smog

اسموگ سے گھبرائیں نہیں بس احتیاط ضروری ہے

EjazNews

اسموگ پاکستان ہی نہیں، چند برسوں سے عالمی سطح پر بھی انسانی صحت کیلئے مسئلہ بنی ہوئی ہے ۔ دل اور پھیپھڑوں کے امراض، خصوصاً برونکائٹس، دمے، تپ دق اور جلدی امراض کی شرح میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آرہاہے۔ اسموگ سانس کے ذریعے پھیپھڑوں میں داخل ہوکر سوزش کا سبب بنتی ہے،نتیجتاً سانس لینے میں دشواری محسوس ہوتی ہے۔ بعض اوقات لمبا سانس لینے پر سینے میں درد ہوتا ہے، سانس لیتے وقت سیٹیوں کی سی آوازیں آتی ہیں،جبکہ کھانسی بھی ہوسکتی ہے۔ اسموگ کے مضراثرات آنکھوں اور ناک پر بھی پڑتے ہیں،جس کے نتیجے میں آنکھوں کی سوجن، جلن اور پانی بہنے کی علامات ظاہر ہوتی ہیں، تو ناک اور حلق کی جھلی میں خراش و سوزش ہوجاتی ہے۔مشاہدے میں آیا ہے کہ اسموگ میں رہنے کی وجہ سے خصوصاً بچوں میں دمے کی شرح بڑھ جاتی ہے۔
لاہور کی فضا میں اسموگ کی مقدار اس قدر بڑھ جاتی ہے کہ لاہور فضائی آلودگی کے لحاظ سے دنیا بھر میں پہلے نمبر پر آگیا ۔ فضا میں دھواں پیدا ہونے کی ایک وجہ کوئلہ بھی ہے۔چاہے اس کا استعمال گھروں میں کھانا پکاتے اور سردی کم کرنے کےلیے کیا جائے یا فیکٹریز، پاور پلانٹس یا کارخانوں میں۔ ہر طرح سے اس کا دھواں فضا میں شامل ہوکر فضائی آلودگی کا باعث بنتا ہے۔کوئلہ صرف پاکستان ہی میں نہیں، بلکہ ترقی یافتہ ممالک، جیسے برطانیہ اور چین کے کئی علاقوں میں بھی اسموگ کی وجہ ہے۔
دنیا بھر میں اسموگ سے نمٹنے کے لیے باقاعدہ منصوبہ بندی کی جاتی ہے۔ 1950ء میں لندن میں اس قدر گہری اسموگ چھا گئی تھی کہ صرف چار ہی روز میں چار ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوگئے اور چند ہفتوں میں یہ اموات آٹھ ہزار ہو گئیں۔برطانوی حکومت نے 1956ء میں کلین ایئر ایکٹ لندن میں نافد کردیا اور حکمرانوں کی کوششوں اور عوام کے بھرپور تعاون کی وجہ سے آہستہ آہستہ لندن کی فضا صاف ہوتی چلی گئی۔ اگرچہ آج بھی گاڑیوں کے دھوئیں کی وجہ سے لندن کی فضا میں اسموگ نظر آتی ہے، لیکن اس کی شدت پہلے سےبہت کم ہے۔اسموگ دراصل آلودگی کی ایک قسم ہے، جو دھند اور دھوئیں کی آمیزش سے بنتی ہے۔
چند احتیاطی تدابیر :
اگر فضا میں اسموگ موجود ہے، تو غیر ضروری طور پر باہر نکلنے سے گریز کریں۔
باہر نکلتے وقت ناک اور منہ کو کسی رومال یا ماسک سے اچھی طرح ڈھانپ کر رکھیں۔
سر پر ٹوپی یا رومال پہنیں اورآنکھوں پر چشمہ لگائیں۔
موٹر سائیکل سوار چشمے اور ہیلمٹ کا استعمال لازماً کریں۔
اگر آنکھوں میں تکلیف یا خارش ہو،تو ٹھنڈے پانی سے دھوئیں اور آنکھیں ملنے سے گریز کریں۔
پانی کا استعمال پہلے سے زیادہ کریں۔
اگر آپ کسی قسم کا اپنے جسم میں کوئی مسئلہ محسوس کریں گے تو دیر کیے بغیر ڈاکٹر کے پاس جائیں۔

یہ بھی پڑھیں:  جلدی امراض اور احتیاطی تدابیر
کیٹاگری میں : صحت

اپنا تبصرہ بھیجیں