صعوبتوں سے دل میں وطن کا پیار جاگا ۔ چنانچہ ایک شعر میں اس احساس کا بھرپور اظہار ہوتا ہے۔
توڑے کتے بن کے رہئیے وچ وطن دیاں گلیاں
دردر جھڑکاں سہئیے تاں بھی پھر پردیسیوں بھلیاں
ترجمہ: انسان اپنے وطن کی گلیوں میں گھر گھر پھرنے والا کتا بن کر رہے ۔
دردر کی جھڑکیاں برداشت کرے تو پھر بھی پردیس سے اچھی ہوتی ہیں۔
میاں محمد بخش ایک صوفی منش اور درویش صفت انسان تھے۔ وہ حسن و عشق کے معاملات یا دوسرے لفظوں میں معاملہ بندی میں کمال دکھاتے لیکن تعجب ہوتا ہے انہوں نے ایسے مواقع پر بھی بڑے کمال کی اور اونچی شاعری کی ہے۔ جب وہ حسن کی توصیف کرتے ہیں تو موتی پروتے چلے جاتے ہیں۔ ”ورو صف جمال شاہ پری میگوید “ اور ”درو وصف جمال با کمال شہزادہ سیف الملوک “ کے عنوانا ت کے تحت انہوں نے حسن کی جو عکاسی کی ہے وہ ایک ایک شعر میں پڑھنے والے کا دل کھینچتی ہے جسم کے خدو خال اس طرح واضح کرتے ہیں کہ کوئی سنگ تراش معلوم ہونے لگتے ہیں اور ایسی نادر اور مناسب تشبیہات اور استعارے استعمال کرتے ہیں کہ مکمل اور بڑے فن کار نظر آتے ہیں اور پھر جب وہ ہجر میں حسن سوگوار کانقشہ کھینچتے ہیں تو وہاں بھی ان کی شاعری پڑھنے سے تعلق رکھتی ہے۔
میاںمحمد بخش کا مطالعہ خاصا وسیع ہے اور وہ علم باطنی کے ساتھ ساتھ علم ظاہری میں بھی کامل تھے۔ لیکن اس کے ساتھ ہی ساتھ خود پنجابی ادب بھی ان کی آنکھوںسے اوجھل نہیں تھا۔ اس سلسلے میں بھی ان کا مطالعہ اور معلومات کچھ کم نہیں ہے۔
”درشکایت ظلم زمانہ بطریق عاشقانہ“ کے عنوان کے تحت انہوںنے اپنے سے پہلے عہد میں ہونے والے پینتالیس پنجابی شاعروں کاذکر کیا ہے۔ وہ بابا فرید گنج شکر سے شروع کر کے اور اپنے ہمنام شاعر محمد تک نام گنتے چلے جاتے ہیں صرف نام ہی نہیں گنتے بلکہ مختصر الفاظ میں ان کی شاعری کی خصوصیات بتاتے ہیں کہ وہ کس صنف سخن میں ماہرتھا۔ اس طرح ان کے علم اور مطالعے کا اندازہ کر لینا کوئی مشکل نہیں ہے یہ بات یہیں تک نہیں کہ انہوں نے صرف مطالعہ ہی کیا بلکہ بعض اشعار میں وہ بعض شاعروں سے متاثر بھی نظر آتے ہیں مثال کے طورپر میاں محمد کا یہ شعر پڑھیے۔
میں ہن ایسا ہوساں بابل جیسا ککھ گلی دا
سبھ مصیبت سر پر چھا گی پیراں ہیٹھ ملی دا
ترجمہ: اے میرے بابل، اے میرے مالک! میں ایسا بن جاﺅں جیسے گلی میں گرا ہوا تنکا ہوتا ہے۔
لوگ اسے اپنے پاﺅں تلے روندتے ہیں اور وہ خاموشی سے یہ ساری مصیبت اپنے سر پر جھیلتا رہتا ہے۔
بابا فرید کا یہ شلوک دیکھئے
فریدا ایسا ہو رہو جیسا ککھ مسیت
چتے پیر لتاڑئیے تیری صاحب نال پریت
ترجمہ: اے فرید ایسا بن جا ، اپنے آپ کو ایسا بنالے جیسے مسجد میں صف کا تنکا ہوتا ہے
دن رات لوگ تجھے پاﺅں تلے روندیں مگر تو پھر بھی اف نہ کر کیوں کہ تیری تو خدا سے پریت ہے۔
اسی طرح میاں محمد بخش کا یہ مصرعہ پڑھیے
نازک پیر گلاب پری دے مہندی نال سنگارے
ترجمہ: پری کے پاﺅں گلاب کے پھولوں کی طرح نازک تھے جنہیں مہندی سے سنگھارا گیا تھا۔
پنجابی کے درویش شاعر سید ہاشم کا یہ مصرعہ دیکھئے
نازک پیر ملوک سسی دے جہڑے مہندی نال شنگارے
ترجمہ: سسی کے پاﺅں نازک اور نرم تھے جنہیں مہندی سے سنگھارا گیا تھا۔
پنجابی زبان کے یہ نامور شاعر صوفی کامل اور درویش صفت فن کار اپنے زمانہ کی بے قدری اور لوگوں کی بے توجہی کا گلہ کرتے ہوئے اور اپنی شاعری سے نور بصیرت عام کرتے ہوئے 1324ھ مطابق 1906ءمیں دنیا سے رخصت ہو گئے۔ وہ موضع کھڑی ہی میں پیدا ہوئے اور اسی مٹی نے اپنے نامور فرزند کو ہمیشہ کے لئے اپنی گود میں لے لیا۔ ان کے مزار پر یہ شعر لکھا ہوا ہے جس سے ان کی تاریخ وفات نکلتی ہے۔
باسر قول بزرگی راز داں
خوابگاہ شیر یزدانی بخواں
ہر سال ان کے مزاد پر عرس ہوتا ہے اور دور دراز سے عقیدت مندآکر اپنی عقیدت اور محبت کے پھول نچھاور کرتے ہیں اور جو شہرت اور ناموری انہیں اپنی زندگی میں نہ مل سکی وہ مرنے کے بعد مل گئی۔

یہ بھی پڑھیں:  سابق مشرقی پاکستان میں 1971ءمیں پیش آنے والے واقعات کا جائزہ

اپنا تبصرہ بھیجیں