baby+mother

بچے کو دودھ پلانے کے عرصے میں ماں کی غذا

EjazNews

حمل اور زچگی سے پیدا ہونے والی کمزوری کو دور کرنے ، بچے کی دیکھ بھال کرنے اور روز مرہ کے دیگر تمام کام انجام دینے کے لیے ماﺅں کو اچھی غذا کی ضرورت ہوتی ہے۔ انہیں ایسی غذا درکارہوتی ہے جس میں پروٹین اور چکنائی کی مقدار زیادہ ہو اور جس میںپھل اور سبزیاں کثرت سے لی جائیں۔ ماﺅں کو بہت سارا مشروب، صاف پانی، دودھ ، جڑی بوٹیوں کی چائے اور پھلوںکے رس لینے کی بھی ضروت ہوتی ہے۔ تاہم ماں چاہے جو کچھ کھائے اور پئے اس کی چھاتیوں میں اچھا دودھ تیار ہوگا۔
چھاتی سے دودھ پلانے سے رقم، کی بچت ہوتی ہے۔ اگر ممکن ہو تو ماں کو چاہیے کہ اس بچت کا کچھ حصہ اپنی غذا کو بہتر بنانے کے لیے استعمال کرے۔ خصوصاً وہ اپنے کھانوں میں زیادہ پروٹین والی غذائیں شامل کرے۔ مثلاً پھلیاں، گری والے میوے، انڈے، دودھ، دہی، پنیر، مچھلی یا گوشت۔
کچھ لوگوں کے خیال میں پہلی بار ماں بننے والی عورت کو بعض غذائیں نہیں کھانی چاہئیں لیکن اگر ایک ماںمتوازن غذا نہیں لیتی تو وہ غذا ئی کمی (ناقص غذائیت)، قلت خون (انیمیا)اور دیگر بیماریوں کا شکار ہو سکتی ہے۔
بعض اوقات کچھ عورتوں کو، دودھ پلانے کے عرصے میں خصوصی غذائیں دی جاتی ہیں ،یہ اچھا طریقہ ہے، خصوصاًاگر غذائیں، قوت بخش ہوں۔ ایک عورت کو زچگی کے بعد جلد صحت یاب ہونے اور طاقت حاصل کرنے میں اچھی غذاﺅں سے مدد ملتی ہے۔
ایک عورت کو اضافی غذا کی ضرورت ہوتی ہے اگر:
وہ دو چھوٹے بچوں کو اپنا دودھ پلا رہی ہو۔
وہ ایک بچے کو اپنا دودھ پلا رہی ہے اور اس کے ساتھ وہ حاملہ بھی ہو۔
اس کے بچوں کی پیدائش میں 2سال سے کم وقفہ ہو۔
وہ بیمار یا کمزور ہو۔
چھاتی سے دودھ پلانا اور بچوں کی پیدائش میں وقفہ:
بچوں کی پیدائش میں وقفہ سے مراد یہ ہے کہ بچے کم ازکم 2سے 3سال کے وقفے سے پیدا ہوں۔ اس طرح عورت کے جسم کو اگلے حمل سے پہلے طاقت حاصل کرنے کاموقع مل جاتا ہے۔ کچھ عورتیں جب اپنے بچوں کو چھاتی سے دودھ پلاتی ہیں تو ان کے اگلے بچے مناسب وقفے سے پیدا ہوتے ہیں۔
بچوں کیلئے ماں کے دودھ کے ساتھ دیگر غذائیں:
اگر بچہ ماں کا دودھ پی کرخوش نہیں دکھائی دیتااور اس کی عمر 4سے 6ماہ کے درمیان ہے تو اس کا صاف اورسیدھا مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ بچے کو ماں کادودھ دینے کا زیادہ موقع دینا چاہیے تاکہ ماں کی چھاتیاں زیادہ دودھ تیار کر سکیں۔ ماں کو چاہیے کہ مزید 5دن تک بچہ جتنی مرتبہ دودھ پینا چاہیے، اسے اپنا دودھ پلائے۔ اگر بچہ اب بھی ناخوش ہے تو اس کو دیگر غذائیں بھی دینے کی کوشش کرنا چاہیے۔
ایک بچہ دیگر غذائیں لینے کے لیے اس وقت تیار ہوتا ہے جب:
اس کی عمر تقریباً 6ماہ یا اس سے زیادہ ہو جائے۔
وہ گھر کے لوگوں سے یا میز پر سے، غذائیں جھپٹ کر لینا شروع کر دے۔
وہ اپنے منہ سے غذا اپنی زبان کی مدد سے نہ نکالے
بچے کی عمر کے 6ماہ اور ایک سال کے دوران، وہ جب بھی چاہے، اسے اپنا دودھ پلائیں چاہے، وہ دوسری غذائیں کھا رہا ہو اسے اب بھی ماں کے دودھ کی اتنی ہی ضرورت ہے جتنی کہ پہلے تھی۔ ابتدا میں ماں کا دودھ پلانے کےساتھ دن میں دو یا تین مرتبہ دیگر غذائیںدیں۔ کسی نرم اور ہلکی غذا مثلاً دلیہ سے آغاز کریں۔ آپ کو بچے لیے مہنگے اناج یا دلیہ حاصل کی ضرورت نہیں ہے۔
بچوں کو بار بار کھانے کی ضرورت پڑتی ہے۔ دن میں تقریباً5مرتبہ ۔ روزانہ ان کی خوراک میں یہ غذائیںشامل ہونی چاہیں۔ کوئی مرکزی غذا (دلیہ، مکئی ، گندم، باجرہ ، آلو، کساوا)اس کے ساتھ جسم کی نشوونما کرنے والی غذا شامل کی جائے۔ (پھلیاں، اچھی طرح پیسے گئے گری والے میوے، انڈے، پنیر ، گوشت یا مچھلی) چمک دار رنگت والی سبزیاں اور پھل اور توانائی والی کوئی غذا (اچھی طرح پیسے ہوئے گری والے میوے، چمچہ بھر تیل، مارجرین یا پکانے کی چکنائی) ۔آپ کو پانچ مرتبہ کھانا پکانے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ کچھ غذائیں ٹھنڈی حالت میں بھی ہلکے ناشتے کے طور پر دی جاسکتی ہیں۔
اگرآپ کے لیے ممکن ہو تو بچے کی عمر 2سال ہو جانے تک اسے اپنا دودھ پلانا جاری رکھیں۔ چاہے آپ کا دوسرا بچہ ہو جائے۔زیادہ تربچے خود ہی ، ماں کا دودھ پینا آہستہ آہستہ چھوڑ دیتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  خوف اور مایوسی خواتین کو ذہنی معذور بناسکتی ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں