hacker

ہیکروں سے دنیا کا کوئی کونا محفوظ نہیں ہے

EjazNews

سائبر سسٹم کی ترقی کے ساتھ ساتھ ہیکر بھی نئی ٹیکنیکس اختیار کر تے جارہے ہیں۔ ماضی میں انہوں نے کئی اداروں کی ویب سائٹس کوہیک کیا۔انہی ہیکروں نے بھارت میں بی جے پی کی ویب سائٹس کو نہ چھوڑا اور اس پر نعرے لکھ دئیے۔جس کا الزام بی جے پی نے پاکستان پر لگا دیا کہ ان کی ویب سائٹ پاکستانی ہیکروں نے ہیک کی ہے ۔ پتہ نہیں وہ کون سا الزام باقی رہ گیا جو انہوں نے پاکستان پر نہیں لگایا۔ دنیا بھر میں سائبر سکیورٹی ایک اہم موضوع بنتا جارہا ہے۔ پاکستان کا شمار سب سے زیادہ جاسوسی کا نشانہ بننے والے ممالک میں ہوتا ہے۔ جب روس نے امریکی سائبر سسٹم کونہ چھوڑا اور اس کے دفاعی راز بھی چرا لیے تو پھر انڈیا سائبر کرائم سے کیسے محفوظ رہ سکتاہے۔ عالمی ممالک میں ایک طرف ہیکرز بھی اپنے عزائم پورے کرکے رہتے ہیں۔کبھی وکی لیکس زیر بحث ہیں تو کوئی امریکی انتخابات میں ای میلز اکاﺅنٹس کی ہیکنگ کے ذریعے روسی مداخلت پر تبصرے کر تا تھا ۔
جسٹن ببر ، شکاگو یونیورسٹی اور ایٹلانٹا پولیس ڈیپارٹمنٹ سمیت لاکھوں اکاﺅنٹس کی ہیکنگ کا تذکرہ بھی رہا ہے بعض ہیکروں نے ان ٹویٹر اکاﺅنٹس پر ترکی کے جھنڈے کے ساتھ ہٹلر کا سوااکاپوسٹ کر دیاتھا۔ ترکی کے صدر طیب اردگان کے بعض جملے بھی ہیکروں نے تصویروں کے اوپر لکھ دئیے تھے۔
ایک سرچ انجن نے 2014ءمیں 50ہزار اکاﺅنٹس ہیک کر نے کی خبریں منظر عام پر آنے کے بعد اپنے سسٹم کو بہتر بنانے کی کوشش کی تھی۔ بعض ہیکروں نے کم از کم 80لاکھ اکاﺅنٹس کی معلومات چرائیں۔ امریکی محکمہ انصاف نے اس سلسلے میں تین روسیوں کو ”اشتہاری“ بھی قرار دیا ہوا تھا، ان میں سے دو کو روسی جاسوس بھی قرار دے دیا گیا تھا۔
یہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ 2013ءمیں بھی کم از کم ایک ارب اکاﺅنٹس میں سے لوگوں کی نجی زندگی کی معلومات چرا لی گئیں تھیں۔لیکن یہ بات انڈین میڈیا کوکون سمجھائے کہ الزام لگانے سے پہلے تحقیق کر لو لیکن دھڑام سے اس بات کا الزام بغیر کسی ثبوت کے پاکستان پر لگا دینا کہ انہوں نے یہ کیا ہے سراسر غلط ہے۔ اپنی سکیورٹی بہتر کر نہیں سکتے ، جب بھی کچھ ہوتا ہے پاکستان پرالزام عائد کر دیتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  پانچ پلروں والے گھر

اپنا تبصرہ بھیجیں