punjab bill bord imran

وزیراعظم عمران خان کے بینر بھارتی پنجاب میں ،سکھ کیا کہتے ہیں؟

EjazNews

وزیراعظم عمران خان 9نومبر کو کرتارپور میں سکھوں کے مقدس ترین مقام کا افتتاح کر رہے ہیں۔ گزشتہ 70سالوں سے سکھ اپنے اس مقدس ترین مقام کو دور بین سے دیکھ رہے تھے اور کسی نے بھی اس طرفہ توجہ نہیں کی۔ وزیراعظم عمران خان نے جب وزارت عظمی کا حلف اٹھایا تو ان کی حلف برداری میں نجوت سنگھ سدھو بھی آئے جنہوں نے وزیراعظم کی توجہ اس جانب مبذول کروائی۔
سکھ جوق در جوق پاکستان آرہے ہیں اور یہاں اپنی عبادات آزادی کے ساتھ سرانجام دے سکتے ہیں۔ اسی طور پر بھارتی پنجاب میں وزیراعظم عمران خان کے بل بورڈ بھی لگے ہوئے ہیں ۔ سوشل میڈیا پر مختلف سکھوں نے اپنی رائے کا اظہار کیا ہے۔

ایک صاحب کہتے ہیں کہ پاکستانی وزیراعظم بہت پڑھے لکھے ہیں اور انہوں نے سکھوں کے لیے یہ بہت بڑا کام کیا ۔ دہلی کی حکومتیں کیوں 70سالوں تک یہ کام نہ کر سکیں جو سدھو پاکستان میں جا کر کر کے آئے ہیں۔
ایک اور صاحب کہتے کہ کرتار پور راہداری کا کریڈیٹ میں عمران خان اور سدھو کو دو ں گا۔ اگر بھارت میں وزیراعظم عمران خان کے بل بورڈ کے بارے میں بات کی جائے تو بابا گرونانک بھائی چارے کا درس دیا ہے اس نظریہ کے مطابق یہ تصویر بالکل ٹھیک ہے۔
مشرقی پنجاب میں ان دنوں پاکستانی وزیراعظم کی زبردست پذیرائی ہو رہی ہے اوربھارتی سیاستدانوں پر یہ بات سینے پر سانپ بن کر لوٹ رہی ہے کہ مشرقی پنجاب میں قدم قدم پر کرتا رپور راہداری کے حوالے سے عمران خان کے بل بورڈ اور پوسٹر لگے ہیں۔ ان اشتہارات اور بل بورڈز پر کرتار راہداری کے حوالے سے عمران خان کے اقدامات کی زبردست تعریف کی گئی ہے۔ ان بل بورڈز پر سدھو کی تصاویر بھی لگی ہیں جو کرتار پور راہداری کے حوالے سے عمران خان کے بہت بڑے فین ہیں۔ بھارتی سیاستدانوںاور لیڈروں کو یہ خدشہ ہے کہ کرتار پور راہداری، پاکستان کے حق میں سکھوں کا دل جیتنے میں نمایاں کردار ادا کرے گی اور مستقبل میں پاکستان کا یہ تاریخی اقدام ،سکھوں کے دل میں بھارت سے نفرت کا سبب بھی بن سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  لاہور قلندرز نے ملتان سلطان کو سنسنی خیز مقابلے کے بعد شکست دے دی

اپنا تبصرہ بھیجیں