child with mom

بچے کیلئے ماں کا دودھ سب سے بہتر کیوں ہے؟

EjazNews

ماں کے لیے یہ بات ممکن ہے کہ اپنے بچے کو اس وقت تک چھاتی سے دودھ پلاتی رہے جب تک اسے کوئی مسئلہ نہ ہو۔ اگر کوئی مشکل یا مسئلہ پیش آئے تو بہت طریقے ہیں جن سے آپ اپنی مد د کر سکتی ہیں اور بچے کو دودھ پلانا جاری رکھ سکتی ہیں۔ دنیا بھر میں جو قدیم ترین اور صحت مندانہ عادات اور رواج پائے جاتے ہیں، مائو ں کا اپنے بچوں کو اپنا دودھ پلانا، ان کی عادات اور رواجوں میں سے ایک ہے، لیکن چونکہ دنیا بدل رہی ہے اس لیے بعض اوقات عورتوں کو ایسی معلومات اور مدد کی ضرورت پڑجاتی ہے جس کے ذریعے وہ اپنے بچوں کو اپنا دودھ پلانا جاری رکھ سکیں۔ماں کا دودھ اس لیے اہم ہے کہ ماں کا دودھ وہ واحد مکمل غذا ہے جو بچوں کو صحت مند اور طاقتوربنا سکتی ہے۔
ماں جب بچے کو اپنا دودھ پلاتی ہے تو اس عمل کے باعث، ماں کی بچہ دانی سے زچگی کے بعد جاری ہونے والے خون کو بند کرنے میں مدد ملتی ہے۔
ماں کا دودھ مختلف بیماریوں اور انفیکشن سے بچنے کی حفاظت کرتا ہے مثلاً ذیابیطس (شوگر)، سرطان (کینسر)، اسہال (دست آنا) اور نمونیا۔ ان بیماریوں کے خلاف ماں کے جسم میں جو دفاعی قوت پائی جاتی ہے وہ ماں کے دودھ کے ذریعے بچے کے جسم میں منتقل ہوجاتی ہے۔
بچے کو اپنا دودھ پلانے کے باعث خود ماں، کئی بیماریوں سے محفوظ رہتی ہے، مثلاً سرطان (کینسر) اور ہڈیوں کا بے لچک ہو جانا (جو ذرا سی چوٹ لگنے سے ٹوٹ سکتی ہیں۔ اسے ہڈیوں کی خستگی کہتے ہیں)۔
ماں جس وقت بھی بچے کو اپنا دودھ پلاتی ہے اسی وقت بچے کے لیے دودھ ہمیشہ تیار رہتا ہے۔ یہ دودھ نہایت صاف ستھرا ہوتا ہے اور اس کا درجہ حرارت ہمیشہ مناسب رہتا ہے۔
ماں، بچے کو اپنا دودھ پلاتی ہے تو اس عمل سے ماں اور بچہ دونوں آپس میں قربت اور گہرا تعلق محسوس کرتے ہیں اور دونوں کو ایک تحفظ کا احساس رہتا ہے۔
کچھ عورتیں بچے کو اپنا دودھ پلاتے رہنے کے باعث ، دوبارہ بہت جلد حاملہ ہونے سے محفوظ رہتی ہے۔
ماں کا دودھ مفت دستیاب ہوتا ہے۔
دوسرا دودھ بچوں کیلئے نقصان دہ کیوں ہوسکتا ہے؟:
جو ادارے شیر خوار بچوں کے لیے مصنوعی دودھ تیار کرتے ہیں، ان کی یہی خواہش ہوتی ہے کہ مائیں، بچوں کو اپنا دودھ پلانے کی بجائے ان اداروں کا تیار کیا ہوا مصنوعی دودھ پلائیں تاکہ یہ ادارے دولت کما سکیں۔ بوتل سے دودھ پلانا یا تیار شدہ دودھ (فارمولا) دینا اکثر نہایت غیر محفوظ ہوتا ہے۔ دنیا میں ایسے لاکھوں بچے، غذا کی کمی کا شکار ہو جاتے ہیں، بیمار پڑ جاتے ہیں یا مر جاتے ہیں، جنہیں بوتل سے دودھ پلایا گیا تھا یا فارمولا دودھ دیا گیاتھا۔
فارمولے کے تحت تیار کیا گیا دودھ یا دیگر اقسام کا دودھ مثلاً ٹن میں محفوظ کیا گیا۔ دودھ یا جانوروں کا دودھ، بیماریوں سے بچوں کی حفاظت نہیں کر سکتا۔
فارمولا اور دوسری اقسام کے دودھ کی وجہ سے بچہ بیمار ہو سکتا ہے۔ موت بھی واقع ہوسکتی ہے۔ اگر فارمولا دودھ بنانے کے لیے پانی کو، اور یہ دود ھ دینے کے لیے بوتل اور نپل کو کافی دیر تک نہ ابالا گیا ہو تو دودھ کے ساتھ نقصان دو جراثیم بھی بچے کے حلق کے راستے اس کے جسم میںپہنچ جائیں گے اور وہ اسہال ((دست) کا شکار ہو جائے گا۔
جب بچے، ماں کی چھاتی سے دودھ پیتے ہیں تو وہ چھاتی سے دودھ حاصل کرنے کے لیے اپنی زبان استعما ل کرتے ہیں۔ یہ عمل ’’دودھ چوسنا‘‘ کہلاتا ہے۔ ما ں کی چھاتی سے بچے کا دودھ چوسنا، کسی بوتل کے نپل سے بچے کے دودھ چوسنے سے بہت مختلف عمل ہے۔ جب بچے کو بوتل یا مصنوعی بھٹنی (ربر کی بھٹنی یا فرضی بھٹنی) کے ذریعہ دیاجاتا ہے تو یہ ممکن ہے کہ اس کی وجہ سے بچہ یہ بھول جائے کہ ماں کی چھاتی سے دودھ کس طرح چوسنا چاہیے کیونکہ بوتل، بچے کو دوسرے طریقے سے چوسنا سکھاتی ہے اور اگر بچہ، ماں کی چھاتی سے دودھ بار بار نہیں پئیے گا تو ماں کے سینے میں دودھ بننے کا عمل رک جائے گا اور یوں بچے کو ماں کا دودھ ملنا پوری طرح بند ہو جائے گا۔
بوتل سے دودھ پلانے پر بہت زیادہ اخراجات ہوتے ہیں ایک بچے کو اس کی عمر کے پہلے سال میں مصنوعی دودھ دینے کے لیے 40کلو گرام فارمولا پائوڈر کی ضرورت پڑتی ہے۔ بچے کی ایک دن کی ضرورت کا فارمولادودھ خریدنے اور پھر اسے تیار کرنے کے لیے پانی ابالنے (ایندھن کے خرچ ) پر اتنی زیادہ رقم خرچ ہو سکتی ہے جو بعض اوقات کسی گھرانے کی ہفتے بھر یا مہینے بھر کی کمائی سے زیادہ ہوتی ہے۔
کچھ والدین، مصنوعی یا فارمولا دودھ کو کفایت سے خرچ کرنے کی کوشش میں کم پائوڈر یا زیادہ پانی استعمال کرتے ہیں تاکہ دودھ، دیر میں ختم ہو ۔ اس طرح بچہ غذا کی کمی کا شکار ہو جاتا ہے، اس کا جسم بڑھنے کی رفتار سست پڑ جاتی ہے اور وہ اکثر بیمار رہنے لگتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  بریسٹ کینسر:آپ نے خود اپنی حفاظت کرنی ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں