childeren use tecnlogy

بچوں کی حفاظت کیجئے، ٹیکنالوجی کے مضر اثرات سے بچائیں

EjazNews

دورِ حاضر کے بچّے کاغذ ی کشتیوں کو پانی میں بہانے، کھلونوں سے دِل بہلانے، تتلیوں کے پیچھے دوڑنے یا ریت کے گھروندے بنانے والے نہیں اور نہ ہی یہ کوہِ قاف کے جِنوں، پریوں سے متعلق گھڑی گئی داستانوں پر یقین کرتے ہیں۔ یہ شاید انسانی تاریخ کے ذہین ترین بچّے ہیں۔ یہ حقیقی دُنیا میں اتنا وقت نہیں گزارتے، جتنا ڈیجیٹل ورلڈ میں بِتاتے ہیں۔ ان کی کائنات اسمارٹ فون، ٹیبلٹ اور کمپیوٹر جیسی ڈیوائسز تک سِمٹ کر رہ گئی ہے ۔ یہ ویڈیو گیمز، کارٹونز اور دوسرا آن لائن مواد دیکھنے تک محدود ہو کر رہ گئے ہیں اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی پر اپنے والدین سے زیادہ دسترس رکھتے ہیں۔ تحقیق کے مطابق، آج ترقّی یافتہ ممالک میں ہر 3میں سے ایک بچّہ بات چیت کے قابل ہونے سے قبل ہی اسمارٹ فون کے استعمال سے واقفیت حاصل کر لیتا ہے اور بچّوں کی یہ عادت اُن کے رویّوں، رشتوں، سماجی و ثقافتی بندھنوں اور تعلیم پر اثر انداز ہو رہی ہے۔ اس صُورتِ حال میں بچّوں کو یہ سمجھانے کی ضرورت پہلے سے کئی گُنا بڑھ گئی ہے کہ ڈیجیٹل ورلڈ کے علاوہ بھی ایک دُنیا ہے۔ انسانی احساسات و جذبات کی دُنیا۔ اور انسانوں سے روابط بے جان آلات میں مگن رہنے سے کہیں زیادہ اہمیت رکھتے ہیں۔ آج دُنیا بَھر میں ڈیجیٹل ڈیوائسز کے استعمال کی عادت وبا کی شکل اختیار کرتی جا رہی ہے اور اس کے منفی نتائج بھی سامنے آنے لگے ہیں، جن میں بچّوں کی تعمیری و تخلیقی صلاحیتوں کی تباہی و پامالی قابلِ ذکر ہے۔ اس تشویش ناک صورتِ حال کا ادراک کرتے ہوئے بعض ممالک نے بچّوں کے اسکرین ٹائم کو محدود کرنے کے لیے اقدامات شروع کر دیے ہیں، لیکن عدم آگہی یا غفلت کی وجہ سے پاکستان میں یہ رجحان آئے روز تقویّت حاصل کر رہا ہے۔سو، ڈیجیٹل ڈیوائسز کی لت کے تباہ کُن اثرات اور اس کے سدِ باب سے متعلق قارئین کو باخبر کرنے کے لیے چشم کُشا حقائق اور احتیاطی تدابیر پر مشتمل ایک تفصیلی رپورٹ پیشِ خدمت ہے۔
چند انچ کی اسکرین، اردگرد کی دُنیا سے قطع تعلقی
ہمیں سب سے پہلے تو یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ نئی پَود کا دماغ گزشتہ نسلوں سے قطعاً مختلف ہے۔ ٹی وی دیکھنے والی نسل صرف دیکھنے اور سُننے کی عادی تھی، جب کہ آج بچّے ایک ہی وقت میں اپنے حواسِ خمسہ کو یک سُوئی سے استعمال کرتے ہیں۔ یہ گزشتہ دَور کے بچّوں کی نسبت اپنی تعلیمی سرگرمیوں پر کم توجّہ دے پا رہے ہیں۔ یہ اسکولز سے آتے ہی اسمارٹ فونز میں گُم ہو جاتے ہیں۔ کبھی ویڈیو گیمز کھیلتے ہیں، تو کبھی کارٹونز دیکھتے ہیں اور ان سے دِل بَھر جائے، تو موسیقی سُننے اور دوستوں سے گپ شپ میں مصروف رہتے ہیں۔ ایک ہی چھت کے نیچے رہتے ہوئے والدین اور بہن بھائیوں سے لا تعلق ، انہیں کھانے پینے کی کوئی فکر ہوتی ہے، نہ پڑھائی کی اور نہ ہی خاندانی تقریبات میں شرکت سے کوئی سروکار۔ اگر کسی غرض سے گھر سے باہر نکلیں، تو بھی ارد گرد کے مناظر کو اشتیاق سے دیکھنے کی بہ جائے اسکرین ہی پر نظریں جمائے رکھتے ہیں۔ یعنی دو ، چار انچ کی اسکرین نے بچّوں کو اپنے ارد گرد کی دُنیا سے کاٹ کے رکھ دیا ہے۔
افادیت سے انکار ممکن نہیں
ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کی افادیت سے کوئی انکار نہیں کرسکتا، کیوں کہ یہ علم کا بیش بہا خزانہ ہے۔ اس کے ذریعے طالبِ علم کی متنوّع اور نِت نئے علوم تک رسائی ہی نہیں، سیکھنے کی صلاحیت میں اضافہ بھی ممکن ہے ۔ آج تعلیم اور ٹیکنالوجی کا آپس میں گہرا تعلق ہے اور اس نے زندگی میں آسانیاں بھی پیدا کی ہیں۔ ڈیجیٹل ڈیوائسز کی وجہ سے اب بچّوں کی زندگی میں بوریت کے لمحات کم ہی آتے ہیں، جو ان کا مثبت پہلو ہے ، لیکن ان کے بے تحاشا استعمال میں کئی خطرات بھی پوشیدہ ہیں، جن سے آگہی ضروری ہے۔
منفی اثرات ،عدم آگہی
ڈیجیٹل ورلڈ میں بے حیائی اور تشدّد پر مبنی مواد بھی شامل ہے، جو بچّوں کو بہ آسانی اپنی جانب راغب کرتا ہے۔ پھر آن لائن سرگرمیوں پر نہ صرف ہر لمحہ نظر رکھی جاتی ہے، بلکہ انہیں ریکارڈ بھی کیا جاتا ہے۔ لہٰذا، بچّوں کے انٹرنیٹ کے استعمال کو محدود کرنا ضروری ہے۔ نیز، والدین کو انہیں یہ بتانا چاہیے کہ وہ کون سی معلومات، باتیں دوسروں سے شیئر کریں اور کون سی نہیں۔ چُوں کہ والدین کی اکثریت انٹرنیٹ کو صرف مثبت ذریعۂ ابلاغ سمجھتی ہے، لہٰذا اپنے بچّوں کی خبر گیری سے گریز کرتی ہے۔
والدین کا خوف
9سے 19برس تک کے بچّے صرف اس ڈر سے انٹرنیٹ پر موجود فحش مواد کے بارے میں والدین کو نہیں بتاتے کہ کہیں اُن کے انٹرنیٹ کے استعمال پر پابندی نہ عاید کر دی جائے یا پھر والدین اُن پر غصّے کا اظہار کریں گے۔ ’’لندن اسکول آف اکنامکس‘‘ کی 2014ء کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ برطانیہ میں 57فی صد بچّے انٹرنیٹ پر فحش مواد دیکھتے ہیں ، لیکن صرف 16فی صد والدین کو اس بات کا علم ہے۔ نیز، بچّوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے واقعات میں اضافے کا ایک بڑا سبب انٹرنیٹ بھی ہے۔
ہر تیسرا انٹرنیٹ صارف، بچّہ
یونیسیف کی سالانہ رپورٹ، ’’دی اسٹیٹ آف دی ورلڈ چلڈرن (ایس او ڈبلیو سی) 2017ء، چلڈرن اِن ڈیجیٹل ورلڈ‘‘ میں بتایا گیا ہے کہ دُنیا میں انٹرنیٹ کا ہر تیسرا صارف بچّہ ہے، لیکن اس کے باوجود بچّوں کو محفوظ آن لائن مواد فراہم کرنے کے لیے کوئی خاص انتظامات نہیں کیے گئے۔ اسی رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ آن لائن مواد تیار کرنے والوں کی اکثریت مغرب سے تعلق رکھتی ہے۔ تمام ویب سائٹس میں سے تقریباً 26فی صد انگریزی زبان میں ہیں اور بچّوں کو اپنی مقامی زبان میں مواد تلاش کرنے کے لیے خاصی تگ و دو کرنی پڑتی ہے۔
نیلی روشنی، نیند اور بینائی کم ہونے کا خدشہ
اسکرین سے خارج ہونے والی نیلی روشنی سے بچّوں کی نیند کا دورانیہ کم ہو جاتا ہے۔ یہ لائٹ سورج کی تیز روشنی میں بھی اسکرین دیکھنے میں مدد دیتی ہے، لیکن اس کی موجودگی میں دماغ میلاٹونین نامی وہ ہارمون بنانا ترک کر دیتا ہے ، جو نیند کا سبب بنتا ہے۔ نیز، میلا ٹونین کی مقدار متاثر ہونے سے ڈیپریشن یا پژمردگی اور موٹاپے کا خدشہ بھی بڑھ جاتا ہے۔ دوسری جانب نیند کی کمی سے مثانے کے کینسر کے خطرات میں اضافہ ہو جاتا ہے اور یادداشت پر بھی منفی اثرات مرتّب ہوتے ہیں۔ علاوہ ازیں، اسکرین سے خارج ہونے والی نیلی روشنی پردۂ چشم کو نقصان پہنچانے کی وجہ سے بینائی کے لیے تباہ کُن ثابت ہوتی ہے۔
دماغ کا کینسر،خطرات میں5گُنا اضافہ
موبائل فون سے خارج ہونے والی برقی مقناطیسی شعائیں بالغان کے مقابلے میں بچّوں کے دماغ پر زیادہ تیزی سے اثر کرتی ہیں۔ ’’رائل سوسائٹی آف لندن‘‘ کے مطابق، 20برس کی عُمر سے پہلے موبائل فون استعمال کرنے والوں بچّوں میں، بچپن میں موبائل فون استعمال نہ کرنے والوں بچّوں کے مقابلے میں 29برس کی عُمر میں دماغ کے کینسر کے خدشات 5گُنا بڑھ جاتے ہیں۔ یوکرین میں ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق، وائرلیس آلات سے خارج ہونے والی تاب کار شعائیں کینسر سے لے کر الزائمر اور رعشہ تک جیسے امراض کا سبب بنتی ہیں۔ یاد رہے کہ موبائل فون کا استعمال سب سے پہلے ناروے اور سوئیڈن میں شروع ہوا تھا۔ ان ممالک میں ہونے والی ایک ریسرچ بتاتی ہے کہ موبائل فون سے خارج ہونے والی شعائوں کا انسانی صحت سے گہرا ربط ہے۔ 2008ء میں سوئیڈن میں ہونے والی ایک تحقیق سے پتا چلتا ہے کہ موبائل فون کے زیادہ استعمال سے کانوں کے آس پاس کینسر کے پھوڑے بننے کے امکانات کئی گُنا بڑھ جاتے ہیں، جب کہ اسرائیلی سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ موبائل فونز سے خارج ہونے والی برقی مقناطیسی لہریں مَردوں کو بانجھ پن میں مبتلا کر سکتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  مسلم سماج اور عمرانی مسائل
آنے والا کل بچے ہوتے ہیں ان کی ہر طرح سے حفاظت کرنے ہماری ذمہ داری ہوتی ہے۔

زیادہ استعمال، ذہنی معذوری کا سبب
ماہرین کے خیال میں موبائل فون کا بِلا ضرورت استعمال بچّوں میں آنکھوں، گردن، پَٹّھوں اور جوڑوں کے درد سمیت دماغی معذوری کا سبب بن سکتا ہے۔ ہانگ کانگ کی ایک یونی ورسٹی میں ہونے والی تحقیق کے مطابق موبائل فون یا ٹیبلٹ کا مسلسل استعمال ہاتھوں، کلائیوں اور انگلیوں میں درد کا باعث بنتا ہے، جب کہ ایک ہاتھ سے موبائل فون استعمال کرنے والوں میں یہ شکایت عام ہے ۔ نیز، بچّوں کی گردن اور ریڑھ کی ہڈی بھی متاثر ہو سکتی ہے۔
زیرِ استعمال فون، کموڈ کی سِیٹ سے10گُنا زیادہ آلودہ
ایک تحقیق کے مطابق، موبائل فون کی اسکرین یا کی پیڈ کو مستقل چُھونے سے اس پر مختلف جراثیم بسیرا کر لیتے ہیں اور ایک موبائل فون پر کموڈ کی سیٹ سے بھی زیادہ جراثیم پائے جاتے ہیں۔ امریکی جریدے، ٹائم کی 2017ء کی رپورٹ کے مطابق، آپ کے زیرِ استعمال سیل فون کموڈ کی سِیٹ سے 10گُنا زیادہ گندا ہوتا ہے۔
11سال تک کے بچّے، صحت کو خطرات لاحق
عالمی ادارۂ صحت نے خبردار کیا ہے کہ کمپیوٹر، اسمارٹ فون اور ٹیبلٹ پر زیادہ وقت گزارنے اور تجویز کردہ ہدایات پر عمل درآمد میں ناکامی سے 11برس کی عُمر تک کے بچّوں کی صحت کو خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔ 2002ء سے 2014ء تک 42ممالک کے 2لاکھ بچّوں پر کیے گئے عالمی ادارے کے سروے میں کہا گیا ہے کہ عموماً بچّے دوگھنٹے سے زاید وقت ان ڈیوائسز کے ساتھ گزارتے ہیں ، جب کہ کمپیوٹر استعمال کرنے والے بچّوں کی تعداد کے اعتبار سے اسکاٹ لینڈ سرِفہرست ہے۔ نیز، اسمارٹ فونز اور ٹیبلٹس کی وجہ سے بچّے دو گھنٹے سے بھی کم وقت کے لیے ٹی وی دیکھتے ہیں، جب کہ اس وقت اوسطاً ہر10برس کی عُمر کے بچے کے پاس اپنا موبائل فون ہے۔
ایشیائی ممالک … فون کی لَت،’’نوموفوبیا‘‘ قرار
متعدد ممالک میں اسمارٹ فون کی لت کو سرکاری طور پر ایک ذہنی عارضہ قرار دینے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ دُنیا بَھر کی طرح ایشیا میں بھی اسمارٹ فون کے استعمال میں تیزی سے اضافہ ہو ا ہے، جس کی وجہ سے شہری موبائل فون تک عدم رسائی کی صورت میں ہونے والی شدید پریشانی، ’’نوموفوبیا‘‘ کا شکار ہو رہے ہیں۔ واضح رہے کہ سیلفی اِسٹک اور انواع و اقسام کی ایموجیز کی ایجاد سے ایشیائی ممالک میں اسمارٹ فون کی لت تیزی پھیل رہی ہے اور اس میں زیادہ تر نوجوان مبتلا ہیں۔ جاپان میں کھانا کھانے سے پہلے، کھانا کھاتے ہوئے اور کھانے کے بعد سیلفی بنانا اور شیئر کرنا معمول بن چُکا ہے۔ سنگاپور میں زیادہ تر کم سِن بچّے اس لت کا شکار ہیں اور 60لاکھ نفوس پر مشتمل یہ مُلک سب سے زیادہ اسمارٹ فون صارفین والے ممالک میں سے ایک ہے۔ سنگاپور میں ڈیجیٹل آلات کی لت جیسے امراض کے ماہرین اور ان مریضوں کے علاج کے لیے کلینک بھی موجود ہے۔ نیز، اسمارٹ فون کے نشےکو باضابطہ طور پر مرض تسلیم کیے جانے کی مُہم بھی جاری ہے۔ نصاب کا حصّہ ہونے کی وجہ سے سنگا پور میں اکثر بچّوں کو اسمارٹ فونز بہ آسانی دست یاب ہیں اور وہاں طلبہ کو واٹس ایپ کے ذریعے ہوم ورک دینا معمول کی بات ہے، جب کہ ہانگ کانگ میں والدین اپنے ایک ماہ کی عُمر تک کے بچّوں کو بھی اسمارٹ فونز اور ٹیبلٹس وغیرہ کا عادی بنا رہے ہیں۔
سرمایہ کارکمپنیز کی ’’ایپل‘‘ سے اوقات محدود کرنے کی درخواست
بچّوں کی دماغی صحت متاثر ہونے کے پیشِ نظر رواں برس کے اوائل میں دو بڑی سرمایہ کارکمپنیز نے معروف ٹیکنالوجی کمپنی، ’’ایپل‘‘ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ایک ایسا سافٹ ویئر تیار کرے، جو بچّوں کے اسمارٹ فون استعمال کرنے کے اوقات محدود کر سکے۔ یہ دو کمپنیز، یانا پارٹنرز اور کیلی فورنیا ٹیچرز پینشن فنڈز،ایپل کے دوارب ڈالرز اسٹاک کی مالک ہیں۔ مذکورہ کمپنیز نے ایپل سے اپنے اسمارٹ فونز میں ڈیجیٹل لاک لگانے کی درخواست کی ہے، جب کہ دوسری جانب انسٹا گرام، ٹویٹر اور فیس بُک جیسے سوشل نیٹ ورکنگ ہاؤسز کا دعویٰ ہے کہ وہ 13برس سے کم عُمر بچّوں کو نیٹ ورکنگ کی اجازت نہیں دیتے۔
بچّے، بھینگے پن کا شکار
ایک برطانوی اخبار کی رپورٹ کے مطابق، جو بچّے موبائل فون کا استعمال کثرت سے کرتے ہیں یا اسکرین کو اپنی آنکھوں کے بہت قریب رکھتے ہیں، ان میں بھینگے پن کے امکانات بہت زیادہ بڑھ جاتے ہیں۔ اس سلسلے میں کیے گئے ایک تجربے میں ماہرین نے چند بچّوں کو روزانہ 4سے 8گھنٹے تک اسمارٹ فون استعمال کرنے اور اسکرین کو اپنی آنکھوں سے 8سے 12انچ دُور رکھنے کی ہدایت کی ،تو دو ماہ بعد ان میں سے اکثر بچّوں میں بھینگے پن کی علامات ظاہر ہونا شروع ہو گئیں۔ بعدازاں، جب ان بچّوں کی موبائل فون استعمال کرنے کی عادت چُھڑوائی گئی، تو بھینگے پن کی علامات بھی ختم ہو گئیں۔ ماہرین کا کہنا تھا کہ صارفین کو 30منٹ سے زیادہ دیر تک موبائل فون کی اسکرین کو مسلسل نہیں دیکھنا چاہیے۔
زیادہ اسکرین ٹائم ، ہائی بلڈ پریشر کا سبب
سائنسی جریدے، ’’انٹرنیشنل کارڈیالوجی‘‘ میں شایع ہونے والی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ 2سے10برس کی عُمر کے وہ بچّے، جو دن میں دو گھنٹے سے زاید وقت اسکرین کے سامنے یعنی ٹی وی، اسمارٹ فون یا ٹیبلٹ استعمال کرتے ہوئے گزارتے ہیں، ان کے خون کے دباؤ میں اضافہ ہو جاتا ہے اور ان میں ہائی بلڈ پریشر یا بلند فشارِ خون کا خطرہ دیگر بچّوں کے مقابلے میں30فی صد زیادہ ہوتا ہے، جب کہ دو گھنٹے سے زاید اسکرین ٹائم کے ساتھ غیر متحرک طرزِ زندگی رکھنے والے بچّوں میں ہائی بلڈ پریشر کا خطرہ 50فی صد زیادہ ہوتا ہے۔ ریسرچ کے مطابق، غیر متحرک طرزِ زندگی یا بیٹھے بٹھائے انجام دی جانے والی سرگرمیوں نے، جن میں ٹی وی دیکھنا، کمپیوٹر استعمال کرنا اور ویڈیو گیمز کھیلنا وغیرہ شامل ہیں، بچّوں کو کئی جسمانی و نفسیاتی مسائل کا شکار کر دیا ہے۔
کثرتِ استعمال سے خود کُشی کے رجحان میں اضافہ
ڈیجیٹل اور سوشل میڈیا نے بچّوں کی نفسیات پر گہرے منفی اثرات مرتّب کیے ہیں۔ سوشل میڈیا کے استعمال کے باعث 27فی صد کم عُمر بچّے ڈیپریشن کا شکار ہیں اور الیکٹرانک ڈیوائسز پر زیادہ وقت گزارنے کی وجہ سے ان میں خود کُشی کا خطرہ 35فی صد زیادہ پایا جاتا ہے، جب کہ دن میں 3گھنٹے اسمارٹ فون استعمال کرنے والے بچّوں میں خود کُشی کا رجحان سب سے زیادہ ہوتا ہے۔ دوسری جانب امریکا میں فائرنگ اور قتل کے واقعات کا اہم سبب بھی اسمارٹ فون ہی کو بتایا جاتا ہے۔ امیر ترین ممالک سے متعلق عالمی ادارۂ صحت کا کہنا ہے کہ بچّوں کے موٹاپے کے اعتبار سے امریکا سرِ فہرست ہے اور اس کی اہم وجہ بچّوں کا ڈیجیٹل آلات سے چِمٹے رہنا ہے۔ اسمارٹ فونز اور ٹیبلٹس کی وجہ سے بچّے دیر سے بولنا سیکھتے ہیں۔ ان کی نیند کا دورانیہ کم ہو گیا ہے اور وہ دیر سے بستر پر جاتے ہیں۔
کمزور حافظے کا باعث
سرچ انجنز پر انحصار صارفین کے حافظے کی کم زوری کا باعث بھی بن رہا ہے۔ برطانیہ، فرانس، جرمنی، اٹلی، اسپین، بیلجیم، نیدرلینڈز اور لکسمبرگ سے تعلق رکھنے والے 6ہزار افراد پر کی جانے والی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ان میں سے ایک تہائی افراد کو معلومات حاصل کرنے کے لیے کمپیوٹر کا سہارا لینا پڑتا ہے۔ مذکورہ ریسرچ میں برطانیہ میں ایسے افراد کی سب سے زیادہ تعداد سامنے آئی اور تقریباً نصف سے زاید افراد کا معلومات تک رسائی کے لیے پہلا انتخاب انٹرنیٹ تھا۔ ایک اور سروے کے مطابق، 45فی صد افراد کو 10سال کی عُمر تک اپنے گھر کے ٹیلی فون نمبرز یاد تھے، 29فی صد کو اپنے بچّوں کے فون نمبرز ذہن نشین تھے، جب کہ 43فی صد کو اپنی جائے ملازمت کے ٹیلی فون نمبرز یاد تھے۔ برطانیہ میں 51فی صد افراد کو اور اٹلی میں تقریباً 80فی صد افراد کو اپنے دوستوں کے ٹیلی فون نمبرز ازبر تھے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹیکنالوجی پر انحصار طویل المدّتی حافظے کی نشوونما میں رُکاوٹ کا باعث بنتا ہے۔ ’’ڈیجیٹل ایمنیسیا‘‘ (بُھولنے کی بیماری) کے شکار افراد وہ اہم ترین معلومات بھی ذہن نشین کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کرتے، کیوں کہ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ بہ وقتِ ضرورت یہ ڈیجیٹل آلات کے ذریعے فوراً حاصل کی جا سکتی ہے۔ اہم ترین معلومات کے علاوہ یادگار لمحات کی اہم تصاویر وغیرہ بھی ڈیجیٹل ڈیوائسز میں محفوظ رکھنے کا رجحان پایا جاتا ہے، جب کہ ان کے گُم یا خراب ہونے کی صورت میں یہ تمام تر مواد ضایع ہوجانے کا خطرہ موجود رہتا ہے۔
سماجی مہارتوں سے عاری بچّے
مغربی ممالک کے متعدد تعلیمی اداروں کا ماننا ہے کہ دَورِ حاضر کے بچّوں کو یہ تک نہیں معلوم کہ کس کی بات توجّہ سے کیسے سُنی جاتی ہے اور دوسرے بچّوں کے ساتھ کیسے کھیلا جاتا ہے، کیوں کہ یہ بچّے اپنا زیادہ تر وقت حقیقی دُنیا سے دُور ڈیجیٹل ورلڈ میں گزارتے ہیں۔ حقیقی دُنیا سے دُور رہنے کی وجہ سے کئی طلبہ تعلیم میں یک سَر دِل چسپی نہیں لیتے اور یہ آلات ان کے سمجھنے کی صلاحیت کو بُری طرح تباہ کر رہے ہیں، جب کہ والدین کا خیال یہ ہوتا ہے کہ بّچے جس قدر جلد ان ڈیوائسز کو سیکھیں گے، مستقبل میں اسی قدر بہتر انداز میں تعلیم کے حصول کے لیے تیار ہوں گے۔ ماہرین کے مطابق، آئی پیڈ جیسے آلات کتاب کا نعم البدل نہیں ہو سکتے اور طلبہ کو اپنی زندگی میں تخیّل بَھرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ تاہم، ڈیجیٹل ڈیوائسز سماجی مہارتوں جیسا کہ دوست بنانے، کسی کام کی ذمّے داری لینے، سلیقہ مند بننے، شائستہ گفتگو کرنے اور جذبات اور غصّے پر قابو پانے میں رُکاوٹ بنتے ہیں اور ایسے طلبہ تنہائی کا شکار رہتے ہیں۔ نیز، ان کی قوّتِ گویائی اور سماعت دونوں نارمل نہیں رہتیں۔ یہ آنکھیں عجیب انداز میں جَھپکتے ہیں، سماجی اونچ نیچ کو نہیں سمجھ پاتے اور ان کی دماغی صحت بھی متاثر ہوتی ہے۔ فیس بُک کا مسلسل استعمال کرنے والے بچّے خوشی و غمی کے احساس سے عاری ہو کر حسد اور رشک جیسے جذبات کا شکار ہو جاتے ہیں اور پُرتشدّد و غیر سماجی رویّوں کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ اسی طرح ویڈیو گیمز کھیلنے والوں بچّوں میں مایوسی اور ڈپریشن کی شکایات عام ہیں۔ ایسے بچّے موڈی ہو جاتے ہیں اور اسکول میں بوریت محسوس کرتے ہیں۔
ڈیجیٹل ورلڈ کے موجدین ، کامیاب شخصیات
کے بچّے اسکرین ڈیوائسزسے دُور
ڈیجیٹل ورلڈ کے موجدین، امیر ترین افراد، ہائی ٹیک اداروں کے سربراہان اور دُنیا کی دیگر اہم ترین شخصیات اپنے بچّوں کو ٹیکنیکل یا اسکرین ڈیوائسز سے پاک ماحول فراہم کرتی ہیں یا ان کے محدود استعمال کی اجازت دیتے ہیں۔ اگر ہم ڈیجیٹل ورلڈ کے مرکز، سِلی کون ویلی سے وابستہ دُنیا کا نقشہ تبدیل کرنے والی قد آور شخصیات اور دُنیا کے اہم افراد کی ذاتی زندگی اور اُن کے بچّوں کے معمولات پر نظر ڈالیں، تو یہ جان کر حیرانی ہو گی کہ انہوں نے کس طرح اپنے بچّوں کو ڈیجیٹل ڈیوائسز سے دُور رکھا۔ اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ان مصنوعات کے تخلیق کار ان کے نقصانات صارفین سے کہیں زیادہ بہتر انداز میں جانتے ہیں۔
<سابق امریکی صدر، باراک اوباما کہتے ہیں کہ جب تک ان کی بیٹیاں اسکول میں زیرِ تعلیم تھیں، تب تک انہیں ٹی وی دیکھنے تک کی اجازت نہیں تھی اور نہ ہی انہوں نے اپنی صاحب زادیوں کو تفریح کی خاطر کمپیوٹر استعمال کرنے کی اجازت دی۔
< مائیکرو سافٹ کے بانی اور طویل عرصے تک دُنیا کے امیر ترین فرد کا اعزاز رکھنے والے، بِل گیٹس بھی ٹیکنالوجی کے استعمال کے معاملے میں اپنے بچّوں پر خاصی سختی کرتے ہیں۔ ان کے تین بچّوں کی عُمریں بالتّرتیب 15، 18اور 21برس ہیں اور ان پر 14سال کی عُمر تک موبائل فون کے استعمال پر پابندی عاید رہی، جب کہ وہ آج بھی کھانے کی میز پر موبائل فون نہیں لا سکتے اور سونے سے قبل ایک معیّنہ وقت تک اسے استعمال کر سکتے ہیں۔ بِل گیٹس کا کہنا ہے کہ آپ کو ہمیشہ یہ بات مدِ نظر رکھنا پڑتی ہے کہ ٹیکنالوجی کو بہتر انداز میں کیسے استعمال کیا جا سکتا ہے اور اس بات کا بھی خیال رکھنا پڑتا ہے کہ کہیں بچّے اس کا زاید یا غلط استعمال تو نہیں کر رہے۔ بِل گیٹس نے 2007ء میں اپنی بیٹی کے اسکرین ٹائم پر اُس وقت پابندی عاید کر دی کہ جب انہوں نے اپنی صاحب زادی کو ایک غیر صحت مندانہ ویڈیو گیم میں حد سے زیادہ دِل چسپی لیتے دیکھا۔ اس سلسلے میں مائیکرو سافٹ کے بانی کا کہنا تھا کہ ان کی ڈائننگ ٹیبل پر سیل فون نہیں ہوتا۔ انہوں نے اپنے بچّوں کو 14برس کی عُمر سے قبل سیل فون نہیں دیا، حالاں کہ وہ اکثر یہ شکایت کرتے تھے کہ اُن کے ہم عُمر بچّوں کے پاس ذاتی موبائل فونز ہیں۔ تاہم، وہ اپنے بچّوں کی یہ شکایت کبھی خاطر میں نہیں لائے۔
< ایپل کے بانی، اسٹیو جابز نے بھی اپنے بچّوں کو گھر میں کبھی ڈیجیٹل ڈیوائسز استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی۔ جابز نے 2011ء میں معروف امریکی اخبار، نیویارک ٹائمز کو انٹرویو دیتے ہوئے یہ انکشاف کیا تھا کہ انہوں نے کافی عرصہ قبل ہی اپنے بچّوں کو آئی پیڈ استعمال کرنے سے روک دیا تھا۔ وہ ڈائننگ ٹیبل پر اپنے بچّوں سے مختلف کُتب، تاریخ اور باہمی دِل چسپی کے دیگر اُمور پر گفتگو کیا کرتے تھے۔ ان کی موجودگی میں کوئی بچّہ آئی پیڈ یا کمپیوٹر استعمال کرنے کی جرأت نہیں کرسکتا تھا اور نہ ہی ان کے بچّے دیجیٹل ڈیوائسز کی لت میں مبتلا تھے۔

یہ بھی پڑھیں:  ملک کیا ہوتا ہے؟

مغربی ممالک کے متعدد تعلیمی اداروں کا ماننا ہے کہ دَورِ حاضر کے بچّوں کو یہ تک نہیں معلوم کہ کس کی بات توجّہ سے کیسے سُنی جاتی ہے اور دوسرے بچّوں کے ساتھ کیسے کھیلا جاتا ہے، کیوں کہ یہ بچّے اپنا زیادہ تر وقت حقیقی دُنیا سے دُور ڈیجیٹل ورلڈ میں گزارتے ہیں

< ٹیک ورلڈ کی ارب پتّی شخصیت، مارک کیوبن نے بھی اپنے بچّوں کے اسکرین ٹائم کو نظم و ضبط کا پابند کر رکھا ہے۔ ان کے تین بچّے، ایلکس، الیز اور جیک ہیں۔ وہ اپنی سب سے بڑی بیٹی، 13سالہ ایلکس کا سیل فون رات دس بجے آف کر دیتے ہیں، جب کہ ویک اینڈ پر ایلکس کو رات گیارہ بجے تک اپنا موبائل فون آن رکھنے کی اجازت ہوتی ہے۔ مارک کیوبن اپنے بچّوں کی آن لائن سرگرمیوں کی نگرانی کے لیے ’’کسکو روٹرز‘‘ نامی سافٹ ویئر استعمال کرتے ہیں، جس کی مدد سے وہ اپنے بچّوں کے غیر متعلقہ ایپلی کیشنز دیکھنے پر انہیں بند کر دیتے ہیں، جس پر بعض اوقات کیوبن کی صاحب زادی اُن سے ناراض بھی ہو جاتی ہے۔ تاہم، اس کے باوجود وہ اس معاملے میں خاصے محتاط ہیں۔ کیوبن نے اعتراف کیا کہ وہ اپنے بیٹے کو مائن کرافٹ ویڈیو دیکھنے کی اجازت نہیں دیتے اور انہوں نے دو ماہ تک یہ ویڈیو نہ دیکھنے کی شرط پر اپنے بیٹے کو 150ڈالرز ادا کیے، لیکن اگر بیٹا آن لائن میتھس ویڈیوز یا پرابلمز دیکھے، تو وہ اس پر اسے ادائیگی کرتے ہیں۔
< ریڈیٹ کے بانی، الیکسز اوہانیان نے بھی اپنی بیٹی کے اسکرین ٹائم کو محدود کرنے کا پلان طے کر رکھا ہے۔ وہ اپنی بیٹی کو بوریت سے بچانے کے لیے اس کے ساتھ خود ویڈیو گیمز کھیلتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس طریقے سے انہیں اپنی بیٹی کی سوچ اور پسند نا پسند کا بہتر انداز میں پتا چلتا ہے۔
< مشہور ادکارہ، انجلینا جُولی نے اپنے بچّوں کی آن لائن سرگرمیوں کی نگرانی کے لیے ایک سائبر سیکوریٹی ٹیم کو متعیّن کر رکھا ہے اور وہ خود بھی سوشل میڈیا سے دُور رہتی ہیں۔
< معروف آسٹریلین اداکار و گلوکار، ہیو مائیکل جیک مین کے بچّے صرف ویک اینڈز ہی پر ڈیجیٹل ڈیوائسز استعمال کرتے ہیں۔
< امریکی گلوکارہ و اداکارہ، جینیفر لوپیز بھی اپنے 7سالہ جُڑواں بچّوں، میکس اور ایمے کے معاملے میں کافی سخت ہیں۔ انہوں نے ہفتے میں ایک دن یعنی اتوار کو ’’سن ڈے ،فن ڈے‘‘ قرار دے رکھا ہے اور صرف اُسی روز اُن کے بچّوں کو ٹیبلٹ استعمال کرنے اور ویڈیو گیمز کھیلنے کی اجازت ہے۔
< ہالی وُڈ اداکارہ، ریس ودراسپون ڈیجیٹل آلات کو والدین کے لیے ایک چیلنج قرار دیتی ہیں، کیوں کہ وہ یہ جان نہیں پاتے کہ اُن کے بچّے فیس بُک یا اسکائپ پر کس کے ساتھ مصروف ہیں۔ اُن کی ہر ممکن حد تک کوشش ہوتی ہے کہ گھر میں موجود تمام ڈیجیٹل ڈیوائسز آف رہیں۔
< گرچہ ایپل کے سی ای او، ٹِم کُک کی اپنی کوئی اولاد نہیں، لیکن وہ بھی بچّوں کی آن لائن سرگرمیوں کی کڑی نگرانی کے حامی ہیں اور اپنے 13سالہ بھتیجے کو سوشل نیٹ ورکنگ ویب سائٹس استعمال نہیں کرنے دیتے۔
٭ سِلی کون ویلی کی سرکردہ شخصیات اپنے بچّوں کو ایسے اسکولز میں داخل کرواتی ہیں کہ جہاں ٹیکنالوجی کا استعمال کم ہوتا ہے۔ اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ایمزون اور وکی پیڈیا کے بانی، بالترتیب جیف بیزوس اور جمی ویلز کے بچّوں نے ایسے اسکولز میں تعلیم حاصل کی کہ جہاں ٹیکنالوجی کا استعمال نہ ہونے کے برابر تھا۔
(بشکریہ جنگ)

یہ بھی پڑھیں:  قرآن اور رویت ہلال (آخری حصہ)

اپنا تبصرہ بھیجیں