hazrat maryam

حضرت مریم علیہا السلام کا ذکر خیر

EjazNews

حضرت مریم علیہا السلام کے پیدا ہونے کا بیان ہم پڑھ چکے ہیں۔ جب یہ پیدا ہوئیں تو ان کی ماں نے اپنی منت کے موافق ان کو لیا اوربیت المقدس میں لے گئیں اور وہاں کے خدام سے کہا کہ اس نذرانہ کو لو جو اس مقدس گھر کی خدمت کے لیے وقف ہے اس کی پرورش کرو جب وہاں کے خدام نے اس کو سنا تو ہر ایک نے حضرت مریم علیہا السلام کی پرورش کی رغبت ظاہرکی کیونکہ وہ ان کے سردار عمران کی صاحبزادی تھیں اور عمران بیت المقدس کے امام تھے۔ اس وقت حضرت ذکریا علیہ السلام نے فرمایا میں اس کی پرورش کروں گا۔ میں اس کا خالو ہوں کیونکہ اس کی خالہ میری بیوی ہے اور خالہ ماں کی طر ح ہے۔ آخر قرعہ اندازی کی نوبت آگئی۔ انیس آدمیوں نے جو کفالت چاہتے تھے نہر اردن میں توریت لکھنے کے قلم ڈالے کہ جس کا قلم پانی میں بیٹھ جائے وہی کفیل ہوگا۔ یہ دولت اللہ تعالیٰ نے حضرت ذکریا علیہ السلام کے نصیب میں لکھی تھی۔ اس لیے ان کا قلم پانی میں ٹھہر گیا اوروں کے قلم بہہ گئے۔ حضرت ذکریا علیہ السلام نے مریم علیہا السلام کی پرورش شروع کر دی اور ایک مستقل حجرہ سب سے الگ ان کے لیے بنادیا جس میں سوائے ذکریا علیہ السلام کے کوئی غیر نہیں جا سکتا تھا۔ حضرت ذکریا علیہ السلام جب حجرہ کے اندر حضرت مریم ؑ کے پاس تشریف لے جاتے تو سردی کے زمانے میں گرمی کے اور گرمی کے زمانے میں سردی کے میوے موجود پاکر تعجب کرتے تھے ایک روز دریافت کرنے لگے کہ مریم تمہارے پاس یہ میوے کہاں سے آتے ہیں ؟ حضرت مریم ؑ نے جواب دیا وہ خدا کے پاس سے آتے ہیں۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے اس واقعہ کو اس طرح بیان فرماتا ہے:
ترجمہ: اور ذکریا علیہ السلام کو اس کا کفیل بنایا جب ذکریا ؑ اس کے پاس حجرے میں جاتے تھے تو اس کے پاس کھانا(میوہ) رکھا ہوا پاتے۔ ایک دن بولے مریم یہ تمہارے پاس کہاں سے آتا ہے مریم نے کہا یہ خدا کے پاس سے آیا ہے۔ خدا جس کو چاہتا ہے بلا شبہ بے حساب روزی دیتا ہے۔
جب بیت المقدس میں رہتے رہتے حضرت مریم علیہا السلام کو ایک عرصہ ہوگیا اور جوان ہو گئیں تو اب اللہ تعالیٰ کو اپنی قدرت کاملہ کا اظہار مقصود ہوا اور ایک جلیل القدر عظیم الشان نبی کی پیدائش ایک پاک دامن ، باعصمت عورت کے پیٹ سے منظور ہوئی ایک روز مریم علیہ السلام غسل حیض سے فارغ ہوکر اپنے حجرہ میں بیٹھی تھیںکہ آدمی کی کی شکل میں حضرت جبرائیل ؑ نظرآئے۔ حضرت مریم علیہ السلام نے اجنبی مرد کو سامنے آتے دیکھ کرخدا سے پناہ مانگی اور فرمایا: اگر تو متقی ہے اور پاک دامن شخص ہے تو اجنبی عورت کے سامنے کیوںآیا۔ حضرت جبرائیل ؑ نے فرمایا: میں فرشتہ ہوں اور تم کو بشارت دینے کے لیے آیا ہوں کہ اللہ تعالیٰ تم کوسعادت مند ہونہارلڑکا عطا فرمائے گا ۔ مریم نے کہا میں کسی مرد کے پاس نہیں گئی اور نہ میری شادی ہوئی تو لڑکا کیونکر پیدا ہوگا۔ حضرت جبرائیل ؑ نے فرمایا کہ خدا کا ایسا ہی حکم ہے وہ ایسا ہی کرے گا۔ پھرحضرت جبرائیل ؑ نے قریب آکرحضرت مریم علیہا السلام کے گریبان میں پھونک دیا جس سے بحکم خدا وہ حاملہ ہوگئیں۔ اور جب بچہ جننے کا وقت آیا تو بیت اللحم کے ایک گوشہ میں کھجور کے ایک خشک درخت کے نیچے جا کر بیٹھیں نہ وہاں کوئی مونس و غمخوار تھا اور نہ کھانے پینے کا سامان تنہائی اور بے کسی اور پھر رسوائی کا اندیشہ ادھر درد زہ کی شدت شروع ہوگئی باقضائے بشری گھبرا گئیں۔ بولیں کاش میں مر جاتی اور نیست و نابود ہو جاتی اور میرا نام و نشان بھی نہ رہتا۔ اسی پریشانی کے عالم میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام پیدا ہوئے ۔ پائیتیں جانب سے آواز آئی: تم پریشان نہ ہو تمہارے نیچے چشمہ جاری کردیا گیا ہے اس کا پانی پیو اور اس خشک کھجور کو ہلاﺅ اس میں سے تازہ کھجور گریں گی اور آنکھوںکی ٹھنڈکے لیے لخت جگر لڑکا کافی ہے۔ اگرتم سے کوئی دریافت کرے تو لڑکے کی طرف اشارہ کر دینا اور کہہ دینا میں روزے سے ہوں۔ کسی سے زیادہ بات نہیں کروں گی۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔
سورئہ مریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
ترجمہ: اے نبی اپنی کتاب میں مریم کاذکر کرو جس وقت وہ اپنے گھر والوں سے علیحدہ پورب رخ کے مکاں میں جا بیٹھی اورا یک پردہ کی آڑ کر لی اور ہم نے اس کے پاس جبرائیل کو بھیجا اور وہ مکمل آدمی کی شکل میں ہو کر اس کے سامنے گیا۔ مریم نے کہا اگر تو پرہیز گار ہے تو تجھ سے اللہ کی پناہ چاہتی ہوں۔ جبرائیل نے کہا میں تیرے رب کا بھیجا ہوا فرشتہ ہوں۔ تجھے ایک پاکیزہ لڑکا بخشنے آیا ہوں مریم نے کہا میرے لڑکا کس طرح ہوگا۔ مجھے تو کسی مرد نے چھوا تک نہیں اور نہ میں بدکارہوں۔ فرشتہ بولا اسی طرح تیرے رب نے فرما دیا ہے کہ یہ مجھ پر آسان ہے غرض یہ ہے کہ ہم اس کو لوگوں کے لیے نشان قدرت بنائیں گے اور بانی رحمت قرار دیں گے اوریہ امر طے شدہ ہے۔ الغرض مریم کو لڑکے کا حمل ہوا تو وہ اس کو لے کر الگ دور جگہ چلی گئی اور درد زہ اس کو ایک کھجور کی جڑ میں لے گیا۔ بولی کاش میں اس سے پہلے مر گئی ہوتی اور بھولی بسری بن گئی ہوتی پائیتیں سے فرشتے نے آواز دی کہ رنجیدہ مت ہو تیرے رب نے تیرے پائیتں چشمہ بنا دیا ہے اور اس کھجور کی جڑ کو اپنی طرف ہلا۔ پکی پکائی کھجوریں تیرے اوپر گریں گی۔ لہٰذا کھا اورپی اورآنکھ ٹھنڈی کر اور کوئی آدمی تجھے نظر پڑے تو (اشارہ سے اس سے)کہہ دینا کہ میں نے رحمن کے روزہ کی منت مان رکھی ہے اس لیے آج کسی آدمی سے بات نہیں کرو ں گی پس مریم اس لڑکے کو گودمیں اٹھا کر اپنی قوم کے اس آئیں قوم والے بولے مریم تو نے بڑے غضب کا کام کیا اے ہارون کی بہن تیرا باپ نہ برا آدمی تھا نہ تیری ماں بدکار تھی۔ مریم نے بچہ کی طرف اشارہ کیا وہ لوگ بولے ہم گود کے بچہ سے کیسے بات کریں ۔ بچہ بول اٹھا میںاللہ کا بندہ ہوں اس نے مجھے کتاب عطا کی اور مجھے نبی بنایا۔ میں جہاں کہیں رہوں اس نے مجھے بابرکت بنایا اور تابقائے حیات اس نے نماز و زکوة کاحکم دیا ہے اور اپنی والدہ کا مجھے تابعدار بنایااور مجھے سرکش بدبخت نہیں کیا اور مجھ پرسلام ہے جس دن میں پیدا ہوا اور جس دن مروں گا اور جس دن زندہ کر کے اٹھایا جاﺅں گا۔ (مریم)
مریم علیہا السلام کے ان واقعات پر غور کرو کہ ان کا یہ ذکر خیر قرآن مجید میں ہمیشہ باقی رہے گا کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کی فرماں بردار اور نیک باندی تھیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی عفت اورپاک دامنی کی بڑی تعریف فرمائی ہے:
ترجمہ: اور مریم علیہالسلام بنت عمران کی بھی اللہ نے مثال بیان فرمائی جس نے اپنے ناموس کی حفاظت کی پھر ہم نے اپنی طرف سے اس میں جان پھونک دی مریم اپنے رب کی باتوں اور اس کی کتابوں کو مانتی تھی اور عبادت گزار بندیوں میں سے تھی۔ (تحریم)
بی بی مریم اسی عصمت و عفت اور عبادت گزاری کی وجہ سے ولایت کے درجہ پر پہنچ گئی تھیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مردوں میں صاحب کمال بہت گزرے ہیں لیکن عورتوں میں حضرت آسیہ ؑ جو فرعون کی بیوی تھیں اور حضرت مریم ؑ بنت عمران ہیں۔ (البدایة والنہایة)
اگر تم بھی ولیہ کامل بننا چاہتی ہو تو اپنے نفس کی حفاظت کرو اور خدا رسول کی فرماں برداری کرو۔

یہ بھی پڑھیں:  حضرت ام عطیہؓ کا ذکر خیر

اپنا تبصرہ بھیجیں