united state amrica

ریگولیٹروں کے ذریعے سے اربوں ڈالر کمانے میں امریکہ کسی سے پیچھے نہیں

EjazNews

امریکہ اور یورپ اپنی عالمی طاقت کے بل بوتے پر خود ہی عالمی منڈیوں کے ریگولیٹر بن بیٹھے۔ڈبلیو ٹی او ، اقوام متحدہ اور دوسرے ریگولیٹر بالخصوص امریکہ کے سامنے بالکل بے بس دکھائی دئیے۔ سال 2012ءسے 2017ءتک دل کھول کر یورپ اور ایشیائی ممالک کے مالیاتی اداروں اور سرمایہ کاروں کو جرمانے کیے ۔مجموعی طور پر2012ءسے 2017ءتک 26ارب کے جرمانے کیے گئے اور 2017ءمیں ان میں تیزی سے اضافہ دیکھنے میں آیا زیادہ تر جرمانے امریکی ریگولیٹرز نے کیے جن میں سے 28افراد کو جیل کی ہوا کھانا پڑی۔ 2012ءسے 2017ءتک ہونے والے جرمانے میں زیادہ تر کردار امریکہ کا تھاجس نے سب سے زیادہ جرمانے 2015ءمیں کیے ۔نجی ادارے اور فرمیں امریکی ریگولیٹرز کا خاص نشانہ تھیں۔تاہم 2016ءمیں ان جرمانوں میں کچھ کمی دیکھنے میں آئی اور 2017ءمیں پھر ان میں تیزی سے اضافہ ہوا۔ امریکہ نے اپنی وسیع تر منڈی کا فائدہ اٹھایا اور جو کچھ بھی عالمی اداروں نے امریکی منڈی سے کمایا ۔ وہ امریکی اداروں نے اپنے عوام کو واپس کر ادیا۔2012ءسے ہونے والا تقریباً 70فیصد جرمانہ مارکیٹ کے غلط استعمال کے باعث کیا گیا۔ جس میں شرح مارک اپ میں دھاندلی کے نکات بھی شامل تھے۔مارکیٹ کا ناجائز استعمال اثاثے چھپانا غیر منصفانہ انداز فکر اختیار کر نا جائز تجارتی معاملات کی خلاف ورزی کرنا ان سائیڈ ٹریڈنگ ،ٹریڈنگ میں خامیاں،شارٹ سیٹنگ، وغیرہ کی خلاف ورزیوں پر جرمانے کیے گئے۔ 2015ءمیں برطانوی تاجر ٹام ہیز کو لائی بور میںکرپشن کرنے پر جیل بھیج دیا گیا انہیں14سال کی سزا ہوئی اور اپیل کے بعد یہ 11سال کر دی گئی ۔139اعلیٰ افسران پر پابندی عائد کر دی گئی اورانہیں کام کرنے سے روک دیا گیا مالیاتی جرائم میں گزشتہ 5سال میں 28افراد نے جیل کی ہوا کھائی اس طرح 5سالوں میں ریگولیٹروں نے جرمانے اور سزاﺅں کو اپنا پسندیدہ ہتھیار بنائے رکھا اس بات کا اشارہ جون برنیByrneنے کیا۔ جو ایک بڑی عالمی کمپنی کے مالک ہیں۔2012ءسے 2017ءکی تیسری سہ ماہی تک جتنے بھی جرمانے ہوئے ان کا 80فیصد تک امریکی ریگولیٹروں نے اکٹھا کیا اور ان میں سے بھی 85فیصد مارکیٹ ابیوس وغیرہ کے تحت کیا گیا جبکہ برطانیہ کی فانشنل کنڈک اتھارٹی بھی کسی سے پیچھے نہ رہی اس نے 3.1ارب روپے کے جرمانے اپنے عوام کے لیے اکٹھے کیے امریکی جرمانوں سے یورپی بینک بھی محفوظ نہ رہے اور 20ارب ڈالر میں سے 9.7یعنی 47فیصد جرمانے امریکی ریگولیٹروں نے یورپی بینکوں پر کیے جن میں برطانیہ فرانس جرمنی اور سوئزرلینڈ کے بینک بھی شامل تھے ۔ سوئس بینکوں نے تو بہت سا سرمایہ کالے دھن کی صورت میں اپنے پاس اکٹھا کیا ہوا ہے اسے ان جرمانوں سے کوئی فرق نہیں پڑتا تاہم پاکستان بھی ان ممالک میں شامل ہے جن کے بینکنگ سیکٹر کو کئی ارب روپے کے جرمانے کیے گئے لیکن بینکوں نے پاکستان میں اتنا مال کمایا کہ یہ جرمانہ ان کے لیے کسی مشکل کا باعث نہ بنا۔ عمومی طور پر جرمانے بھگتنا انتظامیہ کا کام ہے۔ مگر انتظامیہ یہ جرمانے مختلف اخراجات کی مد میں عوام پر منتقل کر دیتی ہے۔ تاہم پاکستانی بینک نے باہر جرمانے بھگتنے کے بعد پاکستان میں اپنے منافع میں دن دگنا رات چگنا اضافہ کیا۔عالمی ریگولیٹرز کا بڑا جرمانہ ٹیکنالوجی کی فرمیں فارماسویٹکل کمپنیا ں حتیٰ کہ ریٹنگ ایجنسیاں بھی بنیں 2016ءمیں امریکی سکیورٹی اینڈ ایکسچینج SECنے امریکہ میں کام کرنے والی ایک بڑی فرم کو نشانہ بنایا۔ اور اس پر الزام عائد کیا کہ وہ ماری جونا کا کاروبار کرتی ہے۔ اور ساتھ یہ بھی الزام عائد کیا کہ اس کمپنی نے ایک خفیہ لین دین کے ذریعے سے پیسہ کمایا ہے۔ اس طرح صحیح معلومات مہیا نہ کرنے کے الزام میں اس کمپنی کو بھاری جرمانہ کر دیا گیا یوں ریگولیٹروں کے ذریعے سے اربوں ڈالر کمانے میں امریکہ کسی سے پیچھے نہ رہا

یہ بھی پڑھیں:  عالمی رہنما کوویڈ19پر سیاست نہ کریں :ڈبلیو ایچ او

اپنا تبصرہ بھیجیں