molana fazlu rehman

ہم آئین کو میثاق ملی سمجھتے ہیں اور آئین سے باہر کوئی بات نہیں کر رہے :مولانا فضل الرحمٰن

EjazNews

مولانا فضل الرحمان نے آزادی مارچ کے شرکا ءسے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم جو مقصد لے کر آئے تھے اس کے قریب ہوتے جارہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ تمام سیاسی جماعتوں کے قائدین نے ہمیں یقین دلایا ہے کہ وہ اس محاظ پر ہمیں اکیلا نہیں چھوڑیں گے۔ تمام سیاسی جماعتوں کے مارچ میں شمولیت سے متعلق شکوک و شبہات دم توڑ گئے ہیں، آج یہ بات بھی دم توڑ گئی کہ کونسی سیاسی جماعت آپ کے ساتھ کس حد تک ہے اور کدس حد تک نہیں اور اب ہمیں اگلے مراحل تک جانا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ 2014 کے دھرنے میں پی ٹی آئی تنہا تھی اور اب حکومت میں بھی تنہا ہے۔ ہم پاکستان کو عالمی برادری میں طاقتور دیکھنا چاہتے ہیں۔ حکومت کی کمزور پالیسیوں کی وجہ سے پاکستان دنیا میں تنہا ہو رہا ہے۔ان کا کہنا تھا خدا جانے یہ کس کا نمائندہ ہے پہلے سلیکٹڈ تھا اب ریجیکٹڈ ہوگیا ہے۔
ان کا کہنا تھا 70سالوں میں تمام حکومتوں نے جتنے قرضے لیے اس ایک سال میں موجودہ حکومت میں ان سے زیادہ قرضے لیے۔ معیشت کو حکومت نے آئی ایف کے پاس گروی رکھا ہوا ہے۔ اس حکومت کو جتنا وقت دیا جائے گا تو ملک پیچھے جائے گا۔ ملک کے تمام ادارے اور قوم اس حکومت کے حوالے سے اضطراب میں ہیں۔
مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ ہم پاکستان کو طاقتور دیکھا چاہتے ہیں، عالمی برادری کی نگاہ میں محترم دیکھنا چاہتے ہیں، کمزور پالیسیوں کی نتیجے میں آج پاکستان تنہا نظر آرہا ہے، پاکستان تنہا نظر آرہا ہے کیونکہ یہ پڑوسی ملکوں کو اعتماد نہیں دے سکتا، ہم عالمی برادری میں پاکستان کو تنہائی سے نکالنا چاہتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ یہ ہم نے جو آواز بلند کی ہے وہ پوری قوم کی آواز ہے۔
مولانا فضل الرحمن کا کہنا تھاکبھی کہا جاتا ہے کہ یہ مذہبی لوگ ہیں خواتین کو نہیں آنے دیا جاتا، مذہبی بنیاد پر قوم کو تقسیم کرنا مغرب کی سازش ہے، ہم مذہبی شناخت رکھتے ہوئے بھی فرقہ واریت کو تسلیم نہیں کرتے، ہم آئین کو میثاق ملی سمجھتے ہیں اور آئین سے باہر کوئی بات نہیں کر رہے جبکہ سابق آرمی چیف نے انٹرویو دیا کہ علما کرام جو بات کر رہے ہیں وہ آئین کے مطابق ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ خطرے کی بات کیوں کی جارہی ہے ہم تحمل کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ہم نے 15ملین مارچ کیے ہیںجن میں اپوزیشن پارٹیاں شریک ہوئیں۔لہٰذا تصادم اگر ہوا تو قوم کے ساتھ ہوگا۔
یاد رہے:آزادی مارچ سے متعلق حکومت کی مذاکراتی کمیٹی اور رہبر کمیٹی کے درمیان اکرم درانی کی رہائش گاہ پر ملاقات ہوئی۔ملاقات کےبعد میڈیا سےگفتگو کرتے ہوئےحکومتی کمیٹی کےسربراہ پرویزخٹک نے کہاکہ ہم مقصد کے حصول کے قریب ہوتےجارہےہیں ۔انہوں نےکہا کہ فریقین کل دوبارہ تین بجے مذاکرات کریں گے۔

یہ بھی پڑھیں:  بدعنوان تمام برائیوں کی جڑ ہیں :چیئرمین نیب

اپنا تبصرہ بھیجیں