power plant

کارکے معاہدہ کیا تھا اور پاکستان پر جرمانہ کیوں ہوا؟

EjazNews

حکومتیں آتی جاتی رہتی ہیں لیکن ان کے کیے ہوئے معاہدے عوام کو بھگتنا پڑتے ہیں۔ وہ کیا معاہدے کرتے ہیں اور ان معاہدوں کے دوررس اثرات کیا مرتب ہوتے ہیں یہ بہت اہم ہوتا ہے۔ ہمارے ہاں ہونے والے معاہدات کو بہت کم منظر عام پر لایا جاتا ہے۔ یہ کار کے معاہدہ پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں ترکی کی حکومت سے بجلی کی پیداوار کے حوالے سے وزارت پانی وبجلی کے ذیلی ادارے، پاکستان الیکٹرک کمپنی (پیپکو) اور ترک کمپنی کارکے،کے درمیان ہوا تھا۔
معاہدے کی مالیت 56کروڑ 46لاکھ ڈالرز تھی، معاہدے کے تحت کراچی میں کرائے کا بجلی گھر لگایا گیا تھا اور اس سے 2009سے پیپکو کو 231میگا واٹ بجلی فراہم ہونا تھی لیکن کارکے طے شدہ بجلی فراہم کرنے میں ناکام رہی جبکہ یہ بجلی پاکستان کو مہنگی بھی پڑ رہی تھی۔حکومت پاکستان اس معاہدے کی رو سے ترکش کمپنی کو ماہانہ کرائے کی مد میں 94 لاکھ ڈالر ادا بھی کرتی تھی۔

یہ بھی پڑھیں:  پاکستان میں دہشت گردی کون کروا رہا ہے کیا اب بھی کسی کو کوئی شک ہے؟

اُس وقت مسلم لیگ ق کے رہنما فیصل صالح حیات اور مسلم لیگ ن کے رہنما خواجہ آصف نے اس معاہدے کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی، جس پر عدالت نے فیصلہ دیا تھا کہ ترک کمپنی کے ساتھ رینٹل پاور پراجیکٹ میں شفافیت برقرار نہیں رکھی گئی اس لیے معاہدے کو منسوخ کیا جاتا ہے۔
اس معاہدے میں حکومت پاکستان کی جانب سے گارنٹی دی گئی تھی جس کے باعث ترک کمپنی نے معاہدہ منسوخ ہونے پر عالمی ثالثی عدالت سے رجوع کیا، پاکستان نے ثالثی عدالت میں یہ مقدمہ لڑا، ستمبر 2017 میں فیصلہ اس کے خلاف آیا، جس میں ورلڈ بینک کے ادارے آئی سی ایس آئی ڈی نے پاکستان پر بھاری جرمانہ عائد کیا تھا۔
وزیراعظم عمران خان نے اپنے سوشل میڈیا اکائونٹ پر ٹویٹ کے ذریعے گزشتہ روز بتایا تھا کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے کارکے تنازعہ کامیابی سے حل کرلیا ہے اور پاکستان پر عائد کیے گئے 1.2ارب ڈالر جرمانے کی رقم بچا لی گئی ہے۔ انہوں نے اپنے ٹویٹ پیغام میں کہا ہے کہ حکومت نے ترک صدر رجب طیب ایردگان کی مدد سے کار کے پاور پلانٹ کا تنازع حل کرلیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت نے ترکی کی کمپنی کارکے سے تنازع حل کرکے انٹرنیشنل سینٹر فار سیٹلمنٹ آف انویسٹمنٹ ڈسپیوٹس ( آئی سی ایس آئی ڈی ) کی جانب سے عائد کیے گئے 1.2 ارب ڈالر جرمانے کی رقم بچالی ہے۔
وزیراعظم عمران خان نے اس کامیابی پر حکومت کی مذاکراتی ٹیم کو بھی دلی مبارکباد پیش کی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  یوم سیاہ یا یوم تشکر کون کس کے ساتھ ہے واضح ہونا شروع ہو گیا

اپنا تبصرہ بھیجیں