women food

بہت زیادہ غذا یا غلط قسم کی غذا کھانے سے عورتوں میں پیدا ہونے والے مسائل

EjazNews

اگر کسی عورت کا وزن بہت بڑھ جائے یا وہ بہت چکنائی والی اشیا کھاتی ہے تو اس کو کئی بار بیماریاں ہو جانے کا اندیشہ بڑھ جاتا ہے، مثلا ہائی بلڈ پریشر، دل کی بیماری، دل کا دورہ، پتے میں پتھری، ذیبا طیس (شکر کی بیماری) اور بعض اقسام کے سرطان (کینسر)۔ضرورت سے زیادہ وزن ہونے کی وجہ سے ٹانگوں اور پیروں میں جوڑوں کا درد بھی ہوسکتا ہے۔
بہت زیادہ وزن رکھنے والے افراد کو چاہیے کہ اپنا وزن کم کریں۔ اس کے لیے ان کو زیادہ ورزش کرنی چاہے اور اپنی غذا میں چکنائی والی اورمیٹھی اشیا کی جگہ پھل اور سبزیاں لیا کریں۔
غذا میں چکنائی کی مقدارکم کرنے کے لیے چند تجاویز یہ ہیں:۔
جب کھانا پکا ئیں تو جس حد تک ممکن ہومکھن، گھی، چربی یا تیل، کم سے کم مقدار میں استعمال کریں یا پھر اس کی بجائے یخنی یا پانی میں کھانا پکائیں۔
پکانے سے پہلے گوشت سے چکنائی الگ کر دیں۔ مرغی کی کھال نہ کھائیں۔
زیادہ چکنائی والی تیار اسنیکس کی اشیا مثلاً چپس اور کریکرز کھانے سے بچیں۔
ذیابیطس:
ذیابیطس کے مریضوں کے جسم میں شکر کی مقدار بہت زیادہ ہوتی ہے۔ اگر یہ بیماری کسی فرد کوکم عمری میں ہوجائے تو عام طور پر اس بیماری کی شدت زیادہ ہوتی ہے ،لیکن یہ 40 برس سے زائد عمر کے ایسے افراد میں عام ہے جن کا وزن بہت زیادہ ہو۔
ابتدائی علامات:
ہمیشہ پیاسے رہنا ۔ اکثر پیشاب آنا اور زیادہ مقدار میں آنا ۔ ہمی جھکن رہنا ۔ ہمیشہ بھوک لگنا ۔ وزن میں کمی ہونا۔ فرج کے انفیکشن بار بار ہونا
بعد کی زیادہ شدید علامات:
جلد میں خارش ۔ بینائی دھندلانے کے دور گزرنا ۔ ہاتھوں یا پیروں میں محسوس کرنے کی صلاحیت میں کچھ کمی۔ پیروں پر زخم ہونا جو بھرتے ہیں۔ بے ہوش ہوجانا(انتہائی صورتوں میں)
یہ تمام علامات دیگر بیماریوں کی وجہ سے بھی ظاہر ہوسکتی ہیں۔ یہ معلوم کرنے کے لیے کہ آپ کو ذیابیطس ہے یا نہیں، آپ خود بھی اپنے پیشاب کی جانچ (ٹیسٹ) کر سکتی ہیں۔ کاغذ کی خصوصی پٹیاں مثلاً ”یورس ٹکس“( Unristix) استعمال کریں، جنہیں اگر شوگر والے پیشاب میں ڈبو یا جائے تو ان کی رنگت تبدیل ہو جاتی ہے۔ اگر یہ پٹیاں نہ ملیں تو پیشاب میں شوگرکے سادہ ٹیسٹ کے لیے کی قریبی ہیلتھ مرکز میں ضرور جانا چاہئے۔
علاج:
اگر آپ کو ذیابیطس ہے اور آپ کی عمر 40 سال سے کم ہے تو جب بھی ممکن ہو، علاج کسی معالج سے کروایا جانا چاہئے۔ اگر آپ کی عمر 40 سال سے زیادہ ہے تو ممکن ہے کہ آپ اپنی غذا کا خیال رکھ کر اپنے مرض کو کنٹرول کر سکیں۔
اکثر تھوڑی تھوڑی مقدار میں کھانا کھایا کریں۔ اس طرح آپ کے خون میں شکر کی مقدار یکساں رکھنے میں مدد ملے گی۔
بہت زیادہ مقدار میں میٹھی غذائیں کھانے سے بچیں۔
اگر آپ کا وزن بہت زیادہ ہے تو اپنا وزن کم کرنے کی کوشش کریں۔
بہت زیادہ چکنائی والی غذائیں کھانے سے گریز کریں ( مثلاً مکھن، گھی، چربی یا تیل) سوائے اس کے کہ آپ کو کھانے کے لیے کافی غذا حاصل کرنے میں پریشانی ہو۔
اگر ممکن ہو تو آپ کو معالج سے اپنا معائنہ باقاعدگی سے کرواتے رہنا چاہیے تاکہ یہ اطمینان رہے کہ آپ کا مرض زیادہ شدت تو نہیں پکڑرہا۔
جلد کو انفیکشن اور زخموں سے بچانے کے لیے، کھانے کے بعد اپنے دانت صاف کیا کریں، اپنی جلد کو صاف ستھرا رکھیں اور پیروں کو زخمی ہونے سے بچانے کے لیے ہمیشہ جوتے پہنا کریں۔ روزانہ ایک مرتبہ اپنے ہاتھوں، پیروں کا معائنہ کر لیا کریں تا کہ یہ معلوم ہو سکے کہ آپ کو کوئی زخم تو نہیں آیا۔ اگر آپ کو کوئی زخم آیا ہے اور وہاں انفیکشن کی کوئی سی علامت ہے (سرخی، سوجن یا حرارت) تو کسی ڈاکٹر کے پاس جائیں۔
جب بھی ممکن ہو، اپنے پیر اوپر کی طرف کر کے آرام کرلیا کریں۔ ایسا اس صورت میں خاص طور پر اہم ہے جب آپ کے پیروں کی رنگت زیادہ گہری ہوجائے اور وہ سن رہنے گئیں۔ یہ علامت اس بات کو ظاہر کرتی ہے کہ آپ کے پیروں کو خون لانے اور لے جانے کاعمل سست ہو گیا ہے۔
کم اور ناقص غذا کی وجہ سے پیدا ہونے یا بگڑنے والے صحت کے دیگر مسائل :
ہائی بلڈ پریشر ۔کمزور ہڈیاں۔ قبض ۔ معدے کا السر، تیزابی بدہضمی اور سینے میں جلن

یہ بھی پڑھیں:  ماہواری کے نظام میں مشکلات کے باعث پیچیدگیاں

اپنا تبصرہ بھیجیں