mulana fazlu rehman-27

اب کیا کریں گے مولانا فضل الرحمن؟

EjazNews

حکومت اور اپوزیشن کمیٹیوں کی ملاقات جاری ہیں۔سربراہ مولانا فضل الرحمن کی رہائش گاہ پرچوہدری شجاعت حسین اور چوہدری پرویز الٰہی کی بھی ملاقات ہوئی جس کے بارے میں اکرم درانی کا میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہنا تھا کہ یہ تین نسلوں کی دوستی ہے ۔ یہ ملاقات بڑی اہمیت کی حامل تھی۔ چوہدری شجاعت حسین کو ٹیبل ٹاک کا ہمیشہ سے ماسٹر مانا جاتا ہے ان کی (مٹی پاﺅ) ضرب مثل کی طرح مشہور ہے۔ اس ملاقات کے بعد اپوزیشن کی رہبر کمیٹی کے چیئرمین اکرم درانی اور چوہدری پرویز الٰہی نے مشترکہ طور ایک پریس کانفرنس بھی کی ۔جس میں چوہدری پرویز الٰہی کا کہنا تھا کہ ہم یہاں آئے ہیں امید ہے معاملہ خوشی اسلوبی سے حل ہو جائے گا۔ کسی بھی مسئلے کا حل اچھا ماحول پیدا کرنا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ معاملات چل رہے ہیں کوئی ڈیڈ لاک نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ میں اسی سلسلے میں وزیراعظم سے ملاقات بھی کروں گا۔
جبکہ اکرم درانی کا کہنا تھا ایسی ملاقاتوں سے ماحول کی بہتری میں مدد ملتی ہے۔ چوہدری برادران کےساتھ بھائیوں کی طرح دوستی ہے اور یہ تیسری نسل کی دوستی ہے اور اچھے دوستوں سے حالات میں بہتری ہوتی ہے۔
یہ سارے الفاظ بڑے معانی رکھتے ہیں۔ مولانا فضل الرحمن نے اتوار والے دن جو تقریر کی ۔ ناقدین کا خیال ہے کہ مولانا فضل الرحمن دھرنے کو ختم کرکے ایک تحریک شروع کرنے والے ہیں۔ اب اس تحریک میں وہ اکیلے ہیں یا پھر پوری اپوزیشن ان کے ساتھ ہے یہ ابھی تک سوالیہ نشان ہے کیونکہ اپوزیشن جماعتوں کے لیڈران واضح طور پر کہہ چکے ہیں کہ انہوں نے مولانا فضل الرحمن سے دھرنے میں شرکت کرنے کی کسی طور پر بھی بات نہیں کی تھی اور نہ ہی اس دھرنے میں ان کے کارکن ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  یہ قبائلی الیکشن ثابت کر دیں گے کہ ہمارے ہاں الیکشن کمیشن ہے یا سلیکشن کمیشن:بلاول بھٹو زرداری
دھرنے کا ایک منظر

مولانا فضل الرحمن نے جو دو دن کی ڈیڈ لائن دی تھی اسے ختم ہوئے بھی دو دن ہو چکے ہیں لیکن وہ ابھی تک صورتحال کو واضح نہیں کر رہے ہیں کہ وہ یہی پر بیٹھیں گے ، دیر تک بیٹھیں گے یا پھر یہا ں سے جا کر زیادہ مضبوط کوشش کریں گے۔ یہ کارڈ مولانا فضل الرحمن نے اپنے پاس سنبھال کر رکھاہوا ہے۔ ناقدین کا خیال ہے کہ (یہ حتمی رائے نہیں ہے )خیال ہے کہ یہ دھرنا ختم ہو جائے گا کیونکہ اس میں مولانا فضل الرحمن اکیلے رہ گئے ہیں۔
یہ الگ بات ہے کہ ان کے کارکن منظم ہیں وہ دیر تک بیٹھ بھی سکتے ہیں لیکن کیا اس سے وہ خاطر خواہ نتائج حاصل کرسکتے ہیں ۔ وہ حکومت کو گرانے کی پوزیشن میں کسی طرح بھی ہیں، کیا وہ پوراملک میں بونچھال کی کیفیت ۔ جس کا جواب یہ ہے کہ نہیں ہے۔ اپوزیشن جماعتیں اپنی اپنی سیاست کر رہی ہیں اس دھرنے سے ان کو کوئی غرض نہیں ہے۔ یہ دھرنا سمٹ کر مولانا فضل الرحمن کی جماعت جمعیت علمائے (ف) کا دھرنا بن کر رہ گیا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ وہ کہتے ہیں میرے ساتھ تمام اپوزیشن کی جماعتیں شامل ہیں لیکن 31اکتوبر کے جلسہ کے بعد سے اپوزیشن جماعتیں مولانا فضل الرحمن کو اکیلا چھوڑ چکی ہیں۔ ان کے کنٹینر پر اپوزیشن کی صف اول کی قیادت بھی دیکھنے میں نہیں آتی۔

یہ بھی پڑھیں:  کابینہ کے 93 اجلاس ہوئے اور 1759 فیصلے کیے گئے، ان میں 1589 پر عملدرآمد ہوچکا ہے:شبلی فراز

اپنا تبصرہ بھیجیں