sultan rahi

وہ فلم جس نے مرحوم سلطان راہی کو صف اول کا ہیرو بنا دیا تھا

EjazNews

یہ فلم ملک بھر میں زبردست بزنس کرنے میں کامیاب رہی تھی۔ اس فلم کی نمائش سے پہلے سلطان راہی مرحوم فلموں میں ایکسٹرا کے طور پر کام کرتے تھے۔ یہ پہلی فلم تھی جس میں انہیں ٹائٹل رول میں کاسٹ کیا گیا اور نیگٹو کریکٹر کو ہیرو بنا کر پیش کیا گیا۔ اس فلم کی کامیابی سے سلطان راہی کے لئے نئی راہیں کھل گئیں اور اس پر کہانیوں کے کردار لکھے جانے لگے۔ بشیر اسے سخی سلطان تک سلطان راہی نے ایک نئی تاریخ رقم کی جس کی مثال برصغیر کی پوری فلمی تاریخ میں نہیں ملتی۔ وہ پہلے اداکار تھے جن کو سامنے رکھ کر خصوصی کر دار لکھوائے گئے۔
بشیرا ایک ٹرینڈ سیٹر (Trend seter) فلم ثابت ہوئی اس فلم کے سیکنڈ ہاف میں ہدایت کار اسلم ڈار نے جس تیز رفتاری سے کہانی کو سمیٹا اور آخری مناظرمیں بہن بھائی کے جذبات کو اجاگر کیا یہ انہی جیسے تجربہ کار اور سینئر ہدایت کار کا کام تھا ایک ایکسٹرا کو نئی زندگی دے کر انہوں نے فلمسازوں کو نیا سبق دیا کہ نیگٹیو کیریکٹر بھی ہیرو شپ کا درجہ حاصل کرسکتا ہے بشرطیکہ پہچاننے والی نظر ہو۔ بہترین پنجابی فلم، بہترین ہدایتکار ،بہترین کہانی نویس، بہترین اداکار کا ایوارڈ اس فلم نے اپنے نام کیا تھا۔
اس فلم کے ہدایتکار اسلم ڈار، مصنف عزیز میر بھٹی، موسیقال کمال احمد، نغمہ نگار مشیر کاظمی ، بشیر کھوکھرتھے جبکہ اس فلم میں سلطان راہی کے علاوہ روزینہ، عالیہ، رنگیلا، نمو، الیاس کاشمیری، مینا چوہدری تھی۔بہن بھائی کے مقدس رشتہ پر بنائی گئی یہ ایک جذباتی فلم تھی۔ جسے کنگ پکچرز نے ریلیز کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:  میشا شفیع کے جنسی ہراسگی کے الزام کو ایف آئی اے نے غلط قرار دے دیا

اپنا تبصرہ بھیجیں