1857 battle

برصغیر ٹوٹنے کے اسباب کیا تھے؟

EjazNews

ہندوستان ایک بہت متنوع معاشرہ تھا۔ یہاں خوبیاں بھی تھیں اور خامیاں بھی تھیں، کمزوریاں بھی تھیں۔ مسلمان حملہ آور ،جو اپنے زمانے کے بہتر ذرائع ہو سکتے تھے، بہتر اوزار ہو سکتے تھے اور جنگ درب کے وسائل ہو سکتے تھے، ان کے حامل تھے۔ جنہوں نے ان کو ایک برتر حیثیت فراہم کی تھی۔ پھر مسلمانوں سے پہلے بھی بیرونی حملہ آور یہاں آتے رہے ہیں۔ ان کی بعض صورتوں میں مزاحمت ہوئی۔ بعض صورتوں میں مزاحمت نہیں بھی ہوئی۔ مسلمان حملہ آوروں کی ایک حد تک مزاحمت ہوئی لیکن پھر بعد میں ان کو یہاں قدم جمانے میں آسانی ہوئی۔ وہ زیادہ طویل عرصہ کے لئے یہاں آباد ہور ہے۔ ایک اور چیز قابل ذکر ہے، وہ یہ کہ ہندوستان کے معاشرے میں بہرحال یہ صلاحیت موجودتھی کہ مختلف تہذیبوں اور معاشروں کے حامل لوگوں کو اپنے اندر جذب کرتا رہا تھا۔ مسلمانوں سے پہلے دوسرے خطوں کے لوگ جو یہاں آئے وہ بھی جذب ہوئے تھے، مسلمان بھی جذب ہوئے۔ پھر اس میں ایک چیز اور قابل ذکر ہے وہ یہ کہ جو باہر سے آنے والے تھے انہوں نے بھی ہندوستان کو اپنا ملک بنایا، جس سے ہندوستان کو بھی ان کے قبول کرنے میں دشواری نہیں ہوئی۔ میرے خیال میں انگریز پہلے غیرملکی حکمران تھے جنہوں نے ہندوستان آنے کے باوجود برطانیہ سے اپنارشتہ اور تعلق برقرار رکھا اور ہندوستان کو ایک نو آبادی کے طور پر برتا، نہ کہ اپنے وطن کے طور پر یہ بڑافرق تھا۔
خیال کیا جاتا ہے کہ وہ مسلمانوں نے جب ہندوستان فتح کیا تو اس کے پیچھے ان کا مقصد اسلام کا نفاذ تھا۔ میرے خیال میں ان حملہ آوروں نے یہ دعویٰ بھی نہیں کیا تھا کہ وہ یہاں اسلام نافذ کرنے کے لئے آرہے ہیں۔ یہ ضرور رہا ہوگا کہ ان کے حملوں اور قبضوں کے نتیجے میں ہندوستان میں بھی اور جہاں جہاں وہ گئے وہاں اسلام کو متعارف ہونے کا ایک موقع میسر آیا لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ان حملوں کا مقصد یہ تھا۔ ان کے حملوں کا مقصد بالکل سیاسی اور اقتصادی تھا۔

میسورکی جنگ ایک آرٹسٹ کی نظر میں

مسلمان حملہ آوروں کے حملوں اور اقدار کے ہندوستان پر گہرے اثرات مرتب ہوئے۔ حملہ آور آئے اور ان کا بنیادی مقصد اقدار پرتصرف حاصل کرنا تھاوہ انہوں نے حاصل کرلیا ، جس طرح سے وہ حکومت کرنا چاہتے تھے انہوں نے کی ، لیکن ظاہر ہے کہ ان حملہ آوروں کے بعد عام مسلمان بھی یہاں آئے۔ ہندوستان میں بھی لوگوں نے اسلام قبول کیا۔ ایک ثقافتی اور تہذہبی اختلاط کی صورتحال وجود میں آئی جو کہ بہت فطری بات تھی۔ جب مختلف تہذیبوں، ثقافتوں اور مذاہب کے ماننے والے ایک جگہ ر ہیں گے تو وہ ایک دوسرے سے اثرات قبول کریں گے۔ مسلمانوں نے ہندووں پر اور دوسرے مذاہب کے ماننے والوں پراثرات ڈالے اور اثرات قبول بھی کئے۔
بڑی معلوم حقیقت ہے، ایسٹ انڈیا اپنی تجارت کیلئے آئی تھی اور پھر انہیں ہندوستان پر اپنا قبضہ مکمل کرنے میں سوسال لگے۔ سوسال کے اندر وہ بتدریج آگے بڑھے۔ انہوں نے مقامی حکمرانوں کے آپس کے جھگڑوں سے فائدہ اٹھایا۔یہ تاریخی حقیقت ہے کہ مختلف ریاستوں کے حکمران ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے لئے خود بھی ایسٹ انڈیا کمپنی سے اتحاد کرتے تھے، اور اس کو ساتھ ملاتے تھے۔ ایسٹ انڈیا کمپنی کا اپنا بھی مفاد تھا اور پھر مقامی لڑائیوں کا بھی اس میں بڑا عمل دخل تھا۔
ایک رائے یہ بھی ہے کہ لوگ سمجھنے کے قابل نہیں تھے لوگوں کو آپ چھوڑ دیجئے ، لوگوں سے کون پوچھتا تھا ؟ ہندوستان کے لوگوں کا تو کردار ہی نہیں تھا ،ان معنوں میں۔ یہ تو جمہوری دور میں ہوتا ہے نا کہ لوگوں کا کوئی کردار ہوتا ہے۔ یہ تو حکمرانوں کی لڑائیاں تھیں۔ ریاستوں کے نواب ہیں، حکمران ہیں، ان کی لڑائیاں ہیں۔ ہم سب ہندوستانی ہیں، یا ہم سب پاکستانی ہیں یا ہم سب………… وہ تو دکن کا جوحکمران ہے اس کے لئے بہار کا حکمران بھی غیر ملکی ہے، غیر ہے۔ اب وہ ایک برصغیر کے اندر رہ رہا ہے تو اس سے اس کا کیا ؟ پھر یہی تھا کہ ایک نے ایسٹ انڈیا کمپنی سے مدد مانگی دوسرے نے فرنچ انڈیا سے مانگ لی۔ آپس کی لڑائیاں حکمرانوں کی لڑائیاں تھیں، نیشنلزم کا تویہ دور تھا ہی نہیں کہ پہل کرتے کہ دیکھے، باہر والے قبضہ کر لیں گے، ہم لوگ آپس میں مل کر رہیں۔ یہ آپس والی بات ہوتی ہے نیشنلزم میں۔ تو آج اگر ہو کہ ایک وفاق ہے اس کے ایک صوبے اور دوسرے صوبے میں جھگڑا ہے اور باہر کی کوئی طاقت نہیں لے رہی ہے تو آپ ان سے کہیں کہ نہیں، ہمیں آپس میں مل کر رہنا چاہئے۔
میں یہ بات واضح کردوں کہ بنگال سب سے پہلے انگریز کے قبضہ میں آنے والا خطہ تھا۔ انہوں نے یقینا بعد میں ہندو مسلم اختلافات سے بھی فائدہ اٹھایا اور ایسٹ انڈیا کمپنی کے لئے جہاں جہاں موزوں تھا کہ وہ مذہبی مناقشات سے فائدہ اٹھائے، وہاں اس نے اٹھایا، لیکن بنگال ہو یا کوئی اور خطہ، ان کی کامیابی کا ایک بڑا سبب ان کی فوجی طاقت تھی اور جدیدفن حرب کے اوپر ان کی دسترس تھی۔ ان کی زندہ سپلائی لائن تھی جو ٹوتی نہیں تھی، ان کے وسائل تھے، ان کی اقتصادی طاقت تھی۔ ان تمام چیزوں نے مل کر ان کو اس لائق بنایا کہ بنگال سے شروع کر کے وہ دہلی تک سو سال میں پہنچ گئے اور انہوں نے پورے ہندوستان پر قبضہ کیا۔
دکن، اودھ اور جتنی راج دھانیاں تھیں اور ریاستیں تھیں، سب آپس میں لڑے ہوئے تھے، سب کے جھگڑے تھے۔ ایسا نہیں تھا کہ ایسٹ انڈیا کمپنی مستقل کسی ایک طرف تھی،نہیں! یہ جھگڑے کئی کئی عشروں تک چلے ہیں۔ اس میں یہ ہوا ہے کہ آج ایسٹ انڈیا کمپنی راجپوتوں کے ساتھ ہے۔ آج ایسٹ انڈیا کمپنی نواب حیدر آباد دکن کے ساتھ ہوگئی۔ آج میسور کی ریاست کے ساتھ ہوگئی۔ خودحیدرعلی اور ٹیپو وغیرہ کوانگریزوں کے ساتھ مفامتیں کرنی پڑیں۔ ان کے ساتھ سمجھوتے کرنے پڑے۔ اور وہ سمجھوتے ٹوٹ بھی گئے۔ یہ ایسا نہیں ہے کہ ایک طرف انگریز تھے اور دوسری طرف نوابان ریاست تھے۔ یہ ایک ایسی صورتحال تھی جس میں اتحاد بنتے تھے، ٹوٹتے تھے اور اس میں ایک مضبوط اپوزیشن انگریز کی بنتی تھی۔ وہ اس کی اقتصادی اور فوجی طاقت کی وجہ سے تھی۔ جس میں وہ پھر بالا ٓخرساری ریاستوں کے سارے حکمرانوں کو مغلوب کرنے میں کامیاب ہوا۔
سیدھی سی بات ہے، نیشنلزم جسے آج آپ تصور کے طور پر لیتے ہیں یہ دور جدید کی پیداوار ہے۔ اب ہمارے بعض دانشور، سیاسی دانشور اور تاریخ نویس ایک غلطی یہ کرتے ہیں کہ وہ آج کے تصورات کے حوالے سے ماضی کو سمجھنے کی کوشش کررہے ہوتے ہیں۔ وہ ماضی کو ماضی کے تناظر میں نہیں دیکھتے، بلکہ حال کے تناظر میں دیکھتے ہیں اور اس طرح سے اس کی تعبیر کرتے ہیں۔ مثلاً آج دنیا میں جمہوریت کا دور دورہ ہے، یا آج کے دور کو جمہوریت کا دور کہا جاتا ہے۔ ایک رجحان یہ ہے کہ ہم اپنی اپنی تاریخ کے اندر جمہوریت ثابت کریں کہ جناب دیکھئے ! ہمارے ہاں تو پہلے سے جمہوریت تھی۔ وہی نیشلزم کا ہے کہ بھئی نیشنلزم تو سترہویں اور اٹھارہویں صدی کی پیداوار ہے۔ اس سے پہلے وابستگیوں کے دائرے قبائلی تھے اور مختلف شاخیں تھیں جن کے حوالے سے لوگ ایک دوسرے کو جانتے تھے۔ ہندوستان میں ضرور ہوا ہو گا یا رہا ہے کیونکہ اس کا جغرافیہ اس طرح کا ہے، شمال میں پہاڑیوں سے اس کی حد بن جاتی ہے۔ جنوب میں سمندر ہے، شمال مشرق میں بھی بڑی حد تک پہاڑیاں پھیلی ہوئی ہیں۔ چند دروازے ہیں جو ہندوستان کے دوسری دنیا میں کھلتے تھے۔ ایک طبعی اور جغرافیائی ماحول ایسار ہا ہے جس میں آپ کہہ سکتے ہیں کہ ایک وحدت کا تصور بنتا ہے۔ خود ہندوستان کے لوگوں کے اندر ہندوستانی ہونے کا احساس ہوسکتا ہے لیکن وہ کوئی ان معنوں میں ایک قومیت کا جذبہ قرارنہیں دیا جاسکتا، جن معنوں میں آج آپ قومیت کے جذبہ کی بات کرتے ہیں۔
سلاطین کا دور ہو یا مغلوں کا، اس میں مسلمانوں اور ہندووں کے اختلاط اوران کے اپنے اپنے جداگان تشخص کے حامل ہونے کی بات تو کر سکتے ہیں لیکن میں سمجھتا ہوں کہ اس دور کا ذکر کرتے ہوئے قوم کا لفظ ہم استعمال نہیں کر سکتے۔ اس لئے کہ اس سے بڑی غلط فہمیاں ہوسکتی ہیں۔ میرا خیال یہ ہے کہ قوم کاتصور سیاسی تصور کی حیثیت سے بہت بعد میں آیا۔ مغلوں اور سلاطین کے زمانے میں مسلمان کوئی قوم تھے، نہ ہندو کوئی قوم تھے اور پھر یہ کہ ہندوستان میں صرف یہ ہی دو قومیتیں نہیں تھیں اور بھی تھیں، ہم ان کا کیوں نہیں ذکر کرتے؟ یہ بھی ایک عجیب بات ہے کہ ہم۔۔۔پہلے تو یہ کہ ہندوستان کی جو آبادیاتی صورتحال ہے، ثقافتی صورتحال ہے اس کی مکمل تصویر ہمارے سامنے ہونی چاہئے۔ ہندوستان میں بدھ مت کے ماننے والے بھی تھے، سکھ بھی موجود تھے اور بہت مذاہب کے ماننے والے لوگ رہتے ہیں۔ میری تو گزارش بھی ہے کہ مغلوں اور سلاطین کے دور میں مسلمانوں اور ہندوو¿ں میں اشتراک کے دائرے موجود تھے اور اختلاف کے دائرے بھی موجود تھے لیکن ان دائروں کوآپ قومی حوالے سے متشخیص نہیں کر سکتے۔
بیسویں صدی میں آنے کے بعد زیادہ واضح طور سے مسلم قومیت کی بات کی گئی اور ہندوقومیت کی بھی بات کی گئی۔ ہندو مت کے ماننے والوں میں بھی ایسے دانشور اور سیاستدان پیداہوئے جنہوں نے ہندو تشخص کے حوالے سے بات کی۔ اس کے بنیادی اسباب میرے خیال میں سیاسی تھے۔ بیسویں صدی سے پہلے یا انیسویں صدی کے اواخر سے پہلے ہندوستان میں اس طرح کی صورتحال موجو نہیں تھی کہ جہاں ثقافتی تنوعات کو سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کرنے کی ضرورت پیش آتی۔یہ ضرورت 1857ءکے بعد پیش آتی ہے اور اس کا یہ نتیجہ ہے کہ مختلف ثقافتی شناختیں رکھنے والے لوگوں نے اپنی اپنی شناخت کو اپنی سیاست کی بنیاد بنایا اور اپنی جداگانہ سیاسی حیثیت پر اصرار کرنا شروع کیا۔
(ڈاکٹر جعفر احمد)

یہ بھی پڑھیں:  آزاد ریاستیں دکن کی بہمنی سلطنت (۴)

اپنا تبصرہ بھیجیں