winter tree

ہمارے خطے میں سردیوں میں اموات کیوں زیادہ ہوتی ہیں؟

EjazNews

اس کا بڑا سیدھا سا جواب ہے۔ یورپ اور امریکہ میں موسم گرما اور سرما میں گھر کا ماحول ایک جیسا رہتا ہے۔ ہمارے ہاں لوگوں نے کبھی سردیوں میں اپنے گھر کو گرم رکھنے کا سوچا ہی نہیں بلکہ ایک دو دہائی قبل گھروں میں جب شیشوں کے استعمال کا رواج عام ہوا تو اس سے امراض میں اضافہ ہوا ۔دفاتر اور گھروں کو انتہائی کھلا رکھنے سے درجہ حرارت نیچے آگیا ایک طرف گھر بھی کھلے اور دوسرے دفتر بھی۔ دفتر کے بیرونی حصے کو بھی بڑے بڑے شیشوں سے مزین کرنے یا خوبصورت بنانے سے انسانی صحت متاثر ہوئی یہی وجہ ہے کہ گزشتہ چند دہائیوں میں انفلونزا اور اس سے جڑی ہوئی بیماریوں سے اموات میں اضافہ ہوا۔ مثلاً عمر رسیدہ افراد اور بچے اس موسم میں وائرس کی شدت کا شکار ہوتے ہیں۔
مغرب نے اپنی عمارات کو اس طرح بنایا کہ وہ انہیں موسمی تبدیلیوں اور موسمی شدت سے بچا سکے لیکن ہم نے اپنے نئے ماحولیاتی ڈھانچے میں موسمیاتی تبدیلیوں سے انتہائی برے طریقے سے ایکسپوز کردیا۔ آدمی گھر سے سڑک تک اور سڑک سے دفتر تک ہر جگہ موسم کی شدت کا سامنا کرنے پر مجبور ہے۔ ہمارے گھر میں ہیٹنگ سسٹم نہیں ۔ ہماری ٹرانسپورٹ میں ہیٹر نام کی کوئی شے سرے سے موجود نہیں ہوتی۔ رکشے ، ویگنیں اورہوا دار بسیں ہماری عام سواریاں ہیں، آدھا ملک موٹر سائیکلوں پر سوار ہے اور آدھوں میں سے 90فیصد خطرناک صورتحال میں ہیں جو اموات کا سبب بنتے ہیں۔
کچھ احتیاطیں:
بہت سے لوگو ں نے سوال کیا ہے کہ موسمی بخار میں ہمیں کیا احتیاطیں کرنا چاہیے کیا ۔کمرے کی آکسیجن کو ختم کردیتے ہیں۔آکسیجن ختم ہونے سے سانس اور دوسرے اوارض بھی تقویت پکڑ سکتے ہیں کچھ لوگ ہیٹر کے سامنے پانی کا ایک پیالہ رکھ دیتے ہیں عام تاثر ہے اس طرح پانی سے ہیٹر کی شدت سے بخارات پھیل جائیں گے یہ بھی مناسب نہیں اور یہ آکسیجن بنانے کا کوئی سائنسی یا غیر سائنسی طریقہ نہیں۔ ہیٹر کے سامنے پانی کا رکھا ہوا پیالہ کمرے میں آکسیجن کی مقدار میں اضافہ کا باعث نہیں بنتا۔ کچھ لوگ ہیٹر کے قریب ہی چارپائی بچھا کر نیند کے مزے لیتے ہیں یہ اچھی عادت نہیں یہ انفلونزا اور دوسری بیماریوں کو دعوت دینے والی بات ہے۔یہ انتہائی مضر صحت ہے۔ کچھ چوکیدار مچھر بگھانے کے لیے گلیوں اور چوراہوں میں پتوں کو جلا دیتے ہیں یہ بھی ٹھیک نہیں ،اس سے مچھروں کو اتنا نقصان نہیں پہنچتا جتنا ماحول کونقصان پہنچتا ہے۔ آکسیجن کم ہونے اور دھواں پھیلنے سے کئی امراض جنم لے سکتے ہیں ہمارے کمرے ، ہمارا رہنا سہنا اس موسم سرما کے لیے ڈیزائن نہیں ہوا۔ ماہرین تعمیرات کو اس نقطے پر غور کرنا چاہیے۔
مغرب کی تقلید میں کمروں کو ہوا داراور شیشوں کو مزین کرنے سے حسن تو دوبالا ہو سکتا ہے اور ہیٹنگ کا نظام گیس پر رکھنا کئی بیماریوں کو دعوت دینے کے مترادف ہے جیسا کہ میں نے پہلے بھی عرض کیا کہ گرم پانی کی حرکت یا ایسا کوئی اور نظام ہونا چاہیے۔انونٹر بھی مناسب ہے۔پھر موسم سرما میں ہم سب کمرے میں اکٹھے ہو کر گپ شپ لگاتے ہیں کسی ایک کوبھی انفیکشن ہونے کی صورت میں سب کے لیے ماحول آلودہ ہو سکتا ہے۔ ایسے میں چھین یا کھانسی کی صورت میں منہ کو دوسری طرف کر کے ہاتھ کو الٹا کر کے منہ پر رکھ لینا چاہیے۔ یعنی ہتھیلی باہر کی طرف ہو۔ کچھ بچے یا لوگ سیدھا ہاتھ رکھ لیتے ہیں یہ خطرناک ہے۔سیدھے ہاتھ سے ہم کھانا کھاتے ہیں۔ ہتھیلی منہ کے سامنے رکھنا باوقت چھین ٹھیک نہیں۔ چھین کی صورت میں جراثیم ہتھیلی پر لگ جاتے ہیںاور بعد میں یہی جراثیم ہم منہ میں ڈال لیتے ہیں۔اورپھر سوچتے ہیں کہ ہم بیمار کیسے ہوئے۔ فلو کے بارے میں یہ ایک اٹل حقیقت ہے کہ دنیا بھر میں نومبر سے جنوری فروری تک کے ٹھنڈے مہینو ں میں اس کے کیسز بڑھ جاتے ہیں۔ مدافعت کم ہو جاتی ہے۔
کیا اس کا کوئی غذائی علاج بھی ہے؟:
ایک تاثر ہے لوگ مسمی کے جوس کا ایک گلاس پی لیتے ہیں۔یہ زیادہ مناسب نہیں۔ کسی بھی پھل کا جوس پینے سے بہتر ہے کہ آپ وہ پھل براہ راست کھا لیں اس میں کئی اور بھی غذائی عناصر موجود ہوتے ہیں جن کی جسم کو ضرورت ہے۔ لوگ ضرب المثل استعمال کرتے ہیں کہ موسم سرما میں آپ چینیوں اور جاپانیوں کی طرح زندگی گزاریں۔ چینی اور جاپانی اپنی توانائی میں بھرپور اضافے کے لیے انڈہ، مچھلی اور ایسی دوسری غذاﺅں کا استعمال بڑھا دیتے ہیں اور یہ ایک بہتر عمل ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  پیٹ کے درد کو معمولی مت سمجھئے

یہ ہمارا رہن سہن پھر میں کہوں گا مغرب سے ہم اپنا رہن سہن مغرب جیسا کرنے کی کوشش کریں گے مگر ماحول ان جیسا نہیں ہے ہمارے ہاں پینٹ اورک وٹ عام ہے لیکن گورے تھری پیس سوٹ استعمال کرتے ہیں کیونکہ سب سے ضروری سینے کو ٹھنڈ سے بچانا ہے۔ لیکن ہمارے ہاں کوٹ پہننے والوں کے سینے کا حصہ ہوا کے رحم و کرم پر ہوتا ہے۔یہ اپنی جان سے کھیلنے کے مترادف ہے یا تو تھری پیس سوٹ پہنیں یا نیچے کوئی گرم چیز استعمال کیجئے۔ گردن کو مکمل طور پر ڈھکا ہونا چاہیے کیونکہ ہمارے نرخے کے ساتھ خون کی انتہائی اہم نالیا ں ہوتی ہیں کیونکہ ان نالیوں کے ساتھ خون کا ٹھنڈا پڑ جانا انتہائی خطرناک ہوتا ہے۔ ہمارے کپڑوں کا ڈیزائن ہمارے موسم کے مطابق نہیں یہ گردن کو ٹھنڈ سے نہیں بچاتا۔میں پھر آپ کو بتا دینا بہتر سمجھتا ہوں کہ گلے کو نرخرے سے اوپر تک ڈھنپا ہونا چاہیے یہاں خون کا درجہ حرارت 37ڈگری سینٹی گریڈ یا 98.4تک گرنے کی صورت میں صحت کے مسائل رونما ہوسکتے ہیں۔سر ڈھانپنا تو ہے ہی ضروری۔ مختصر یہ کہ موسم سرما میں سر کا اوپر والا حصہ ڈھانپنا ضروری ہے۔ انگریزوں نے کوٹ کے ساتھ ٹائی اس لیے لگائی کہ نرخرے کے پیچھے خون کی نالیاں ٹھنڈے موسم کی شدت سے محفوظ رکھنے کے لیے لگائی گئیں۔ اسے ہائی پو تھرمیا کہتے ہیں۔ یعنی نالی کو خون کے درجہ حرارت کو ہرگز نہیں گننا چاہیے میں آپ کو یہ بھی بتاتا چلوں کے ناک سے سانس کا طریقہ بالکل سادہ نہیں یہ ہوا کو گھماتی ہے اس کا سسٹم ذرا ٹیڑھا ہے۔ اس نظام کے ذریعے سے ہوا کو صاف کیا جاتا ہے اور قدرت نے اس میں نمی شامل کرنے کا بھی ایک نظام قائم کیا ہے ناک میں خشک ہوا میں نمی شامل ہوجاتی ہے پھر یہ ہوا پھیپھڑوں کو بھیجی جاتی ہے اسی طرح درجہ حرارت کو ریگولیٹ کرنے کا ایک مکمل نظام ہے۔ ہماری ناک درجہ حرارت کے لیے سب سے پہلے جسم کو نارمل کرے گی۔ چاہے باہر درجہ حرارت 48سینٹی گریڈ ہو یا منفی 2ڈگری ناک اس کے درجہ حرارت کو 37ڈگری سیلفیٹ پر لے آئے گی۔ ٹھنڈی یا بہت زیادہ کھلی جگہ پر جانے والوں کو ماسک لگا لینا چاہیے۔ یہ بات ذہن نشین رکھیے یہ ساری علامات ایک چین ہیں ناک کا بہنا،گلے میں خارش ہونا، کھانسی آنا،ہلکا سا سردرد ہونا، یہ سب ایک چین کی صورت میں ہوتے ہیں۔ پھر علامتیں سینیں تک پہنچتی ہیں سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے پھر کھانسی شروع ہوجاتی ہے جیسے پانی سڑک پر پھیلتا ہے ویسے یہ مرض جسم کے اندر بھی پھیلتا ہے اور ایک آدمی سے دوسرے آدمی کوبھی لگنا شروع ہو جاتا ہے۔انفلونزا سے متاثر کو گھر میں ریسٹ کرانا چاہیے ورنہ یہ سکول میں بچوں کوبھی اپنے دوستوں کوبھی بیمار کر ڈالے گا۔ اس کو عالمی اداروں نے لازمی قرار دیا ہے ۔بیرون ملک تو ایسے بچوں کوامتحانوں سے بھی استثنیٰ مل جاتا ہے ۔

یہ بھی پڑھیں:  بچوں کے جسم پر پیدائشی نشانات
کیٹاگری میں : صحت

اپنا تبصرہ بھیجیں